منگل , 25 ستمبر 2018

تاریخ کا بدلتا ہوا دھارا……..(1)

(الطاف حسن قریشی)
دسمبر ختم ہوا اور اپنے پیچھے ایک جہان آرزو چھوڑ گیا ہے۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ تاریخ نے کئی صدیوں بعد ایک نئی کروٹ لی ہے اور جغرافیے کی قربتیں اس کا دھارا تبدیل کر رہی ہیں۔ تہذیبوں اور قوموں کے عروج و زوال کے اصول اور قاعدے شہرہ آفاق مورخ ابن خلدون نے اپنے مقدمے میں بیان کیے ہیں اور عہد حاضر کے مایہ ناز تاریخ دان ٹانن لی نے ان میں گراں قدر اضافے کیے ہیں۔ وہ قومیں جن کو علمی اور اخلافقی برتری حاصل ہوتی ہے اور جن میں اصولوں اور آدرشوں کے لیے عصبیت پائی جاتی ہے، ان کو امامت کا منصب ملتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب مسلمان ریاضی، طبیعات، سائنسی علوم اور ٹیکنالوجی میں سب سے آگے تھے، جس کی بدولت اسلامی تہذیب و تمدن کا ہزار سال سے زائد دنیا میں غلبہ رہا۔ استنبول کے عجائب گھر توپ قاپی میں آج بھی وہ تحائف محفوظ ہیں جو چین، روس فرانس، برطانیہ، ہنگری اور جرمنی کے حکمران بڑی باقاعدگی سے ترک سلاطین کو بھیجتے اور ان سے خوف کھاتے تھے۔ مسلمانوں کی عسکری طاقت کا یہ عالم تھا کہ ۱۶۸۲ءمیں ترکوں نے ویانا کا محاصرہ کر لیا تھا اور ہسپانوی مسلمان فرانس کے جنوب تک پہنچ گئے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی علمی فوقیت اور اخلاقی طاقت میں ضعف آتا گیا جبکہ اس دوران یورپ میں احیائے علوم کی تحریک چلی اور تاریخ کا دھارا تبدیل ہو گیا۔

یورپی اقوام علم اور سائنس کی بنیاد پر عالمی افق پر نمودار ہوئیں، مگر آپس میں سو سو سال تک دست و گریباں رہیں اور آخر کار برطانوی قوم نے بہت عروج پایا۔ براعظم امریکا، افریکا، آسٹریلیا اور بڑی حد تک ایشیا کے بیشتر ممالک اس کے زیر نگیں آ گئے اور برطانوی سلطنت کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اس میں سورج غروب نہیں ہوتا۔ یہ کیفیت ایک صدی کے لگ بھگ قائم رہی لیکن دوسری جنگ عظیم میں برطانوی سا مراج کا سورج غروب ہو گیا۔ اس کی جگہ امریکا ایک عظیم عالمی طاقت کے طور پر ابھرا۔ اس نے کئی صدیاں پہلے برطانیہ سے آزادی حاصل کر کے اپنے ہاں اعلیٰ درجے کی یونیورسٹیاں اور تجربہ گاہیں قائم کر لی تھیں جن کے ذریعے سائنس اور ٹیکنالوجی کی نئی جہتیں دریافت کی جا رہی تھی۔ امریکی قوم کے اندر ابراہم لنکن، واشنگٹن اور جیفر سن مدبر پیدا ہوئے جنہوں نے انسانی آزادیوں کے اعلیٰ تصورات کی بنیاد پر آئین و ضع کیا اور مقامی حکومتوں کو اختیارت تفویض کیے جس کی بدولت معاشرہ ترقی کرتا گیا۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر اس وقت کی بڑی طاقتوں کو احساس ہوا کہ آئندہ جنگ کی روک تھام کے لیے عالمی سطح پر ایک طاقتور ادارہ قائم کیا جانا چاہیے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد اسی مقصد کے لیے لیگ آف نیشنر قائم ہوتی تھی لیکن وہ اس لیے ناکام ثابت ہوئی کہ امریکا اس میں شامل نہیں تھا، چنانچہ اس بار اقوام متحدہ کے نام سے جوا ادارہ وجود میں آیا، اس کی سربراہی امریکا کو سونپ دی گئی۔ اس ادارے کے قیام کے لیے اسی نے نیو یارک میں جگہ بھی فراہم کی اور خطیر مالی امداد بھی دی۔ رکن سازی کا بنیادی کام بھی اسی کی نگرانی میں ہوا۔ زیادہ اختیارات سیکورٹی کونسل کو سونپے گئے جس میں پانچ بڑی طاقتوں کو ویٹو کا حق سونپا تھا۔ ان پانچ میں سے چار امریکی حلقہ اثر میں آتے ہیں۔ اس طاقت کے بل بوتے پر اس نے نومبر ۱۹۴۷ءمیں ان گنت غیر اخلاقی اور جبری حربے استعمال کرتے ہوئے جنرل اسمبلی سے اسرائیلی ریاست کے حق میں دو تہائی ووٹ کی تگ ودوکی اور فلسطین سے عربوں کو جبری طور پر نکالنے میں صیہوبی دہشت گردوں کی مدد کی۔ بعض عرب ممالک نے صیہوبی ریاست کو وجود میں آنے سے روکنے کے لیے طاقت استعمال کی، مگر مصر اور شام کی فوجیں ناکام رہیں، البتہ اردن کی فوج نے دریائے اردن کے مغربی کنارے اور بیت المقدس پر قبضہ کر لیا جو ۱۹۶۷ءکی اسرائیل عرب چھ روزہ جنگ میں اسرائیل کے قبضے میں چلا گیا اور اس نے یہودی بستیاں بسانا شروع کر دیں اور سیکورٹی کونسل کی قرارداداوں کی ذرہ برابر پروا نہیں کی۔

