جمعہ , 25 مئی 2018

اسرائیلی جھوٹی فوجی برتری کی عمارت زمین بوس

(مزمل حسین سید )
شام کی سات سالہ جنگ میں اس وقت ایک اہم پیش رفت سامنے آئی جب شامی فوج نے اپنی سرحدی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے صہیونی ایف16طیارے کو تباہ اور ایک ایف15 طیارے کو زخمی حالت میں دم دبا کر بھاگنے پر مجبور کردیا۔ جو دنیا کی نظروں میں قائم کی گئی اسرائیل کی اس جھوٹی فوجی برتری اور اس کے ناقابل تسخیر ہونے کے دعویٰ کی عمارت کوزمین بوس کرنے کا باعث بن گیا ہے۔ اس واقعہ نے اسرائیلوں کی انتہائی سیخ پا اور حواس باختہ کردیا ہے ۔ جس کے بعد غاصب صیہونی حکومت نے اپنی فوج اور خاص طور سے فضائیہ کو پوری طرح چوکس کردیا ہے اور مقبوضہ فلسطین کے سرحدی علاقوں میں رہنے والوں سے کہا ہے کہ وہ تا اطلاع ثانی پناہ گاہوں سے باہر نہ آئیں۔

اسرائیلی فوج علاقے میں مزید نئی پناہ گاہیں تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور شام کی سرحد کے ساتھ ملنے والے علاقوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے ۔حیفا کی بلدیہ نے بھی شمالی سرحدی علاقوں میں جاری سیکورٹی بحران کے نتیجے میں پیدا ہونے والے کسی بھی صورتحال پر قابو پانے کے لے نئی پناہ گاہیں تعمیر کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔شام کی جانب سے اسرائیلی طیارے کے مار گرائے جانے پر بے حد فرط و مسرت کا اظہار کیا گیا اور دیگر اسلامی مزاحمتی تنظیموں حزب اللہ اور یمنی انصا راللہ نے بھی ا س اقدام کو بروقت مستحسن اور حق بجانب قرار دیتے ہوئے شامی صدر کو مبارکبادی پیغام بھیجوائے ہیں۔

فلسطینی تحریک جہاد اسلامی کے پریس سیکریٹری کے مطابق نہ صرف اسرائیل کے منہ پر زور در طمانچہ ہے بلکہ خطے میں امریکہ اور اسرائیل کی تسلطہ پسندی پر بھی کاری ضرب ہے۔فلسطینی تحریک جہاد اسلامی کے مطابق شامی فوج کے ہاتھوں اسرائیل کا جنگی طیارہ مار گرائے جانے سے فلسطینیوں اور ان کی تحریک مقاومت کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اور آج ہم اسرائیل کے مقابلے کے لئے پہلے کے مقابل کہیں زیادہ خود کو طاقتور محسوس کر رہے ہیں۔

بعض مبصرین کے مطابق اسرائیلی طیارے کی سرنگونی اسرائیل کے لئے ایک بہت بڑا جھٹکا اور شامی حکومت اور اس کے اسلامی مزاحمتی اتحاد کی زبردست کامیابی قرار دی جا رہی ہے ۔ امریکہ کے ایک ممتاز سیاسی تجزیہ نگار ولیم مورس نے شامی فوج کے آئر ڈیفنس سسٹم کی طرف سے صیہونی حکومت کا ایک ایف 16 جنگی طیارہ مارگرائے جانے کے واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ شامی حکومت کیلئے ایک بڑی کامیابی ہے اوریقینی طورپر صیہونی حکومت دمشق کے تئیں اپنے جارحانہ موقف کو ترک کرنے پر مجبور ہوگی ۔انہوں نے کہاکہ اس واقعے سے صیہونیوں کی نیندیں خراب ہوگئی ہے اور تل ابیب حکومت نے اس واقعے پر حد سے زیادہ ردعمل دکھایا ہے۔

