جمعرات , 16 اگست 2018

روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار پر مسلم دنیا کی اجتماعی بے حسی

 

میانمار کی ریاست راخائن میں فوج کے ہاتھوں بے دردی سے روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام کرکے انکی نعشوں کو تیزاب پھینک کر مسخ کردیا گیا ہے. انسانیت کو شرما دینے والے اس قتل عام میں انتہاء پسند بدھ رہنما بھی میانمار فوج کے ساتھ ساتھ رہے.

اس سلسلہ میں عالمی میڈیا کی رپورٹ میں جو روہنگیا مہاجرین کے کیمپوں میں آنیوالے مسلمانوں کے انٹرویوز پر مبنی ہے‘ انکشاف کیا گیا ہے کہ راخائن کے مسلم اکثریتی علاقوں میں ’’علیحدگی پسند‘‘ مسلمانوں کیخلاف اپریشن کے نام پر بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا جس میں نہتے مسلمانوں‘ نوجوانوں‘ بچوں‘ بوڑھوں اور عورتوں کو چن چن کر قتل کیا گیا.

ایسے ہی 450 مسلمانوں کی پانچ اجتماعی قبریں راخائن کے گائوں ’’گائودرپین‘‘ ’’اوران ڈین‘‘ میں ملی ہیں. ان اجتماعی قبروں کا زمین پر پڑی انسانی ہڈیوں‘ خون آلود کپڑوں اور آدھے دفن انسانی ہاتھ پائوں کی ہڈیوں سے پتہ چلا. اس حوالے سے ایک روہنگیا مسلمان نورقادر نے بتایا کہ اسکے 14 دوستوں اور گائوں کے ساتھیوں کو برمی فوج نے بے دردی سے قتل کیا اور نعشیں گڑھا کھود کر ڈال دیں. نعشوں کی شناخت مٹانے کیلئے ان پر تیزاب یا گوشت اور ہڈیاں گلانے والا کیمیکل ڈالا گیا اور بعض نعشوں کو پٹرول ڈال کر آگ لگا دی گئی.

عالمی میڈیا کے مطابق برمی فوج نے روہنگیا مسلمانوں کا منظم طریقے سے قتل عام کیا اور اس کام میں مقامی بدھ بھکشوئوں نے انکی مدد کی. نورقادر کے مطابق اگر تلاش کی اجازت ملے تو علاقے میں مزید اجتماعی

قبریں مل سکتی ہیں. یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ میانمار حکومت روہنگیا مسلمانوں کے قتل اور انہیں اجتماعی قبروں میں دفنانے کی تردید کرتی رہی ہے تاہم اس حکومت نے کچھ عرصہ قبل تسلیم کیا تھا کہ دس روہنگیا ’’دہشت گردوں‘‘ کی اجتماعی قبر راخائن میں دریافت ہوئی ہے جو فوج کے ساتھ جھڑپ میں مارے گئے تھے.

روہنگیا مسلمان جو میانمار (برما) کی ریاست راخائن میں اکثریتی آبادی کی حیثیت سے گزشتہ صدی سے مقیم ہیں‘ اپنی شناخت کیلئے سرگرداں ہیں جن کا میانمار کی بدھ مت حکومت سے صرف یہی تقاضا ہے راخائن کی ریاست کو روہنگیا مسلمانوں سے منسوب کرکے خودمختاری دے دی جائے مگر انہیں امن و آشتی اور انسانی عظمت کے نام نہاد پرچارک بدھسٹوں کے ننگ انسانیت مظالم اٹھانا پڑ رہے ہیں.