پاکستان کا شروع ہی سے امریکا کی طرف جھکاؤ تھا، کیونکہ اس نے اس کے قیام کا خوش دلی سے خیر مقدم کیا تھا اور پہلی تقریب آزادی میں سب سے بڑا اور متقدر وفد بھیجا تھا مگر سوویت یونین نے پاکستان کی تشکیل کو سا مراجی طاقتوں کی سازش قرار دیا تھا۔ آگے چل کر برصغیر میں اشتراکیت کی پیش قدمی روکنے کے لیے امریکا نے پاکستان کے ساتھ فوجی معاہدے بھی کیے اور خاطر خواہ امداد بھی فراہم کی۔ سوویت یونین کے اثرورسوخ کی روک تھام کے لیے اس نے جرمنی اور جاپان کے لیے بھی مارشل پلان تیار کیا گیا اور ان دونوں ملکوں کے دفاع کے ذمے داری خود اٹھا لی تھی، جس کی وجہ سے یہ دونوں قومیں دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہو گئیں۔ اس وقت جرمنی پورے یورپ میں اقتصادی طور پر سب سے زیادہ مضبوط جبکہ جاپان دنیا کی دوسری بڑی معیشت کا مقام حاصل کر چکا ہے۔ سرد جنگ کے زمانے میں اپنی حیثیت مستحکم رکھنے کے لیے یہ امریکہ کی مجبوری تھی کہ اس کا ساتھ دینے والے ممالک معاشی طور پر توانا رہیں تاکہ اشترا کی تصورات ان کے عوام کو متاثر نہ کر سکیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں غیر معمولی ترقی کرنے کے باعث امریکا سب سے پہلے ایٹم بم بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ اس خطرناک ہتھیار کی تیاری کا خیال میں غیر معمولی ترقی کرنے کے باعث امریکا سب سے پہلے ایٹم بم بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ اس خطرناک ہتھیار کی تیاری کا خیال اسے جاپان کے پرل ہاربر پر حملے سے آیا تھا جو اس نے ۱۹۴۱ءمیں کیا تھا اور سینکڑوں اور امریکی ہلاک کر دیے تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی کی فوجی طاقت کے مقابلے میں فرانس اور یورپ کے بیشتر ممالک پسپا ہو گئے تھے اور برطانیہ بھی خوفناک بمباری سے ادھ مواد ہو چکا تھا۔ جرمنی کا اتحادی جاپان تھا جو پیش قدمی کرتے ہوئے سنگاپور اور برما تک پہنچ گیا تھا۔ ہندوستان کی طرف اس کی پیش قدمی روکنے کے لیے امریکا نے جاپان کے دو شہروں پر ایٹم بم گرائے جس میں لاکھوں جاپانی ہلاک ہوئے اور جاپان کو اتحادی فوجوں کے سامنے ہتھیار ڈالنا پڑے۔ اس طرح طاقت کا توازن امریکا کے ہاتھ میں چلا گیا اور برطانیہ کو بتدریخ اپنی تمام نو آبادیات سے دستبردار ہونا پڑا۔ تاریخ کا دھارا ایکسر تبدیل ہو چکا تھا۔

