بدھ , 24 اکتوبر 2018

امریکہ کے «غلط حملے» کے نتیجے میں 300 شامی کُرد جان بحق

دمشق (مانیٹرنگ ڈیسک )شامی کُردوں کے ٹھکانے پر امریکہ کے «غلطی سے» فضائی حملے کے نتیجے میں 300 کے قریب افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔
مقامی روزنامہ نے دعویٰ کیا ہے کہ شام کے مشرق میں دیرالزور کے علاقے پر شامی کُردوں کے ٹھکانے پر امریکہ کے «غلطی سے» فضائی حملے کے نتیجے میں 300 کے قریب افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق شام کے مشرق میں Syrian Democratic Forces/YPG کے ٹھکانے پر امریکہ کے فضائی حملے سے 300 ملیشیا کے افراد جان بحق ہوچکے ہیں۔
ڈیلی صاباح کی رپورٹ کے مطابق امریکی فضائیہ کے غلط حملے سے دیرالزور میں YPG پر حملہ کیا گیا۔کہا جارہا ہے کہ اس حملے کی وجہ بعض زمینی وسائل سے ملنے والی غلط انفارمیشن ہے، جبکہ اس خبر میں اس کی نوعیت کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔
امریکہ کے اس طرح کے مشکوک حملے بہت پہلے سے ہوتے آرہے ہیں۔ ستمبر 2016 میں بھی امریکہ فضائیہ نے شامی فورسز پر حملہ کیا تھا جب کہ وہ داعش کے خلاف جنگ لڑ رہے تھے، اس غلط حملے کے نتیجے میں بھی 100 سے زائد فورسز جان بحق ہوگئے تھے اور اس ایک غلطی کی وجہ سے داعش دیرالزور ایئرپورٹ پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہونے کی قریب تھی۔
عراقی فورسز نے بھی بارہا یہ اعلان کیا ہے کہ امریکی فورسز نے الحشد الشعبی (عوامی رضاکار فورس) پر داعش سے جنگ کے دوران حملے کیئے ہیں، تب بھی ہر بار امریکہ نے یہی کہا کہ ”یہ حملہ غلطی سے ہوا۔“

یہ بھی دیکھیں

عالمی امن، صیہونی حکومت کی نابودی اور فلسطین کی حمایت سے ہی ممکن ہے: اسلامی کونسل لبنان

بیروت (مانیٹرنگ ڈیسک) اعلٰی شیعہ اسلامی کونسل لبنان کے سربراہ نے سوئٹزرلینڈ کے نئے سفیر ...