برمی فوج کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں پر قیامت توڑنے کا سلسلہ 2011ء میں شروع ہوا جب بعض بدھ بھکشوئوں کے مبینہ قتل کے الزام میں ان بے یارومددگار مسلمانوں پر بدھ انتہاء پسندوں کے بلوئوں کا آغاز ہوا. اس وقت برما کی سالہا سال سے جلاوطن رہنے والی اپوزیشن لیڈر سان سوچی اقتدار میں آچکی تھیں جنہیں جبر و آمریت کیخلاف طویل جدوجہد کے اعتراف میں نوبل امن انعام سے نوازا جا چکا تھا چنانچہ ابتدائی طور پر یہ تصور کرنا بھی ناممکن تھا کہ انسانی حقوق کی علمبردار سان سوچی کے دور حکومت میں مذہبی منافرت کی بنیاد پر میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کے ننگ انسانیت قتل عام کی بدھ انتہاء پسندوں اور برمی فوج کو کھلی چھوٹ مل سکتی ہے تاہم جب روہنگیا مسلمانوں پر توڑے جانیوالے مظالم کی خبریں اور تصویریں سوشل میڈیا پر آنا شروع ہوئیں تو ان مظالم پر انسانیت بھی شرماتی نظر آئی مگر انسانی حقوق کی چیمپئن ہونے کی داعی عالمی قیادتوں اور عالمی اداروں بشمول اقوام متحدہ کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی‘ چونکہ مغربی‘ یورپی دنیا میں بالخصوص مسلم دنیا کے بارے میں دہشت گردی کے حوالے سے منفی سوچ پھیلائی جارہی تھی اس لئے میانمار حکومت کو مظلوم روہنگیا مسلمانوں پر بھی دہشت گرد ہونے کا لیبل لگانے کی سہولت مل گئی اور یقیناً اسی تناظر میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھی ان پر ڈھائے جانیوالے مظالم پر توجہ نہ کی اور نہ ہی کسی عالمی فورم پر انکے حق میں آواز اٹھائی گئی.

چنانچہ مذہبی منافرت کی آگ میں پھنکتے بدھ انتہاء پسندوں نے برمی فوج کی آشیرباد کے ساتھ وقفے وقفے سے روہنگیا مسلمانوں کے انتہائی بے دردی سے قتل عام کا سلسلہ جاری رکھا جبکہ گزشتہ سال یہ مظالم انتہاء تک جاپہنچے.

جب ان مظالم کی داستانیں لرزہ طاری کرنیوالی تصویروں اور ویڈیوز کے ذریعے متحرک و فعال سوشل میڈیا پر پھیلنا شروع ہوئیں تو دنیا بھر میں بھونچال کی کیفیت پیدا ہوگئی. ایسے مظالم میں ناقابل یقین حد تک روہنگیا مسلمان خواتین کی اجتماعی آبروریزی کی جاتی رہی اور انہیں اور انکے بھوک پیاس سے بلکتے معصوم و بے گناہ بچوں کو انکے جسموں کا ایک ایک عضو کاٹ کر تڑپا تڑپا کر مارا جاتا رہا جن کی نعشیں کتے بلیاں نوچتی پائی گئیں.

یہ طرفہ تماشا ہے کہ جب یہ مظلوم و معتوب روہنگیا مسلمان اپنی جان بچانے کیلئے ہجرت کرکے میانمار کے پڑوسی مسلمان ملک بنگلہ دیش جانا شروع ہوئے تو بنگلہ دیش حکومت نے بھی انتہائی سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں میانمار کی جانب واپس دھکیلنا شروع کردیا. اس پر انسانی ہمدردی کے تحت بعض عالمی این جی اوز اور اقوام متحدہ کے ذیلی عالمی ادارے یونیسیف نے بے یارومددگار روہنگیا مسلمانوں کا ہاتھ تھاما اور میانمار اور بنگلہ دیش کی سرحد کے درمیان ان کیلئے مہاجر کیمپ بنا دیئے تاہم لاکھوں کی تعداد میں ان مہاجر کیمپوں میں آنیوالے روہنگیا مسلمانوں کو مناسب خوراک اور طبی سہولتیں فراہم کرنا مشکل ہوگیا چنانچہ ہزاروں روہنگیا لاغر مسلمان اور بچے بھوکے پیاسے تڑپتے مر گئے.

