بدھ , 21 فروری 2018

انقلاب اسلامی ایران کی کامیابیوں میں دین کا کردار

(وحید جلال زادہ)
بشری تاریخ میں رونما ہونے والے عظیم انقلابات اپنے معاشرے میں اندرونی سطح پر انتہائی گہرے اور بنیادی اثرات ڈالنے کے علاوہ عالمی سطح پر بھی بہت زیادہ موثر واقع ہوتے رہے ہیں۔ ایران میں رونما ہونے والا اسلامی انقلاب کا شمار بھی ایسے ہی انقلابات میں ہوتا ہے۔ دنیا کے معروف مفکرین اور ماہرین اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ انقلابی اسلامی ایران اپنے دینی نقطہ نظر کے ذریعے عصر حاضر کی تاریخ کا موثر ترین اور اہم ترین انقلاب بن کر سامنے آیا ہے۔ انقلاب اسلامی ایران نے گذشتہ38 برس کے دوران بین الاقوامی تعلقات (انٹرنیشنل ریلیشنز) پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ ایران میں اسلامی انقلاب ایسے وقت کامیابی سے ہمکنار ہوا جب معروف مغربی فلاسفر نطشے یہ اعلان کر چکا تھا کہ )نعوذ باللہ) "خدا مر چکا ہے”۔ لبرل ازم اور مارکس ازم جیسے مکاتب فکر خالقیت اور قیامت دونوں کا انکار کر چکے تھے اور آسمان کو ٹھکرا کر زمینی جنت بسانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ ان مغربی اور مشرقی مکاتب فکر نے جو تصور انسان کے بارے میں پیش کیا تھا اس کی بدولت انسان مادیات کے تنگ و تاریک قیدخانے میں محبوس ہو کر رہ گیا تھا۔ دین انسان کی سماجی زندگی سے رخصت ہو کر اس کی نجی زندگی تک محدود ہو چکا تھا اور دین کو ہر قسم کی طاقت اور اثرورسوخ سے محروم کر دیا گیا تھا۔

ایسے حالات میں امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے خدا کی رسی کو تھامتے ہوئے اور خداوند متعال کی لازوال طاقت پر توکل کرتے ہوئے خالص قسم کے سیکولر ماحول میں ایران میں جاری اسلامی جدوجہد کی قیادت سنبھالی اور دین اور خدا کے نام پر اسے عظیم فتح اور کامیابی سے ہمکنار کیا۔ یہ درحقیقت وہ عظیم خزانہ تھا جو مادیات سے بدحال اور درماندہ انسان کو حاصل ہوا۔ امام خمینی رحمہ اللہ علیہ کا عقیدہ تھا کہ نہ صرف ایرانی قوم بلکہ پورے بنی نوع انسان کی حقیقی سعادت اور فلاح و بہبود کا راز الہی شریعت اور روحانیت کا دامن تھامنے میں مضمر ہے۔ لہٰذا امام خمینی ؒ سابق سوویت یونین کے صدر گورباچوف کو لکھے گئے اپنے تاریخی خط میں یوں فرماتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ:
’’جناب گورباچوف، آپ کو حقیقت کی جانب رجوع کرنا چاہئے۔ آپ کے ملک کا اصل مسئلہ ملکیت، اقتصاد اور آزادی نہیں بلکہ آپ کی اصل مشکل خدا پر حقیقی اعتقاد کا نہ ہونا ہے۔ یہ وہی مشکل ہے جس کے باعث مغربی دنیا بھی بیہودگی اور مایوسی کا شکار ہو چکی ہے۔ آپ کا اصل مسئلہ کائنات کے خالق یعنی خدا کے ساتھ ایک طویل اور بیہودہ جنگ ہے‘‘۔

ایرانی قوم کی جدوجہد اور انقلابی تحریک دین کے نام سے شروع ہو کر کامیابی سے ہمکنار ہوئی اور دنیا بھر میں بے شمار دلوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب رہی۔ امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کا عظیم اور تاریخی کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے "دین کچھ کرنے کے قابل نہیں” پر مبنی طلسم توڑ ڈالا۔ اس زمانے میں اکثر جوان اور حتی اہم شخصیات دین سے مایوس ہو چکے تھے اور آزادی اور خودمختاری کے حصول کیلئے اپنی جدوجہد کیلئے دین کو بے سود سمجھتے تھے۔ انقلابی سوچ کے حامل اکثر جوان اپنی جدوجہد کی کامیابی کیلئے مارکس ازم کا دامن تھامنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ البتہ ان میں سے بعض اپنی کامیابی لبرل ازم کی پیروی میں تلاش کر رہے تھے۔ ایسے افراد کی تعداد بہت کم تھی جو یہ سمجھتے تھے کہ اسلام بھی ظلم اور طاغوت سے مقابلے کا دین ہے اور اسلام بھی ترقی اور دنیوی فلاح و بہبود کا راستہ دکھا سکتا ہے۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی سے یہ تصور ٹوٹ گیا اور انقلابات سے متعلق نظریات میں بھی ایک انقلاب معرض وجود میں

آ گیا۔ انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد دنیا میں انقلاب سے متعلق جدید نظریات سامنے آنا شروع ہو گئے۔

بعض کا تصور ہے کہ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ ابتدا میں اسلامی حکومت کی تشکیل کا ارادہ نہیں رکھتے تھے اور حکم فرما پہلوی سلطنت میں محض کچھ اصلاحات لانے پر ہی قانع نظر آتے تھے لیکن جب امام خمینی ؒنجف تشریف لے گئے تو ان کے ذہن میں اسلامی حکومت کی تشکیل کا نظریہ پیدا ہوا۔ لیکن یہ تصور درست نہیں اور اس مختصر تحریر میں ہم اس بحث میں داخل نہیں ہونا چاہتے بلکہ اسے ثابت کرنے کیلئے علیحدہ اور مفصل تحریر کی ضرورت ہے۔

امام خمینی ؒ کا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے عصر حاضر کے انسان کے سامنے ایک واضح اور روشن راستہ پیش کیا جو دین کی جانب پلٹنے اور خدا سے قربتیں بڑھانے پر مبنی تھا۔ اس وقت ہمارے سامنے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اسلامی حکومت دینی تعلیمات کے سائے تلے انسانوں کی دنیوی مشکلات کو بھی بخوبی حل کرے اور یہ دینی شفایاب نسخہ انسانی معاشروں کو اس بیہودگی اور مایوسی سے نکال باہر کرے جو مغرب کے خودساختہ زمینی پیغمبروں(فلاسفرز) نے سماج سے دین کو ختم کر کے پیدا کی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم کس قدر دین کی عطا کردہ حیات طیبہ کو حقیقت کا روپ دینے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ بعض اوقات انقلاب اسلامی ایران پر غیرموثر یا بے فائدہ ہونے کے الزامات عائد کئے جاتے ہیں لیکن ان میں کوئی حقیقت نہیں۔ کوئی بھی سیاسی نظام حکومت بے فائدہ ہونے کی صورت میں اپنا وجود اور بقا برقرار نہیں رکھ سکتا جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ گذشتہ چار عشروں سے اسلامی جمہوریہ نظام حکومت بھرپور انداز میں باقی ہے اور نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر انتہائی بنیادی اور گہرے اثرات ڈال رہا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

جب تک؟

(ظہیر اختر بیدری) جلسے جلوس جمہوری روایات کا حصہ ہوتے ہیں۔ لیکن اگر جلسے جلوسوں ...