اسرائیل کے حملوں کا جواب دینا شامی حکومت کا جائز اور قانونی حق ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خطے کے ممالک اسرائیلی جارحیت کا بھرپورجواب دینے کی توانائی رکھتے ہیں۔امریکی ممتاز سیاسی تجزیہ کار میمی اللحم نے کہا ہے کہ شامی فوج کے ذریعے صیہونی ایف 16 جنگی طیارے کو مار گرایا جانا غاصب صیہونی رژیم اورامریکہ کیلئے یہ واضح پیغام ہے کہ شام کی خود مختاری وارضی سالمیت کی خلاف ورزی کرنے والے والوں کو دندان شکن جواب دیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ واقعہ شام کی سات سالہ جنگ میں ایک سب سے بڑی پیشرفت ہے۔ انہوں نے کہاکہ غاصب صیہونی رژیم مقبوجہ جولان علاقے میں سرگرم تکفیری دہشتگردوں کو تحفظ بخشنے کی غرض سے شام کی ارضی سالمیت کی خلاف ورزی کرنے کیساتھ ساتھ شامی فوج کے ٹھکانوں پر بمباری کرتی آرہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ تاہم شام کی سات سالہ جنگ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ صیہونی فوج نے شامی فوج کے ذریعے جنگی طیارے کو گرائے جانے کے واقعے کو تسلیم کرنا پڑا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کے باعث شائد صیہونی حکومت شام پر مستقبل میں مزید حملہ کرنے کی جرات نہیں کریگی اور یہ نہ صرف صیہونی حکومت بلکہ امریکہ کیلئے دمشق کی طرف سے یہ پیغام ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر ملک کی خودمختاری و ارضی سالمیت کی خلاف ورزی کو اب برداشت نہیں کریگی۔

دریں اثنا دمشق میں پریس ٹی وی کے نامہ نگار محمد علی نے صیہونی جنگی طیارے کو مار گرائے جانے کو ایک اہم واقعہ قرارد یتے ہوئے کہاہے کہ شامی فوج نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ تل ابیب کی کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی اہل ہے ۔انہوں نے کہاکہ شامی فوج میں صیہونی ہوائی حملوں کو ناکام بنانے کی پوری صلاحیت ہے۔ یہ تو چند وہ تبصرے یا تجزیئے تھے جو کسی حد تک غیر جانبداری کو سامنے رکھتے ہوئے کئے گئے لیکن غاصب صہیونی ریاست کے میڈیا کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ایران کے ساتھ اسرائیل کے ٹکراو کے لمحات شائد چند گھڑیوں کے فاصلہ پر ہے اور کسی وقت ہی اسرائیل ایران پر چڑھ دوڑے گا۔

عالمی تجزیہ نگار کے نزدیک اسرائیلی میڈیا کی موجودہ روش دراصل اس خفت کو کم کرنا ہے جو انہیں شامی حملے کے بعد اٹھانا پڑ رہی ہے اور وہ اپنی فوج اور عوام کو جھوٹی تسلیاں دے کر ان کا مورال بلند کرنے کی ایک بار پھر ناکام کوششوں میں مصروف ہے حالانکہ حالات و واقعات بالکل ا س کے برعکس دکھائی دے رہے ہیں۔ در اصل بات یہ ہے کہ غاصب اسرائیلوں کو شام میں اب ایران کی مضبوط موجودگی کھائے جارہی ہے اور کسی بھی طور پر شام میں ایران یا ایرانی ممکنہ اڈوں کی موجودگی کو اپنی بقا کے لئے نا قابل برداشت سمجھتے ہیں۔

اسرائیلی تعمیرات اور ہاوسنگ کے وزیر یوو گیلنٹنٹ کھلے لفظوں کہ چکا ہے کہ ایران شام اور حزب اللہ کے ا تحاد کو ختم کرنا اسرائیلی بقا کے لئے ضروری ہے۔ صہیونی وزراء اور دفاعی حکام کے نزدیک اسرائیل سر پر موت کے سائے کی مانند منڈلاتے ہوئے اس مزاحمتی بلاک کے اتحاد کو توڑا جانا ضروری ہے، لیکن کیا یہ اسرائیلی خواب شرمندہ تعبیر ہو پائے گا اور کیا اس سے پیدا ہونے و الے نتائج کا بوجھ اسرائیل کیلئے برداشت کرنا ممکن ہو پائے گا۔ اس پر مزید تبصرہ اگلے کالم پر اٹھا رکھتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

’سعودی عرب عراق کو میدان جنگ بنانے سے احتراز کرے‘

آئی سی جی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو اپنے حریف ایران کے ساتھ ...