بدھ , 21 فروری 2018

امریکہ ، نان ایشوز اور اندرونی سیاسی خلفشار

(خواجہ مظہر صدیقی)
وطن عزیز کو امن اور استحکام کی جتنی ضرورت آج ہے، شاید اتنی ضرورت پہلے کبھی نہ تھی۔ ارض پاک پر عدم استحکام اور بد امنی کا راج ہے۔ لکھنے والے اپنے قلم سے امن لکھ رہے ہیں۔ بولنے والے امن کا راگ الاپتے الاپتے اپنی زبانیں ہلکان کر رہے ہیں۔ ان کے حلق تک خشک ہو رہے ہیں، اور وہ اپنی صدا بلند کر کے بد امنی و عدم استحکام پر مشتمل ہزار امراض کا علاج "امن” تجویز فرماتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ خطے میں امن ضروری ہے۔ اس بدتری کے باوجود ملک تو حقیقت میں "تماشا گاہ” بنا ہوا ہے۔ "نان ایشوز” کی ٹیں ٹیں لگی ہے۔ تماشوں کی بھرمار ہے۔ "ایشوز ” کو سمجھنے، لکھنے اور کچھ کہنے کے لیے کسی کے پاس وقت ہے اور نہ سنجیدگی۔ اخبارات کی شہ سرخیوں پر نظر جاتے ہی معلوم پڑتا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی دراندازی میں روزافزوں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ کنٹرول لائن کی مسلسل خلاف ورزیوں کے بعد سننے میں آیا ہے کہ اب تو نئی دہلی نے کنٹرول لائن پر میزائل بھیجنے بھی شروع کر دیے ہیں۔ جنگ کا سا سماں بنانے کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ بھلا ان گیدڑ بھبھکیوں سے کون مرعوب ہوگا؟ ایسی چالیں پہلے بھی آزما کر دیکھ لیا گیا۔ نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔ ہاں اس سے ہمارے عوام کے جذبہ ایمانی میں اضافہ اور ہندو فوج سے نفرت بڑھی ہے۔
افواج پاکستان کی جی ایچ کیو میں منعقد ہونے والی حالیہ کور کمانڈرز کانفرنس کے بعد جاری ہونے والی پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ بھارتی فائر بندی کی خلاف ورزیاں خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ہیں۔ اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ بھارت کی کسی بھی خلاف ورزی کا مؤثر جواب دیا جائے گا۔ ہماری طرف سے کافی دیر سے یہ کہا جارہا ہے اور تواتر سے کہا جا رہا ہے کہ بھارت کو ایل او سی کی مسلسل خلاف ورزیوں کے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ لیکن بھارت کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ وہ جارحیت سے باز نہیں آرہا۔ بلکہ وہ اس تخریب کے عمل میں تیزی لا کر خطے کے امن کو تہہ بالا کر رہا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ان بھارتی سازشوں کے پیچھے کوئی اور نہیں بلکہ صرف اور صرف امریکہ ہی ہے۔ اسے امریکی سرپرستی حاصل ہے۔ کیوں کہ یہ امریکی پالیسی کا حصہ ہے تاکہ پاکستان کی فوج ان چھوٹے چھوٹے تنازعات میں الجھی رہے۔ کبھی بھارت کی جانب سے اور کبھی افغانستان کی سرحدوں کی طرف سے اس نوعیت کی خلاف ورزیاں معمول رہیں۔ اسی مقصد کے پیش نظر امریکہ نے بھارتی سازشوں کے لیے افغانستان کے دروازے کھول دیے ہیں۔ تاکہ ہم بطور قوم مغربی صلیبیوں اور ہندو مشرکین کے لیے تر نوالہ بنے رہیں اور ہر لحاظ سے کمزور ثابت ہوں۔
جمہوری پارٹیوں اور سیاست دانوں میں تنزلی کا سفر جاری ہے۔ اور بحیثیت مجموعی معاشرہ تیزی سے اس طرف بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں نان ایشوز سے جان چھڑا کر ہمیں حقیقی ایشوز کی طرف توجہ مبذول کرنی چاہیے اور سوال اٹھانا چاہیے کہ خطے کے امن اور استحکام کے دشمن کون ہیں؟، ہمیں قوم میں یہ شعور اجاگر کرنا ہوگا کہ ہر امریکی صدر کے ڈومور مطالبے کے پیچھے کی راکٹ سائنس کیا ہے؟ امریکہ کیوں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ہمارے عوام کو کچلنا چاہتا ہے؟ اس حقیقت کو اب سمجھنا چاہیے، چوں کہ امریکہ کو افغانستان میں شکست کا سامنا ہے۔ اس کے خواب چکنا چور ہوئے ہیں۔ ٹرمپ کا یقین ہے کہ امریکی ناکامی میں پاکستان کا بڑا ہاتھ ہے۔ اس لیے وہ ہر طرح سے پاکستان کو اندرونی اور بیرونی محاذوں پر نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔ پاکستانی حدود میں ڈرون اٹیک اور فوجی چوکیوں پر اپنے نجی ایجنٹوں کے ذریعے حملے انہی مذموم مقاصد کا شاخسانہ ہیں۔
بھارتی دراندازی اور جارحیت کے تانے بانے بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ خطے میں امن و استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ہماری حکومت اپنے قومی مفادات کو عزیز جانتے ہوئے امریکی مفادات کی جنگ سے خود کو الگ کر دے۔ ہم اس پرائی جنگ میں بہت کچھ کھو چکے ہیں۔ خود ساختہ امریکی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حصہ بن کر ہم نے خود کو کافی سارا نقصان پہنچایا ہے۔ ہمیں رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملا۔ ہمیں بھرپور اعتماد کے ساتھ ان سازشوں کا مقابلہ کرنا ہوگا جو وطن عزیز اور اس کے عوام کے خلاف امریکی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ بھارت اس کا آلہ کار بنا ہوا ہے۔عوام سیاسی چال بازوں اور سیاسی مداریوں کی محبت اور عقیدت کے دائروں سے باہر نکل کر کچھ دیر سنجیدگی سے ملکی منظر نامے پر نگاہ ڈالیں اور غور کریں کہ کیسے اس ملک کے بدخواہ اپنا گھیرا تنگ کرتے جارہے ہیں۔ ایسے ایسے واقعات جنم لے رہے ہیں کہ جس سے واضح پیغام ملتا ہے کہ دشمن چاہتا ہے کہ ارض پاک پر امن کے پھول نہ کھل سکیں اور یہاں استحکام کے بادل کبھی بسیرا نہ کریں۔ جب کہ ہماری دعا ہے کہ یہاں امن اور استحکام کے وہ پھول کھلیں جو سدا ہی کھلتے رہیں۔ مغربی صلیبیوں اور مشرک ہندو ؤں کے ہمیں کچلنے کے عزائم کبھی پورے نہ ہوں۔

یہ بھی دیکھیں

جب تک؟

(ظہیر اختر بیدری) جلسے جلوس جمہوری روایات کا حصہ ہوتے ہیں۔ لیکن اگر جلسے جلوسوں ...