پیر , 28 مئی 2018

قصہ کشمیر کا

(احمد توصیف قُدس)

کشمیر کو پورے عالم میں دو وجوہات کی بنیاد پر اختصاص حاصل ہے۔ ایک یہ کہ اِسے جنت نما وادی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور ہر سال سرما، گرما، بہار اور پَت جھڑ میں پوری دنیا سے ہندوستانی و غیرہندوستانی سیّاح (کشمیر کے بُرے حالات سے نابلد)یہاں کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے کے لیے واردِ کشمیر ہوتے ہیں۔ دوسری وجہ جو کہ دنیا کو کشمیر کی جانب متوجہ کرتی ہے وہ سرزمینِ کشمیر کے دل آشام اور شورش زدہ حالات ہیں۔ دنیا کا ایک وسیع حلقہ ہے کہ جن کے نزدیک کشمیر ایک ڈراؤنی جگہ کا نام ہے جہاں پر آگ و آہن اور قتل و غارت کی فَضا رقصاں ہے اورجہاں پر انسانوں کو مارنے کا کھیل جاری و ساری ہے۔یہ کشمیر کے دو پہلو ہیں اور سچ پوچھیں تو اِن دو پہلو ؤں میں آخر الذکر پہلو ہی کشمیر کی اصل پہچان ہے۔

کشمیر میں دراصل آگ و آہن، افراتفری اور قتل و غارت کا یہ کھیل شروع ہوا کہاں سے ہے؟ تاریخِ کشمیر کے پَنے جب پلٹائے جاتے ہیں تو بآسانی ہم اِس سوال کا جواب ڈھونڈپاتے ہیں۔ بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں کشمیر کے سیاسی، معاشی، معاشرتی اور مذہبی حالات انتشار، غیر یقینیت اور پژمردگی کا شکار تھے۔ وجہ تھی ڈوگرہ حکمرانوں کی کشمیریوں کے تئیں متعصب اور ظالمانہ حکومتی پالیسیاں۔ کشمیر میں اُس وقت کا دور ڈوگرہ حکمرانوں کا دور تھاجس میں سیاسی اور معاشرتی حقو ق کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کے مذہبی حقوق پر بھی تیشہ چلایا جاتا تھا۔ لیکن متذکرہ صدی کے تیسرے عشرے میں ڈوگرہ حکمرانوں کی صریح زیادتیوں اور ظلم و جبر کے خلاف کشمیریوں نے عَلم بغاوت بلند کیا گیا۔مسلم کانفرنس کے بینر تلے چند لوگوں نے کشمیریوں کے احساسات و جذبات کی ترجمانی کا بیڑا اُٹھایا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا کشمیر ڈوگرہ حکومت کے خلاف صفِ آراء ہوا۔ لیکن چند ہی سال بعد اسلامی جذبے سے سرشار ہو کر معرضِ وجود میں لائی گئی مسلم کانفرنس کو نیشنل کانفرنس کا نام دے کر سیکولر ازم(لادینیت) میں ضم کر کے اسلام پسندوں کے احساسات و جذبات سے کھلواڑ کیا گیا۔ بعد ازاں ڈوگرہ راج کے خلاف قومیت اور لادینیت پر مبنی یہ تحریک کسی نہ کسی طرح جاری رہی اوربالآخر تقسیمِ ہند کے موقع پر ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ کولامحالہ کشمیر چھوڑنا پڑا۔مہاراجہ ہری سنگھ کاکرسیٔ اقتدار کو خیر باد کہنا تھا کہ معاًکشمیر کے مستقبل کاسوال پیدا ہوا کہ آیا کشمیر ہندوستان کے ساتھ الحاق کرے یا پاکستان کے ساتھ اپنا دائمی رشتہ اُستوار کرے۔ آج سے قریب ۷۰ سال قبل کی وہ گھڑی دراصل ایک نازک گھڑی تھی جس میں وقت کے لیڈر اور اربابِ حل و عقد کشمیرکے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر پائے اور یوں کشمیر ایک بڑی ’’ مصیبت ‘‘ میں مبتلا ہو گیا۔

