پیر , 24 ستمبر 2018

پاک ایران تعلقات

( عرفان حسین)
پاک ایران تعلقات کو تاریخی پس منظر میں دیکھیں تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ پاکستان اور ایران نہ صرف پڑوسی ملک ہیں بلکہ نظریاتی، مذہبی، تاریخی اور ثقافتی رشتوں اور دوستی کی گہری بنیاد یں رکھتے ہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد پاکستان کو ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے تسلیم کرنے والا پہلا ملک ایران تھا اور اسی طرح 1979ء کے ایرانی اسلامی انقلاب کو سب سے پہلے پاکستان کی حکومت کی جانب سے تسلیم کیا گیا۔ معمولی اتار چڑھاؤ سے قطعِ نظر پاکستان کی مختلف حکومتوں کے ادوار میں مجموعی طور پر پاک ایران تعلقات ہمیشہ ہی بہت اچھے رہے ہیں۔
دونوں ممالک کی خواہش ہے کہا آپس میں ریلوے اور سڑکوں سے رابطہ مؤثر بنایا جائے۔ تجارتی حجم میں اور زیادہ اضافہ ہو۔ میڈیا کے محاذ پر تعلقات میں اضافہ ناگزیر ہے۔ صحافیوں کا باہمی تعامل بڑھنا چاہیے۔ ثقافت کے شعبہ میں ایران چاہتا ہے کہ ایرانی مصنوعات اور کتب کی نمائشیں، علمی سیمینار اور فلموں کا تبادلہ بڑے پیمانے پر ہو۔ پاکستان اور ایران کو سیاسی اور عسکری سطح پر بھی تبادلہ خیال کی روایت کو تازہ کرنا چاہیے اور مل بیٹھ کر چھوٹے موٹے مسائل حل کرتے ہوئے مل کر آگے بڑھنا چاہیے۔ اب جبکہ امریکہ مسلم معاشروں میں گہری تبدیلیاں لانے کا منصوبہ رکھتا ہے ،وہ ان معاشروں کی مسلم شناخت ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ایران کے درمیان تعاون کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے، تاکہ دونوں ملکوں کے عوام کا معیار زندگی بہتر کیا جا سکے۔ ایران اور پاکستان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں۔
پاک ایران تعلقات کو توڑنے کی کوشش میں امریکہ ، اسرائیل اوربھارت مصروف عمل ہیں لیکن وہ اس ناکام اور قبیح کوشش میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گےاور گزشتہ کچھ عرصہ ہونے واے چند دورے اور طے پانے واے منصو بےان کی کوششوں پر کاری ضرب ہے۔
ان منصوبوں میںدونوں ملکوں کے درمیان مسافر ٹرین سروس کو دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا اوریہ فیصلہ پاکستانی اور ایرانی ریلوے کے حکام کے درمیان بروزجمعرات۱۸ جنوری ۲۰۱۸کو اسلام آباد میں ہونے والے ایک مشترکہ اجلاس میں کیا گیاتھا۔ اس اجلاس میں شرکت کرنے والے ایرانی وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل ریلوے زاہدان ماجد آرجونی نے کی۔
اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیاتھا کہ یہ ٹرین مشہد اور قم سے چلے گی اور محرم الحرام کی آمد سے پہلے ٹرین سروس کے آغاز کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔اجلاس میں پاکستان اور ایران کے درمیان پندرہ مال گاڑیاں چلانے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں بہتری آئے
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نےمورخہ ۵ نومبر۲۰۱۷ کودورہ ایران کیا تھاجو دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہت کارگر ثابت ہو گا۔جنرل باجوہ نے آرمی چیف کا عہدہ سنبھالتے ہی تہران کے ساتھ بہتر تعلقات کے فروغ میں کردار ادا کرنے کا آغاز کیا، اس حوالے سے انہوں نے گزشتہ عرصے میں کئی بار پاکستان میں ایرانی سفیر مہدی ہنردوست سےملاقات کی، ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ خطے کے استحکام اور امن کے لیے پاک ایران فوجی تعاون کا فروغ ضروری ہے ۔
جنرل قمر جاوید باجوہ کی قیادت میں بطور ادارہ فوج اس خطے میں پاکستان کے ہمسایہ ملک سے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ قمر جاوید باجوہ نے اپنے دورۂ ایران میں ایران کی سینئیر قیادت سے کامیاب مذاکرات کئے اوران کے اقدامات سے صاف ظاہر تھا کہ وہ پاکستان ،ایران تعلقات بہتر سے بہتر بنانے کوشش میں مصروف عمل تھےاور ہیں، یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاںہے کہ دونوں ممالک کے اچھے تعلقات ہی پاکستان اور ایران کی تجارتی،معاشی ،اقتصادی ترقی میں اہم کردارادا کر سکتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

اہواز حملے میں ملوث دہشت گرد گروہوں کا مختصر تعارف

(تحریر: محمد علی) برطانیہ میں سرگرم این جی او تنظیم "انجمن دوستی ایران اور برطانیہ” ...