جمعرات , 16 اگست 2018

ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے منڈلاتے سائے

(خلاصہ و ترجمہ :عبد الباری عطوان)

اسرائیلی میڈیا کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ایران کے ساتھ اسرائیل کے ٹکراؤ کے وقت کی سوئی ٹک ٹک کررہی ہے ۔اسرائیلوں کو شام میں ایران کی موجودگی کھائے جارہی ہے اوراسرائیلی کسی بھی طور پر شام میں ایران یا ایرانی ممکنہ اڈوں کی موجودگی کو ناقابل برداشت کہتے ہیں ،اسرائیلی وزیروں کا کہنا ہے کہ مزاحمتی بلاک کے اتحاد کو توڑناضروری ہے۔

اسرائیلی تعمیرات اور ہاؤسنگ کے وزیر یوو گیلنٹنٹ کا کھلے لفظوں کہنا ہے کہ’’ایران، شام اور حزب اللہ کے اتحاد کو ختم کرنا ضروری ہے‘‘ اسرائیل کی موجودہ حالت کو کسی بھی طور عقلمندی اورسنجیدہ رویہ نہیں کہا جاسکتا ہے بلکہ یہ اسرائیل کی سراسیمگی اور گھبراہٹ ہے جو ظاہر ہورہی ہے، اس کی اس ہسٹریائی کیفیت کے پچھے اسرائیل کے اندر پرواز کرتا ہوا وہ ڈرون طیارہ ہے تو دوسری جانب شام کے قدرے پرانے طرز کے ایک میزائل کے توسط سے اسرائیل جدید ایف سولہ کو مارگرانا ہے۔ یہ تیسرا ایف سولہ طیارہ ہے جسے عرب ممالک کے فضاؤں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

پہلا طیارہ مراکش کا تھا جو یمن کیخلاف سعودی اتحاد میں شامل تھا اور جیسے انصار اللہ نے مار گرایا تھا جبکہ دوسرا طیارہ اردن کا تھا جیسے معاذ کساسبہ نامی اردنی پائلٹ چلارہا تھا اور داعش کیخلاف بمباری کرتے ہوئے گرایا گیا جبکہ تیسرا طیارہ اسرائیلی طیارہ ہے جیسے شام کے ایک طیارہ شکن گن نے مارگرایا۔ اردن اور مراکش کے طیارے پرانے اور ایک حدتک آؤٹ آف سروس ہوچکے تھے لیکن اسرائیلی ایف سولہ طیارہ اس کی جدید سیریز سے تعلق رکھتا ہے لیکن اب شام کی جانب سے اسے نشانہ بنانے کے بعد یقینا اس سیریز کی عالمی منڈی میں مارکیٹنگ پر منفی اثر پڑسکتا ہے ۔بالکل اسی طرح کہ جب لبنان کی حزب اللہ نے اسرائیل میرکاوا ٹینک کو جب بڑی آسانی تباہ کیا تھا تو اس کی مارکیٹنگ پر اثر پڑا تھا اور ہندوستان اس ٹینک کے لئے دو ارب ڈالر کا سودا کرچکا تھا۔ واضح رہے کہ میرکاوا ٹینک جرمن اور امریکی ٹینکوں کے ساتھ تجارتی دوڑ میں شامل تھے۔

آخر ایران شام سے کیوں چلاجائے گا؟

کیا ایران نے شام پر حملہ کرکے قبضہ جمایا ہوا ہے کہ وہ چلاجائے گا؟ یہ شام کی آفیشل حکومت ہے کہ جس نے ایران سے مدد طلب کی ہوئی ہے اور ایران اگر وہاں موجود ہے بھی تو شام کی حکومت کی دعوت پر۔ ایران نے شام کی سرزمین پر قریب چھ سال تک دہشتگردوں کیخلاف آپریشن میں شام کی مدد کی ہے اور جانی و مالی قربانیاں دیکر شام کو امریکی سازش سے بچایا ہے ۔اسی طرح لبنان کی حزب اللہ بھی وہاں پر حکومت کی دعوت پر ان کی مدد کے لئے موجود ہے اور اس نے بھی شام کو امریکی اسرائیلی سازش سے بچانے میں مدد فراہم کی ہے۔ اگر ہم اسرائیلی میڈیا اور بعض سرکاری افراد کی باتوں کو لیکر فرض کرتے ہیں کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان ٹکراؤ کا وقت قریب آچکا ہے اور سوئی ٹک ٹک کرتے آگے بڑھ رہی ہے تو سب اہم سوال یہ ہے کہ یہ جنگ کیسے اور کہاں ہوگی ؟

الف:اسرائیل اڑ کر ایران چلاجائے اور ایران کے انفرااسٹرکچر اور عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنائے۔

ب:یہ جنگ شام اور لبنان میں ہوجو ایرانی اہم اتحادی شمار ہوتے ہیں پہلا آپشن بالکل بھی قابل عمل نہیں ہوگا کیونکہ ایران اسرائیل سے قریب دو ہزار میل کے فاصلے پر ہے اور اگر اسرائیل ایسا کرسکتا تھا تو اب تک کرچکا ہوتا، لہذا دوسرا آپشن زیادہ ممکن ہوتا دیکھائی دیتا ہے لیکن اس میں بھی اسرائیل کے سامنے بڑے چلینجز اور خطرات موجود ہیں۔

الف: شام میں روس کی موجودگی، پیوٹن کسی بھی شکل میں شام میں حاصل کردہ اسٹرٹیجکل پوزیشن کو کھونا نہیں چاہے گا۔

ب: جنگ کے آغاز سے ہی سینکڑوں کی تعداد میں مختلف جوانب سے اسرائیل پر میزائل برسنے لگیں گے اس بات ہی سے انداز ہ لگالیجئے کہ اگر 350ڈالر مالیت کے ایرانی ڈورن طیارے کی کو اپنی فضا میں دیکھنے کے بعد اسرائیل نے بن گورین ائرپورٹ کو بند کردیا تھا حیفا اور تل ابیب میں پناہ گاہوں کے دورازے کھول دیے گئے تھے تو اس وقت کیا صورتحال ہوگی جب بارش کی طرح لبنان شام غزہ اور ایران سے میزائلوں کا رخ اسرائیلی شہروں کی جانب ہوگا؟

شام کی فوج گذشتہ ان چند سالوں میں فنون حرب میں بڑی مہارت حاصل کرچکی ہے وہ اس وقت کسی بھی قسم کی بڑی جنگ کے لئے تیار دیکھائی دیتی ہے۔ یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ ایران کو شام میں کسی قسم کے اڈے بنانے کی کوئی ضرورت نہیں پورا کا پورا شام اس کے لئے کھلا ہوا ہے اور شام میں بہت سے ایسے فائٹرز موجود ہیں جوقبلہ اول کے غاصب اسرائیل سے لڑنے کے لئے بیتاب ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

فلسطینیوں کے لیے’اعزازی حج اسکیم‘ کرپشن کی نذر!

ہرسال خادم الحرمین الشریفین کی طرف سے اسرائیلی دہشت گردی میں شہید ہونے والے فلسطینیوں ...