تقسیم ِ ہند کے اُس موقع پر ریاست جموں و کشمیر ہندوستان یا پاکستان میں سے کسی بھی علاقے کے ساتھ اپنا دائمی رشتہ قائم نہ کر سکی۔ اگرچہ مہاراجہ کے توسط سے ہندوستان نے ’’ الحاقِ ہندوستان‘‘ کو عملی شکل دینے میں کامیابی حاصل کی۔لیکن اُس دور کے حالات کا غور سے مطالعہ کرکے یہ بات اظہر من الشمس ہوتی ہے کہ وہ الحاق دراصل ایک عارضی اور مشروط الحاق تھا۔ کیونکہ اوّل تو مہاراجہ کشمیر میں عوامی مخالفت کے سبب اپنی Absolute Authority کھو چُکا تھا، لہٰذا ُسے کشمیر کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں تھا۔ دوم، یہ مشروط الحاق ’’ تقسیم ہندکے اصول‘‘(علاقوں کی سرحدوں کاتعین مذہب اور جغرافیائی حالات کے پیشِ نظر کیا جائے گا) کے عین خلاف تھا۔

الغرض کشمیریوں سے اُن کی رائے جانے بغیر ہی کشمیر کا فیصلہ کیا گیا۔ لیکن اس فیصلہ کے خلاف یہاں روزِ اول سے ہی ایک ’’ آواز‘‘اپنی پوری آب و تاب

کے ساتھ بلند ہوتی رہی اور شائد اِسی آواز کے زورکے نتیجے میں ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم آنجہانی پنڈت نہرو کو ازخود مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ میں لے جانا پڑا۔ علاوہ ازیں سرینگر کے تاریخی لالچوک میں موصوف وزیر اعظم نے کشمیر یوں سے اُن کی رائے کا احترام کرکے اُنھیں حقِ خود ارادیت دینے کا وعدہ بھی کیا۔ لیکن تب سے لے کرآج تک کیا ہوا، یہ ایک کھلی کتاب کی مانند سبھی کے سامنے عیاں ہے کہ کس قدروعدہ خلافی، بد دیانتی، دھوکا دہی کے اسباق رقم کیے گئے۔ لیکن کشمیر میں بد دیانتی اوروعدہ خلافی، جو کہ بعد ازاں ظلم کی فضا پیدا ہونے پر منتج ہوئی،کے ردِ عمل میں یہ ’’ آواز‘‘ مسلسل پنپتی رہی اور ۴۷ء سے لے کر آج تک مختلف ادوار اور محاذوں سے گذر کر یہ’’ آواز‘‘ اپنی شدت اور تاثیر برقرار رکھے ہوئی ہے۔

یہ’’ آواز‘‘ اصل میں ہے کیا؟تھوڑا غور و فکر کرنے کے بعد یہ خود بخود مترشح ہوتا ہے کہ یہ دراصل اُس گھٹا ٹوپ اندھیرے کا ردِ عمل ہے جو کہ ایک عرصہ سے قومِ کشمیر پر چھایا ہوا ہے۔ اس آواز کو وسعت اور تاثیر بخشنے کے لیے نوجوانوں نے اپنا لہو بہایا، نونہالوں نے اپنی ننھی ننھی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، پیلٹ کھائے اور ماؤں بہنوں نے اپنی عصمتوں کو قربان کیا اوریہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔اِس ’’ آواز‘‘ کو پنپنے اور مضبوطی عطا کرنے میں کئی لوگوں کو مواقع نصیب ہوئے۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اِسی’’ آواز‘‘ کے توسط سے کئی لوگوں اور سیاسی جماعتوں نے اپنا سیاسی کیرئر بنایا اورکشمیریوں کو اِس مصیبت سے نجات دلانے کے دعوے کیے۔لیکن رفتہ رفتہ ــ ’’ سیاست‘‘ کو ’’ کاروبار‘‘ سمجھنے والے اِن سیاست دانوں کی مکاری اور دھوکا دہی پر مبنی سیاست کی پول کُھلتی گئی۔’’رائے شماری ‘‘کے نام پر کشمیریوں کو متحد کرنے والوں نے آخر پر رائے شماری کی ساری کی ساری جدوجہد کو ’’ سیاسی آوارہ گردی‘‘ سے تعبیر کیا۔ کشمیر یوں کے مسئلہ کو اقوامِ متحدہ میں لے جانے والوں نے وعدہ خلافی کرکے کشمیریوں کو بار بار ڈسا اور اتنا ڈسا کہ وہ آپ سے آپ اپنی اعتباریت کھو بیٹھے۔ ’’سیلف رول‘‘ کا نعرہ بلند کرنے والوں نے کشمیریوں کے جذبات و احساسات پر اس طرح چُھرا گھونپا کہ اُن کی منافقت اور دھوکا دہی کا ادراک سیاست کی’’ اب پ……‘‘ تک نہ جاننے والوں کو بھی بخوبی ہو گیا اور آج انہی’’ سیلف رول‘‘والوں کی ہم نوائی میں جو عنانِ حکومت پر براجمان ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں،وہ تو کشمیر کی شناخت کو ہی مسخ کر دینے پر تُلے ہوئے ہیں اور آئے روز مسلمانوں کے مذہبی اقدار پرپے در پے حملے کر رہے ہیں۔

اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں حالات سے تنگ آکر کشمیریوں نے عوامی احتجاج کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔ ۲۰۰۸ء۲۰۱۰ء اور ۲۰۱۶ء جیسے برسوں میں عوامی غیض و غضب بپھر گیا اور لوگوں نے سڑکوں پر آکر صدائے احتجاج بلند کیا۔ اس عوامی جدوجہد سے مسئلہ کشمیر کو ایک نیا رُخ ملا۔ کشمیر کا مسئلہ دنیا میں ایک وسیع پیمانے پر متعارف ہوکر الیکٹرانک و پرنٹ میڈیاکے ذریعہ زیرِ بحث رہا۔میڈیا سے گزرتے ہوئے یہ سوشل میڈیا پربھی متعارف ہوا اور اِسی سوشل میڈیا کے توسط سے ’’برہان اینڈ پارٹی‘‘نے نوجوانوں کو عسکریت میں شمولیت کے لیے ماٹیویٹ کیا۔ برہان وانی تو خود جاں بحق ہو گیا لیکن وہ ابھی بھی نوجوانوں کی عسکریت میں شمولیت کا موجب بنا ہوا ہے۔ باالفاظِ دیگر عسکریت پسندوں کی تعداد میں ’’دورِ مابعد برہان‘‘ میں قدرے اضافہ ہوا ہے۔ پڑھے لکھے نوجوانوں کا عسکریت میں شمولیت اختیار کرنے کا ایک غیر معمولی رحجان قائم ہو رہا ہے۔ دسویں جماعت کے کم عمر طالب علم سے لے کرپی ایچ ڈی کے اسکالرس تک عسکریت میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔

منان وانی مسئلہ کشمیر کا تازہ پروڈکٹ ہے۔ مَنان ہندوستان کی ریاست اُترپردیش کی عالمی شہرت یافتہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ وہ تعلیمی اعتبار سے انتہائی ذہین اور علومِ عرضیات کا ایک کامیاب اسکالر تھا۔ لیکن منان وانی نے ایک ہفتہ قبل عسکری تنظیم حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کر کے پوری دنیا کو متحوش کر دیا۔ منان وانی کو لے کر ایک مباحثہ(Debate)شروع ہو گیا ہے۔ ایک بڑی یونیورسٹی کا اسکالر ہونے کے باوجود عسکریت کا پُرخطر راستہ اختیار کرنے پر اُس کے اساتذہ اور دوست واحباب اُسے کوس رہے ہیں بلکہ اُس کے اپنے والدین تک اُس سے اپنے فیصلہ

پرنظر ثانی کرکے واپس لوٹنے کے لیے منت سماجت کر رہے ہیں۔ لیکن کیا وہ واپس لوٹے گایا پھر اپنے اس غیر متوقع فیصلہ پر ڈٹا رہے گا؟ اس کا فیصلہ بہرحال مستقبل ہی کرے گا۔ آج مَنان وانی کے اس فیصلہ پر تجزیہ نگاروں کی ایک کثیر تعداد کشمیر میں دہشت گردی اور انتہا پسندی(Radicalism) کے بڑھتے ہوئے فروغ پر تبصرے کرنے میں رطب السان ہیں۔ لیکن کم ہی لوگ ایسے ہیں جومنان وانی کے اِس فیصلہ کی وجوہات جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ آخر بھوپال کی عالمی کانفرنس میں’’ تھیسِس پریزینٹیشن مقابلے‘‘ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والا منان وانی کیوں اپنی جان کو داؤ پر لگانے کے لیے تیار ہو گیا؟ یہ اتنا بڑا سوال ہے کہ جواب ڈھونڈنے کے لیے غور و فکر کے ساتھ ساتھ غایت درجے کی سنجیدگی بھی درکار ہے۔

