اتوار , 25 فروری 2018

ترکی کا فوجی آپریشن اورامریکی ناکامی

(ڈاکٹر فر قان حمید )
جدید جمہوریہ ترکی کے قیام سے موجودہ دور تک ترکی اور امریکہ کے تعلقات بڑے مثالی اور قریبی رہے ہیں۔ امریکہ نے یورپ اور ایشیا میں تشکیل کردہ اپنے پیکٹ یا تعاون کے سمجھوتوں میں ترکی کو لازمی طور پر شامل کیا۔ ماضی میں ترکی، پاکستان اور ایران امریکہ کے بہت بڑے حلیف رہے ہیں لیکن ایران میں خمینی انقلاب کے بعد امریکہ کا ایران کے ساتھ اتحاد تو پارہ پارہ ہوگیا لیکن پاکستان اور ترکی امریکہ کے اور بھی قریب آگئے ۔ افغانستان میں سوویت یونین کی یلغار اور اس کے بعد نائن الیون حملوں کے بعد پاکستان امریکہ کی کالونی کی حیثیت اختیار کرگیا اور امریکہ کے حکمرانوں نے پاکستان کو تگنی کا ناچ نچوانا شروع کردیا اگرچہ اس وقت کے حکمران تو یہ ناچ ذوق و شوق سے ناچتے رہے لیکن عوام نے ہمیشہ ہی امریکہ کے اس رویے کے خلاف شدید ردِ عمل ظاہر کیا۔ امریکہ اسی قسم کا کھیل ترکی کے ساتھ بھی کھیلتا رہا ہے لیکن موجود ترک حکمران ماضی کے حکمرانوں سے بہت مختلف واقع ہوئے ہیں۔ ایردوان امریکہ سےماضی کے تعلقات، سمجھوتوں اور حلیف ملک ہونے کی پرواکیے بغیر قوم اور ملک کے مفاد کو سب سے مقدم سمجھتے ہوئے ان کے سامنے ڈٹ گئے ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ انہوں نے اب امریکی حکام کو ناکوں چنے چبوانے پر مجبور کردیا ہے کیونکہ امریکہ نے شام پر دوغلی پالیسی اپنا رکھی ہے جس پر ترکی کو شدید اعتراض ہے۔
امریکہ نے ترکی کی دہشت گرد تنظیم "” کی شام میں موجود ایکسٹینشن” "PYD اور "YPG, کو جس طریقے سے اسلحہ فراہم کیااس پر ترکی نے کئی بار امریکہ کومتنبہ کیا ۔اگرچہ امریکہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم ’’ پی کے کے‘‘ کو تو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جاچکا ہے لیکن اس کی شام میں موجود دونوں شاخوں ’’ پی وائی ڈی‘‘ اور ’’ وائی پی جی‘‘ کو جدید اسلحہ فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔ امریکہ کا خیال ہے یہ دونوں دہشت گرد تنظیمیں علاقے میں برسر پیکار دیگر دہشت گرد تنظیم ’’داعش‘‘ کے خلاف بڑے موثر طریقے سے جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان دونوں تنظیموں نے امریکہ کی سرپرستی میں کئی علاقوں کو ’’داعش‘‘ کے قبضے سے آزاد بھی کروالیا ہے جبکہ ترکی کا موقف ہے کہ ان دونوں دہشت گرد تنظیموں کا داعش کے خاتمے میں کوئی اہم کردار نہیں ہے بلکہ یہ علاقے میں دہشت گردی کو فروغ دینے کے لیے امریکہ کی جانب سے فراہم کیے جانے والے اسلحے کو ترکی میں دہشت گردی کے واقعات میں استعمال کررہی ہیں اور ترکی نے اس سلسلے میں امریکہ کو ثبوت بھی فراہم کیے ہیں لیکن امریکہ نے ہمیشہ کی طرح ترکی کی جانب سے فراہم کردہ ثبوتوں کی پروا کیے بغیر ان دونوں دہشت گرد تنظیموں کی کسی نہ کسی شکل میں پشت پناہی جاری رکھی ہےاور دوسری طرف ترکی کو یہ باور کرایاجارہا ہے کہ ان تنظیموں کو اسلحہ کی فراہمی روک دی گئی ہے اور جو اسلحہ فراہم کیا جاچکا ہے اسے واپس لینے کے لیے جلد ہی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔ امریکہ اگرچہ ترکی کو اپنا اتحادی ملک سمجھتے ہوئے اس کے مفادات کا تحفظ کر نے کی بار ہا یقین دہانی کرواچکا ہے لیکن ترکی کا اعتماد امریکہ پر سے اٹھ گیا ہے۔ ترکی نے صدر ٹرمپ اور امریکی حکام کو علاقے میں نئی فورس کی تشکیل سے باز رہنے کے بارہا کہا لیکن امریکی انتظامیہ نے ترکی کے مطالبات کی ذرہ بھر پروا نہ کی اور علاقے میں دہشت گرد تنظیموں پر مشتمل نئی فورس کی تشکیل کا عمل جاری رکھا جس پر ترکی نے اس سرحدی فورس کے قیام سے پہلے ہی بڑے پیمانے پر ’’شاخِ زیتون‘‘ کے نام سے فوجی آپریشن شروع کردیا ہے۔ ترکی کا خیال ہے یہ نئی سرحدی فورس علاقے میں ایک کرد مملکت قائم کرنے کی وجہ سےبنائی جا رہی ہے۔ ترکی کے شروع کردہ فوجی آپریشن کے دوران عفرین کے کئی ایک علاقوں کو ان دہشت گرد تنظیموں کے پنجے سے آزاد کروالیا گیا ہے اور ترک فوجیوں کی مزید پیش قدمی جاری ہے اور ترکی منبیچ تک کے علاقے کو ان دہشت گرد تنظیموں سے آزاد کرانا چاہتا ہے۔ امریکہ کو ترکی کی جانب سے فوجی آپریشن کیے جانے کی ہرگز توقع نہ تھی اور اسی وجہ سے اس نے ترکی کے کئی بار انتباہ کے باوجود اس کے مطالبے پر کوئی کان نہ دھرا۔ اب اس فوجی آپریشن کے بعد امریکہ کی آنکھیں کھلی ہیں اور اس نے ترکی پر فوجی آپریشن جلد از جلد ختم کرنے کے لئے دبائو ڈالنا شروع کردیا ہے لیکن ترکی کے صدر ایردوان ’’فوجی آپریشن کو علاقے میں موجود تمام دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک جاری رکھا جائے گا‘‘ کا کئی بار برملا اظہار کرچکے ہیں۔ صدر ایردوان کے اس سخت اور دو ٹوک بیان کے بعد امریکی حکام کے ہاتھ پائوں پھولتے دکھائی دیتے ہیں اور اسی وجہ سے امریکہ نے اپنے وفود اوپر تلے ترکی بھیجنا شروع کردئیے ہیں تاکہ ترکی کو فوجی آپریشن ختم کرنے پر راضی کیا جاسکے لیکن ترکی اپنے موقف پر سختی سے قائم ہے۔ اسی دوران امریکی وزیر خارجہ ٹلر سن نے اپنے ترک ہم منصب چائوش اولو کو ٹیلی فون کرتے ہوئے ترک فوجیوں کی علاقے سے واپسی سے متعلق شیڈول دینے کا مطالبہ کیا جسے ترکی نے یکسر مسترد کرتے ہوئے کوئی تاریخ دینے سے گریز کیا جس پر امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر ہربرٹ ریمنڈ میک ماسٹر نے ترکی کے صدارتی ترجمان ابراہیم قالن سے ملاقات کی اور دونوں دہشت گرد تنظیموں کو امریکہ کی جانب سے دئیے جانے والے اسلحے اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹرٹیجک پارٹنر شپ جاری رکھنے کے بارے میں بات چیت کی گئی۔ اس وفد کے دورہ ترکی کے فوراً بعد ہی ترکی کے نائب وزیراعظم بیکر بوزداع نے امریکہ سے فوجی آپریشن روکنے کیلئے اپنے کسی نئے وفد کو ترکی بھیجنے سے باز رہنے کا مطالبہ کیا لیکن اس بیان کے بعد بھی امریکہ کے وزیر خارجہ ٹلر سن اور وزیر دفاع جیم میٹس کےدورہ ترکی اور اپنے اپنے ترک ہم منصبوں سے مذاکرات کرنے کے علاوہ صدر ایردوان سے شام میں ترک فوجی آپریشن کے بارے میں بات چیت کیے جانے کی توقع کی جا رہی ہےتاہم یہ واضح ہے کہ ترک صدر شام کے علاقے عفرین اور اس کے بعد منبیچ میں اس وقت تک فوجی آپریشن جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں جب تک وہاں ایک بھی دہشت گرد موجود ہے۔ دراصل ایردوان کے اس فیصلے کی تمام ترک حلقوں کی جانب سے مکمل حمایت کی جا رہی ہے جو صدر ایردوان کے ہاتھوں کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ 2019ء کے صدارتی انتخابات میں بڑی واضح اکثریت سے کامیابی کا وسیلہ بھی بن سکتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب میں پاکستانی فوج کی تعیناتی، ایک معمہ

(آصف جیلانی) سعودی عرب میں بڑی تعداد میں پاکستانی فوج کیوں تعینات کی گئی ہے؟ ...