جمعرات , 16 اگست 2018

تو کیا ہوا‘ اگر قوم کا ضمیر مرگیا ہے؟

(عامر سہروردی)
تو کیا ہوا‘ اگر مشال خان کیس میں کچھ لوگ بری ہو گئے ، تو کیا ہوا کہ اگر ان غازی سمجھا جا رہا ہے ، ویسے بھی اب تو سیزن ہی غازیوں کا ہے ،تو کیا ہوا کہ غازیان ملت کا استقبال ان سے زیادہ باعزت لوگوں نے اوالہانہ کیا ۔ تو کیا ہوا اگر ان کا تعلق کسی بڑی جماعت سے تھا‘ جو انقلاب کی داعی ہے ۔ تو کیا ہوا کوئی سیاستدان عدالت کو برا بھلا کہ رہا ہے اور عدالت کے فیصلے کو ہجوم کے فیصلے سے غلط ثابت کرنا چاہ رہا ہے ۔ تو کیا ہوا اگر کوئی قومی دولت کو اپنے باپ کی جاگیر سمجھ کر اپنے بچوں میں بانٹ کر اپنے آپ کو ایماندار ‘ صادق اور امین سمجھ رہا ہے ۔ تو کیا ہوا اگر ایک قومی خازن خائن بن جائے اور اپنی اولاد کو قومی دولت سے کاروبار کرائے۔ اور جب عدالت پوچھے تو بیمار بن کر صاف مکر جائے۔

تو کیا ہوا اگر پاکستان قرضوں میں ڈوبتا جا رہا ہے ، سلام ہو غازیان معیشت کو کہ ان کے اعداد و شمار کا کافرستان تو پاکستان کو ایشین ٹائیگر ثابت کر رہا ہے ۔ تو کیا ہوا‘ اگر راؤ انوار نہیں مل رہا توکیا پورے پاکستان میں کسی نے اس غم میں کچھ چھوڑ دیا ہے ۔ تو کیا ہوا اگر انتظار کسی مقدس ہستی کی بھینٹ چڑھ گیا ہے ۔بھئی کمال ہے نہ کہ اس کے ماں باپ کے پاس پہلے بھی انتظار تھا اور اب بھی انتظار ہے ۔ تو کیا ہوا اگر عاصمہ ، عائشہ ، زینب ، نیلم ، فاطمہ ، اسماء درندگی کا بھینٹ چڑھ گئی ہیں ، جناب بڑے بڑے سیاستدان اپنی جگہ فعال ہیں اور اپنی اپنی پولیس کو اعلیٰ ثابت کرنے میں مصروف تو ہیں نا۔

کیا ہوا اگر ڈاکٹر عامر لیاقت ‘ میر شکیل الرحمن سے جھک کر ملے اور میر شکیل الرحمن میاں نواز شریف سے جھک کر ملے اور نواز شریف کرپشن سے جھک کر ملے ۔ جناب جھک کر ملنا تو اعلی ٰانسانی اقدار میں شامل ہے ۔ تو کیا ہوا‘ اگر ڈاکٹر شاہد مسعود نے سپریم کورٹ کا رخ اپنے اصل دعوے سے ہٹانے کی کوشش کی اور اپنے پیٹی بھائیوں کو گندہ کرنے کی کوشش کی اور قبلہ سعید غنی پر الزامات لگائے‘ بھئی ہمارے ملک میں جھوٹ قومی وطیرہ ہے ۔ اور ہاں ڈاکٹر صاحب دھبڑ دھوس کر دیتے ہیں ۔ تو کیا ہوا اگر نہال ، طلال اور دانیال سپریم کورٹ کے ریڈار پر آگئے ہیں، ان سب کے آقا اپنی بیٹی اور داماد سمیت کئی دنوں سے سپریم کورٹ پر ڈرون حملے کر رہے ہیں اور پہلے حملے انہوں نے ہی کئے تھے ، یہ تینوں تو بے چارے چھوٹے پانڈے یعنی اسمال کراکری ہیں۔

تو کیا ہوا‘ اگر ڈونلڈ ٹرمپ ہمیں پسند نہیں کرتے ۔ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتا دیں کہ کتنے پاکستانی ڈونلڈ ٹرمپ کو پسند کرتے ہیں ۔ تو کیا ہوا‘ اگر انتہا پسند مودی سرکار کے انتہا پسند ہندو بے گناہ مسلمانوں کو قتل کرتے ہیں۔ قبلہ اسلامی جمہوریہ کے انتہا پسند مسلمان بھی تو بے گناہ مسلمانوں کا خون کرتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں۔ تو کیا ہوا جو امریکہ ہم پر اعتبار نہیں کرتا ، یقین کرین نوے فیصد اسلامی برادر ممالک بھی ہم پر یقین نہیں کرتے اور نہ ہی ہمارے ساتھ ہیں اور نہ ہی ہمارےساتھ ہونا چاہتے ہیں ۔ اگر اسلامی ممالک کی افواج کبیرہ کو کشمیر، فلسطین، روہنگیا نظر نہیں آتے۔ یہ سب تو ویسے بھی ان ممالک کے علاوہ کسی کی فوج کو نظر نہیں آتے۔

بات بہت طویل ہے لیکن مختصر کیے دیتا ہوں ۔ ایک چیز ہے ضمیر جو سنا ہے ہر انسان کے پاس ہوتا ہے ۔ یہ نہ مسلمان ہوتا ہے نہ کافر ، نہ شیعہ نہ سنی ، نہ وہابی نہ بریلوی یہ تو بس ایک آئینہ ہوتا ہے جس میں ہم جو کچھ سوچتے سمجھتے اور کرتے ہیں‘ اس کی اچھائی کا عکس دکھائی دیتا ہے ۔ آنکھیں بند کریں ، اور اس آئینے کو تلاش کریں اگر مل جائے تو اس کو شئیر کریں ۔ افسوس کہ جب عام آدمی کا آئینہ اتنا دھندلا ہے تو طاقتور کا آئینہ تو کب کا پتھرا چکا ہوگا۔

یہ بھی دیکھیں

فلسطینیوں کے لیے’اعزازی حج اسکیم‘ کرپشن کی نذر!

ہرسال خادم الحرمین الشریفین کی طرف سے اسرائیلی دہشت گردی میں شہید ہونے والے فلسطینیوں ...