کشمیر سے جُڑے یہ تمام حالات و واقعات ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ آخرخرابی کہاں ہے کہ کشمیر میں سیاہ بادل کے یہ سائے کبھی چھَٹتے نہیں اورظلم و تشدد کی یہ سیاہ رات امن و سلامتی کی صبح میں تبدیل نہیں ہو پاتی۔بات دراصل یہ ہے کہ لوگوں میں انسانیت کی حِس ہی سرے سے ختم ہو گئی ہے۔ مرنا مارنا آج بعض اقوام کا قومی کھیل بن گیا ہے۔اِن اقوام کے عوام نفس پرستی اورمادی چیزوں کی حصولیابیوں میں اس قدر بد مست ہیں کہ آگ و آہن، قتل و غارت اور ظلم و جبر کی جانب متوجہ نہیں ہوتے، گویا کہ اُن کا ضمیر مر گیا ہے۔دوسری جانب جو اِس مسئلہ کو حل کرنے کی قُدرت رکھتے ہیں وہ تو سرے سے ہی مسئلہ کو حل کرنے میں کوئی مثبت پیش رفت نہیں کر تے۔ مسئلہ کشمیر کے دو اہم فریقین ہندوستان اور پاکستان کی قومی سیاست میں ’’ مسئلہ کشمیر‘‘بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ مسئلہ دونوں ممالک کی پالیسیوں اور کام کو وضع کرنے میں ایک اہم رول ادا کرتا ہے۔ لیکن دونوں ممالک ۷ دہائیوں سے رستے ہوئے اِس ناسور کو ختم کرنے میں کُلی طور ناکام نظر آتے ہیں۔ دونوں فریقین میں اس مسئلہ کے حوالے سے کوئی ہم آہنگی طے نہیں پاتی اورمذاکرات کے حوالے سے بھی مایوسی کے سیاہ بادل بدستور قائم ہیں۔

موجودہ دنیا ایک دائرے میں سمٹ کر رہ گئی ہے جس میں مختلف ممالک کے معاشروں اور سیاسی حالات سے سبھی کو آشنائی ہو جاتی ہے۔آج عالمی پریشیرممالک کی پالیسیز مرتب کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن کشمیر ی اِس معاملے میں بھی بدقسمت ہی رہے ہیں۔کشمیر کے تئیں عالمی طاقتیں بے ضمیری کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ عالمی چودھری امریکہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ٹس سے مس نہیں ہوتا، بلکہ اپنے ملکی مفاد کے ارد گرد ہی اِس کی پالیسیاں مرتب ہوتی ہیں۔ اقوامِ متحدہ ایک معذور ادارہ بن گیا ہے، جو کوئی پیش رفت نہیں کر پاتا، حالانکہ اقوامِ متحدہ میں ہی کشمیر کا کیس پڑا ہوا ہے۔

مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے فی الفور اقدامات کرناناگزیر ہے۔ دونوں ممالک کو آگے آنا ہو گا اور کشمیریوں کے دکھ درد کے ازالے کے لیے ایک لائحہ عمل مرتب کرنا ہوگا۔ وگرنہ لاشوں کو اُٹھانے کا یہ سلسلہ طویل سے طویل تر ہوتا جائے گا۔ چند ہفتہ قبل ۶ جنوری ۲۰۱۸ء کو سوپور بلاسٹ میں ہلاک ہوئے پولیس اہلکار کے بھائی کا بیان اس حوالے سے قابلِ غور ہے کہ جس میں وہ مسئلہ کشمیر کو فی الفور حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے اور مسئلہ کو حل نہ کرنے کی صورت میں مزید خون خرابے کی پیشن گوئی بھی کرتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

مائیک پمپیو نے بن سلمان کو اسکی اوقات دکھادی

(تسنیم خیالی) امریکہ ایک ایسا ملک ہے جس کے اتحادی اور دشمن ممالک دونوں ہی ...