پیر , 24 ستمبر 2018

مسئلہ کشمیر کا حل ممکن ہوسکتا ہے !!!

(محمد اکرم چوہدری)
وادیِ کشمیر کو عرفِ عام میں جنت نظیر بھی کہتے ہیں جو کہ دراصل اس خطے کے قدرتی حْسن کا عکاس ہے۔ اپنے لاجواب قدرتی حْسن کے باوجود یہ خطہ گذشتہ سات دہائیوں سے ظلم و بربریت کی ایک کہانی بنا ہوا ہے جس کی بدولت یہاں کے رہنے والوں کیلئے یہ جنت نظیر بھی کسی جہنم سے کم نہیں۔کشمیر کا بیشتر حصہ قیامِ پاکستا ن سے لیکر آج تک ہندوستان کے غیر قانونی اور زبردستی قبضے میں ہے جسے ہم مقبوضہ کشمیر کے نام سے جانتے ہیں۔ یہاں کی آبادی کی اکثریت مسلمانوں کی ہے جو کسی طور پر بھی ہندوستان کیساتھ نہیں رہنا چاہتے۔ قیامِ پاکستان کے وقت یہاں پر چونکہ ڈوگرہ راج تھا لہٰذا وہاں کے حکمرانوں کی مرضی سے ہندوستانی فوج نے اس علاقے کو قبضے میں لے لیا۔جس کی بدولت آج کشمیر ، جنت نظیر ، لہو لہو ، قدم قدم پر موت کے ڈیرے ، وحشتوں کے بسیرے ، عالمی ضمیر مگرپھر بھی خاموش ، بے حمیتی اوربے غیرتی کی بُکل مارے خوابِ خرگوش کے مزے لے رہا ہے ۔ عالمی ضمیر مگر ہے کہاں؟ وہ توکب کا زورآوروں کے دَر پر سجدہ ریز ہوچکا ۔ سمجھ سے بالاتَر کہ انسانیت آخر کہاں سوگئی ۔ امریکی دانشور نوم چومسکی بھی چیخ اُٹھا کہ وحشت و درندگی کے ایسے مظاہرکبھی دیکھے نہ سنے ۔ بھارتی درندوںکے ہاتھوںمیں اسرائیل کی طرف سے بھیجی گئی ’’پیلٹ گَنز‘‘جن سے بیک وقت معصوموںکے جسم میںداخل ہونیوالے بیشمار ’’چھَرے‘‘ ۔ دردسے چلاتا ہوا معصوم بچہ کہتاہے ’’ابو ! مجھے بہت درد ہورہا ہے‘‘۔ ڈاکٹر کہتا ہے کہ اِس معصوم کے جسم میں جگہ جگہ بیشمار چھَرے پیوست ہیں ، کوئی حصّہ محفوظ نہیں ، کئی آپریشن کرنے ہوںگے ۔ مائیں دُہائیاں دیتی ہیںکہ اُنکے بچے اِن چھَروںکی بدولت اندھے ہوچکے ، بہنیں پکار رہی ہیں کہ اُنکے بھائیوںکی بینائی ختم ہوچکی اور بیٹیوں کے بَین کہ وہ یتیم ہوچکیں ۔ حقِ آزادی۔ یعنی جوہر کسی کا پیدائشی حق ہے لیکن لَگ بھَگ 7 عشرے گزرچکے ، زورآوروں نے اُن کایہ حق سَلب کر رکھا ہے ۔ آفرین ہے کشمیری حریت پسندوںپر جن کاعزم جواںاور آزادی کی تَڑپ ، کَسک اورلَگن بھی جواں ۔ وادیٔ کشمیرکی چوتھی نسل آزادی کی جنگ لڑتے لڑتے جوان ہوچکی ۔
یہ چوتھی نسل کہتی ہے کہ’’ مذاکرات‘‘ کی بات کرتے کرتے عشرے بیت چکے ، تحریکِ آزادیٔ کشمیرکے کمانڈر بُرہان وانی سمیت ایک لاکھ سے زائد شہادتیں ہوچکیں ، مسلسل ہڑتالیں بھی کی گئیں، مظاہرے بھی ہوئے لیکن درندہ تودرندہ ہی ہوتا ہے وہ بھلا درسِ انسانیت کیاجانے ۔ اِن نوجوانوںکو نہ اقوامِ متحدہ پراعتبار ہے نہ بین الاقوامی قوانین پر۔ وہ کہتے ہیں کہ کشمیرکا مسٔلہ توخود بھارت اقوامِ متحدہ میںلے کرگیا اوروہاں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر دستخط بھی کیے کہ کشمیرمیں استصواب رائے کروادیا جائے گا ۔ خود بھارتی وزیرِاعظم پنڈت جواہرلال نہرو نے بھارتی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے استصواب رائے کاوعدہ بھی کیا لیکن 1948ء سے لے کرآج تک اُس پرعمل درآمد تو نہ ہوسکا البتہ یہ ضرورہوا کہ امریکی دَرکی لونڈی ، گھر کی باندی اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے مارچ 2001ء میںبھارت کے دَورے کے موقعے پرکہہ دیاکہ اقوامِ متحدہ میںکشمیر کے متعلق پاس کی گئی قراردادوں کی حیثیت محض مشاورتی ہے ۔ پھر نومبر 2010ء میںسیکیورٹی کونسل میںموجود تنازعات کی فہرست سے کشمیرکو خارج کردیا گیا۔ بین الاقوامی قانون کے تحت اقوامِ متحدہ آزادی کی جدوجہد میں مصروف لوگوںکی مددگار ہوتی ہے لیکن آزادیٔ کشمیر کے معاملے میںاقوامِ متحدہ ہمیشہ طَرح ہی دیتی رہی ۔ اِس لیے اقوامِ متحدہ یابین الاقوامی قانون پر اعتبار کون کرے ۔ لہٰذا جو بھی ہو آج نہیں تو کل کشمیر بھارت سے آزادی حاصل کرکے رہے گا۔ آج کشمیر میں کرکٹ کا میدان ہویا جلسے جلوس ہر جگہ پاکستانی پرچم نظر آتا ہے اور پاکستان کے قومی ترانے کی گونج سنائی دیتی ہے۔ اگر کشمیری پاکستان سے امید لگائے بیٹھے ہیں تو ہمیں اُن کی امیدوں کو توڑنے کے بجائے اُن کا ساتھ دینا چاہیے۔ قائداعظمؒ سے کشمیر کے حوالے سے کسی نے پوچھا تو انہوں نے چائے کا ایک لمبا سپ لیتے ہوئے انتہائی فکر انگیز انداز میں کہا کہ بھارت کو جان لینا چاہیے کہ وہ جبراً کشمیریوں کو غلام نہیں بنا سکتا۔ قائد اعظم علیہ الرحمہ نے بجا ارشاد فرمایا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ اور تکمیلِ پاکستان کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ بین الاقوامی ادارے اور ممالک کشمیر میں جاری ظلم و جبر پر خاموش تماشائی بننے کے بجائے اُس کا نوٹس لیں اور بھارتی قابض فوجیوں کو اس بات پر مجبور کریں کہ وہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لیے استصوابِ رائے کے حق کو تسلیم کرے۔ عالمی برادری کو اب کشمیر پر دوہرا معیار ترک کرنا ہوگا۔ کشمیریوں کا حق خود ارادیت اور آزادی ان کا بنیادی حق ہے جو انہیں ملنا چاہئے۔
قائداعظم کے بعد کاش کہ ہمارے سیاسی قائدین نے ان 70سالوں میں اس مسئلہ کو سنجیدہ لیا ہوتا۔ ہمارے سیاسی قائدین بھارت کے ساتھ ذاتی کاروبار نہ کرتے اور پھر ہم بھی بھارت کے ساتھ برابری کی سطح پر بات کرتے، اگر سیاسی قیادتیں مخلص ہوتیں اور پاک فوج کے ساتھ مل بیٹھ کر پالیسیاں بناتی تو بھارت کو بھی تگڑا پیغام جاتا ۔ آج مسئلہ کشمیر حل نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ اور رکاوٹ سیاستدانوں کا ’’نقطہ نظر‘‘ ہے۔ کیوں کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سیاستدان اور فوج اس معاملے میں بالکل مختلف رائے رکھتی ہیں، فوج اس معاملے میں یہ کہتی ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ کشمیر پاکستان کی ’’لائف لائن ہے‘‘ جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا ، بھارت کے ساتھ کسی قسم کے دیرپا تعلقات قائم نہیں کیے جاسکتے۔ اگر تعلقات قائم کربھی دیے جائیں تو وہ عارضی قسم کے تعلقات ہوں گے۔جن کا بھارت کو تو فائدہ ہو سکتا ہے مگر پاکستان اس سے فائدہ حاصل نہیں کر سکے گا۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کے تمام حربوں کے باوجود بھارت ہمیشہ پاکستان کے بارے منفی رائے رکھتا ہے اور اس کا اظہار وہ کئی جگہوں پر کر بھی چکا ہے اور جب اسے موقع ملتا ہے وہ اس کا عملی مظاہرہ بھی کرتا ہے۔ دنیا بھر میں علی اعلان پاکستان کیخلاف پراپیگنڈہ، پاکستان کو ہر طرف سے کمزور کرنے کی پالیسی، اور پاکستان کیخلاف افغانستان میں گریٹ گیم کھیلنا بھارت کے مشاغل ہیں اس لیے بھارت کوئی موقع نہیں جانے دیتا جو پاکستان پر اپنے میزائل نہیں داغتا ہے۔کبھی معاشی میزائل داغتا ہے، کبھی انسانی داغتا ہے تو کبھی پراپیگنڈہ کے میزائل داغتا ہے۔یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں پر فوج کا کردار ختم ہو جاتا ہے اور سیاستدانوں کا کردار شروع ہو جا تا ہے ۔ اگر سیاستدان اپنی ذمہ داریوں کو نبھائیں، عالمی سطح پر کشمیر کا مسئلہ پاکستان کی شہہ رگ کے طور پر لے کر چلیں۔کمپرومائز کی سیاست نہ کریں، تو مسئلہ کشمیر کا حل ممکن ہے۔ گو کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں بشمول مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کشمیر کے حوالے سے یہ رائے تو رکھتی ہیں کہ کشمیر یوں کو آزادی رائے اور حق خود ارادیت کا حق ملنا چاہئے۔ لہٰذا سیاستدانوں کو بھی اُسی طرح سوچنا چاہیے جس طرح ہماری پاک فوج اور عوام سوچتے ہیں کہ کشمیر پاکستان ہے اور پاکستان کشمیر کے بغیر نامکمل ہے اور پاکستان کو ہر حال میں اس جنگ کو جیتنا ہے اور اگر یہ جنگ نہ جیتی گئی تو موجودہ پاکستان کے لیے بھی ہر وقت مسائل رہیں گے اس لیے ان مسائل کا حل پاکستان کی بقاء اور مسئلہ کشمیر کے مسئلے کے ساتھ وابستہ ہے۔ اور اس سلسلے میں پوری قوم کو پاک فوج کا ہمنوا ہونا چاہئے اور ہم رکاب ہو کر کشمیر کے مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہئے۔ آج ہمیں مجید نظامی مرحوم جیسا درد رکھنے والے پاکستانیوں کی ضرورت ہے کیونکہ آپ اہل کشمیر کے حقیقی پشتیبان اور محسن تھے ‘ کشمیر کے حوالے سے حکومت کی ہر کمزور پالیسی کی انہوںنے بر وقت گرفت کی حتیٰ کہ مسلم لیگ کے نام پر بننے والی حکومتوں کی لغزشوں کو بھی انہوں نے کبھی معاف نہ کیا ‘ وہ واحد بے باک صحافی تھے جو برملا کہتے تھے کہ کشمیر کی آزادی کیلئے ہمیں جنگ بھی کرنا پڑے تو دریغ نہیں کرنا چاہیے بلکہ ایٹم بم تک استعمال کرنے کی نوبت آئے تواستعمال کر لینا چاہئے۔ کئی بار کہا کہ مجھے ایٹم بم کے ساتھ باندھ کر فائر کر دیں تاکہ ہندو استعماریت اپنے انجام کو پہنچ سکے۔
مگر افسوس سفارتی سطح کی تمام کوششیں 70سال سے ناکام ہیں ، اقوام متحدہ اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کرانے میں ناکام ہے۔ پاکستان کے سیاستدان اس مسئلے کو عالمی سطح پر اُجاگر کرنے میں ناکام ہیں۔اور وہ نتائج حاصل نہیں کر سکے جو بھارت پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ کرکے حاصل کرتا ہے۔ میرا یہ خیال ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک اے پی سی بلائی جائے۔ جو کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوششوں کا ایک مربوط نظام ، عالمی سطح پر لے کر چلنے کا تعین کرے۔ آج کی دنیا میں سفارتی معاملات زیادہ بہتر ہیں ، لیکن اس کے لیے سیاستدانوں اور تمام سیاسی جماعتوں ، پاک فوج اور تمام مکتبہ فکر کے لوگوں کو اس سطح پر بیٹھ کر ایک بیانیہ بنانا ہے۔اور اس بیانیہ کو عالمی دنیا میں لے کر چلنا ہے ۔ اس حوالے سے کشمیریوں کو اپنے ساتھ ملا کرچلنا چاہئے اور ہمیں ان پر ہونے والے ظلم و ستم کو عالمی سطح اُجاگر کرنے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ، تب ہی کشمیر کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے جو مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں !

یہ بھی دیکھیں

اہواز حملے میں ملوث دہشت گرد گروہوں کا مختصر تعارف

(تحریر: محمد علی) برطانیہ میں سرگرم این جی او تنظیم "انجمن دوستی ایران اور برطانیہ” ...