بدھ , 17 اکتوبر 2018

مودی اسرائیل کا چپڑاسی

( صابر ابو مریم ​)

حالیہ دنوں بھارت کے وزیراعظم نیرندر مودی نے فلسطین سمیت اردن، عرب امارات اور مسقط کا دورہ کیا ہے، اس دورے کا وقت انتہائی اہم ترین ہے کہ جب کچھ ماہ قبل مودی اسرائیل کا دورہ کر چکے ہیں او ر اب کچھ دن قبل ہی جعلی ریاست اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے ہندوستان کا دورہ کیا تھا اور اب مودی کا یہ چار ملکی دورہ بہت سے سوالات اٹھانے کے ساتھ ساتھ متعدد سوالات سے پردہ بھی اٹھا رہا ہے۔کہا جا رہاہے کہ مودی عرب امارات سے ہوتے ہوئے اردن پہنچے جہاں سے پھر فلسطین آئے اور مھمود عباس سے ملاقات بھی کی، اس ملاقات میں مودی نے بھارت کی جانب سے فلسطینیوں کے حقوق کی بات کی اور وعدہ کیا کہ بھارت فلسطینیوں کے مفادات کو فراموش نہیں کرے گا۔

حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ مودی کے پڑوس میں ہی ایک خطہ وادی کشمیر کہلاتی ہے کہ جہاں روزانہ کی بنیادوں پر کشمیریوں کے حقوق پائمال کیا جا رہے ہیں اور پھر ابھی چند ماہ پہلے ہی تو مودی اور نیتن یاہو کی مسلسل دو ملاقاتوں میں فلسطین کو فراموش کیا گیا تھا تو اب آخر مودی فلسطین کے کمزور ترین صدر محمود عباس کو کیا یقین دلانا چاہتے ہیں؟ یا پھر یہ کہ وہ دنیا بھر میں اور بالخصوص بھارت میں فلسطین کے معاملے پر عوامی غم و غصہ کو کم کرنا چاہتے ہیں یا شاید یہ کہ اس دورہ میں مودی نے اسرائیل کا ایک سچا اور پکا نمک خوار ہونے کا یقین دلوایا ہے ۔

اب ذرا ان ممالک کی صورتحال کا جائزہ لیجئے کہ جہاں سے ہوتے ہوئے اسرائیلی نمک خوار مودی فلسطین جا پہنچے تھے۔ عرب امارات: جی ہاں آج کل عرب امارات کھلم کھلا خلیج دنیا میں ایک ایسا پولیس مین بنا ہو اہے کہ جس نے نہ صرف بحرین بلکہ یمن میں بھی جاری فوجی حملوں کی کمان سنبھال رکھی ہے اور یمن میں جاری یکطرفہ عرب بادشاہوں کی جنگ کی کمان کو سنبھالے ہوئے ہے، اب مودی نے یقیناًیہاں پر اسرائیل کی خیر خواہی میں ان کو یہی پیغام دیا ہو گا کہ اسرائیل کے تحفظ کی خاطر اس جنگ کو جاری رکھو، یہ خیال مت کرنا کہ یمن میں مارے جانے والے ہزاروں معصوم انسان مسلمان ہیں یا انسان بھی ہیں، یقیناًمودی نے اپنے کشمری کے تجربات یہاں اماراتی شاہوں کے ساتھ شیئر کئے ہوں گے تا کہ ان کو حوصلہ ملے کہ دنیا چاہے جتنی ہی مخالفت کرتی رہے لیکن کیونکہ اسرائیل کا تحفظ سب پر مقدم ہے اس لئے یمن میں جو جنگ مسلط کر رکھی ہے اسے روکنا مت ، کیونکہ یمن کے عوام کا پہلا نعرہ تکبیر، دوسرا رسالت اور پھر مردہ باد امریکا اور مردہ باد اسرائیل ہے ۔اسی طرح اب ذرا اردن کی با ت کریں کہ جو ہمیشہ سے ہی عالمی استعمار کی غلامی کرنے کو ہی اپنی عاقبت تصور کرتا آیا ہے اور انہی دنوں کہ جب مودی اردن میں دورے پر تھے اردن میں اسرائیلی سفارتخانے کو از سر نو کھولا گیا اور نیا اسرائیلی سفیر بھی متعین کیا گیا ہے، یہاں بھی یقیناًمودی نے اسرائیل کی زبان بولتے ہوئے ان عرب شہنشاہوں کو سمجھایا ہو گا کہ دیکھو نہ تو فلسطین کے مظلوموں کی بات کرنا اور نہ ہی کشمیر کی طرف آنکھ اٹھانا ، اگر پاکستان سے کوئی تمھیں کشمیر پر حمایت کرنے کے لئے کہہ دے تو آنکھیں او ر کان بند کر لینا ۔

یہ بھی دیکھیں

عالمی تیل مافیا،استعماری دھمکیاں اور ہندوستان

(عادل فراز) عالمی بازار میں کچّے تیل کی دن دوگنی اور رات چوگنی قیمتوں میں ...