ایسا پہلی بار ہوا کہ روہنگیا مسلمانوں پر ننگ انسانیت مظالم کا اقوام متحدہ اور امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ سمیت متعدد عالمی اداروں اور عالمی قیادتوں نے بھی نوٹس لیا اور اقوام متحدہ نے ایک قرارداد منظور کرکے میانمار حکومت سے روہنگیا مسلمانوں پر مظالم بند کرانے اور انہیں راخائن میں آباد کرنے کا تقاضا کیا جبکہ میانمار فوج کی جانب سے توڑے جانیوالے ان مظالم کی بنیاد پر نوبل امن ایوارڈ دینے والے عالمی ادارے نے سان سوچی سے نوبل ایوارڈ واپس لے لیا. مسلم دنیا کیلئے یہ افسوسناک ہی نہیں‘ شرمناک صورتحال بھی ہے کہ ماسوائے ترک صدر رجب طیب اردوان اور انکی اہلیہ کے کوئی مسلم ریاست اپنے بے بس و مظلوم روہنگیا مسلمانوں کی خبر گیری کو پہنچی‘ نہ کسی نے انکی بحالی کیلئے کوئی عملی اقدامات اٹھائے اور نہ ہی کسی عالمی اور علاقائی فورم کو میانمار حکومت پر دبائو ڈالنے کیلئے متحرک کیا. او آئی سی نے محض ایک رسمی سی قرارداد منظور کرکے روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کی مذمت پر اکتفاء کیا جبکہ بے یارومددگار روہنگیا مسلمانوں کو پناہ دینے کیلئے بھی کسی مسلم ریاست نے تردد نہ کیا اور بنگلہ دیش حکومت بھی عالمی دبائو پر روہنگیا مہاجرین کو پناہ دینے پر آمادہ ہوئی مگر وہ مہاجر کیمپوں میں بے یارومددگار پڑے مسلم قیادتوں کی بے حسی کا رونا رو رہے ہیں جبکہ مسلمان ہی نہیں‘ انسان ہونے کے ناطے بھی ان بے بسوں کی مدد کرنا شعائر اسلامی کا تقاضا ہے.

اب میانمار فوج کے روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ تھما ہے تو راخائن میں اجتماعی قبروں کی دریافت کے ساتھ ہی ان بے بس مسلمانوں پر توڑے جانیوالے مظالم کی خون رلانے والی داستانیں بھی منظرعام پر آنے لگی ہیں. اس سلسلہ میں بعض عالمی میڈیا کی جاری کردہ رپورٹ کے منظر عام پر آنے سے تو شرف انسانیت کی تذلیل آخری حدوں کو چھوتی نظر آرہی ہے. یہ رپورٹ پڑھ کر کوئی آنکھ اشکبار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی اور خوف و وحشت کی علامت بنے یہ مظالم انسانی بے توقیری کی گھٹیا ترین مثال بنے نظر آتے ہیں.

ان بے بس روہنگیا انسانوں نے یقیناً مسلمان ہونے کی سزا پائی ہے اور مسلم قیادتوں اور انکے نمائندہ اداروں کی اس سے بڑی بے حسی اور کیا ہو سکتی ہے کہ ان بے بسوں کیلئے اب تک مسلم برادرہڈ والا جذبہ بھی اجاگر نہیں ہو سکا.

مسلم دنیا کے افتراق و انتشار اور آپادھاپی کی اس کیفیت پر ہی تو شاعر مشرق علامہ اقبال یہ کہہ کر خون کے آنسو روتے نظر آئے تھے کہ ’’تیری بربادیوں کے تذکرے ہیں آسمانوں پر‘‘ آزمائش کے ان مراحل میں مظلوم روہنگیا مسلمانوں کا ہاتھ تھامنا تو دکھی انسانیت کی خبر گیری کا بھی تقاضا ہے. اگر ان پر ڈھائے جانیوالے مظالم کی داستانیں سن کر بھی مسلم قیادتوں کے دل نہیں پسیجتے تو اغیار کے ہاتھوں انکی بربادی بھی نوشتۂ دیوار ہے…
یہ گھڑی محشر کی ہے‘ تو عرصۂ محشر میں ہے
پیش کر غافل اگر کوئی عمل دفتر میں ہے
(بشکریہIuvmpress.com )

یہ بھی دیکھیں

فلسطینیوں کے لیے’اعزازی حج اسکیم‘ کرپشن کی نذر!

ہرسال خادم الحرمین الشریفین کی طرف سے اسرائیلی دہشت گردی میں شہید ہونے والے فلسطینیوں ...