دوسری جنگ عظیم میں امریکا اور سوویت یونین سپر پاور کے طور پر ابھرے۔ یہ دونوں عالمی طاقتیں دو مختلف اور متصاد نظریہ حیات سے وابستہ تھیں۔ امریکا آزاد معیشت اور جمہوری اقدار کا حامی جبکہ سوویت یونین اشترا کی نظریات کا علمبردار اور فوجی انقلاب کے ذریعے اسے دوسرے ملکوں میں برآمد کرنے کے لیے حد درجہ مستعد تھا۔ پھر ایک وقت ایسا آیا جب سوویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی کے اندر کرپشن سرطان کی طرح پھیلتی گئی اور داخؒی تضادات پر قابو پانے کے لیے اس نے مہم جوئی کا راستہ اختیار کیا اور دسمبر ۱۹۷۹ءکی ایک رات افغانستان میں اپنی فوجیں داخل کر دیں۔ ہمسائے ملک پر غیر ملکی فوجوں کی یلغار پاکستان کی سلامتی کے لیے بہت بڑا سنگین چیلنج تھی جس کا جنرل ضیاءالحق اور ان کی ٹیم نے ایک ویژن اور کمال حکمت عملی سے مقابلہ کیا۔ سب سے پہلے امہ کی حمایت حاصل کی جس کے باعث پوری آزاد دنیا کو ان کا ساتھ دینا پڑا۔ جہاد افغانستان دس برسوں پر محیط رہا اور سوویت یونین کو ذلت آمیز شکست سے دوچار ہو کر افغانستان سے جانا پڑا۔ یہ انسانی تاریخ کا بہت بڑا واقعہ تھاجس نے حالات کا دھارا ایکسر بدل ڈالا تھا۔

اب امریکا اپنے آپ کو پوری دنیا کا حکمران سمجھنے لگا تھا اور اس نے ایک نیا ورلڈ آرڈر بھی جاری کر دیا تھا، لیکن پاکستان جس نے ہزار خطرات مول لے کر ان گنت آزمائشوں سے گزر کر افغانستان کو روسی فوجوں سے نجات دلائی تھی اس نے اس کی طرف آنکھیں پھیر لیں اور اس پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کر دیں۔ اس پر پاکستانی قیادت نے غیر معمولی صبرو تحمل سے کام لیا اور اپنی ساری توجہ ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے پر مرکوز رکھی۔ نواز شریف نے بھارت کی طرف سے پانچ ایٹمی دھماکوں کے جواب میں دو ہفتوں بعد چھ دھماکے کر ڈالے، حالانکہ امریکی صدر انہیں باز رکھنے کی ہر تدبیر آزماتے اور اربوں ڈالروں کی پیش کش کرتے رہے۔ مئی ۱۹۹۹ءمیں جنرل پرویز مشرف نے حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا اور کے بعد نیو یارک میں نائن الیون وقوع پذیر ہوا۔ سارا الزام اسامہ بن لادن پر لگا جو اس وقت افغانستان میں تھے۔ طالبان حکومت نے آداب مہمان نوازی کے مطابق انہیں امریکا کے حوالے کرنے سے انکار کیا جس پر سلامتی کونسل نے افغانستان کے خلاف طاقت استعمال کرنے کا حکم صادر کر دیا۔ جنرل پرویز مشرف نے اتحادی افواج کو افغانستان پر حملہ آور ہونے کے لیے عوام کو اعتماد میں لیے بغیر، جملہ سہولتیں فراہم کیں اور نیٹو افواج نے افغانستان کی اینٹ سے انیٹ بجا دی۔ امریکی صدر نے جنرل مشرف کے ساتھ ملاقات میں یقین دلایا کہ اسٹریٹیجک پارٹنر شپ اس بار بہت پائیدار ثابت ہو گی، مگر صدر کلنٹن اور صدر اوباما بھارت کی طرف جھکتے آئے اور اسے جنوبی ایشیا کا تھانے دار بنانے کے عملی اقدام اٹھائے رہے۔ ساتھ ہی ساتھ پاکستان کو طفل تسلیاں دینے کا سلسلہ بھی جاری رکھا کہ ہم اس کی دوستی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے اور اس کے تعاون کو بڑی مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران صاف صاف کہ دیا تھا کہ میں کامیابی کی صورت میں بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات کو اہمیت دوں گا اور اسرائیلی موقف کی پوری قوت سے حمایت کروں گا۔ ان کی غیر متوقع کامیابی نے ان کی نفسیات میں ایک زبردست ارتعاش پیدا کر دیا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ پوری دنیا پر حکم چلا سکتے اور اپنا ہدف حاصل کرنے کی پوری پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ دماغ کے اسی خلل نے انہیں یہ اعلان کرنے کی ترغیب دی کہ ہم بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہیں اور وہاں اپنا سفارت خانہ منتقل کر رہے ہیں۔

سلامتی کونسل میں یہ اعلان زیر غور آیا تو چار مستقل اور دس غیر مستقل ارکان کی طرف سے شدید مخالفت ہوئی۔ اس کے بعد جنرل اسمبلی میں مصر نے امریکا کے خلاف قرار داد پیش کی جس پر پاکستان، ترکی اور یمن نے بھی دستخط کیے تھے۔ اس پر امریکا نے اپنے سفارت خانوں کے ذریعے اقوام متحدہ کے ارکان کو خطوط بھیجے اور امریکی خاتون سفیرنکی ہیلے نے رعونت بھرے لہجے میں دھمکی دی کہ ہم ان ممالک کے نام نوٹ کریں گے جو قرارداد کے حق میں ووٹ دیں گے، ان کی امداد کم یا ختم کر دی جائے گی۔ ان تمام دھمکیوں کے باوجود ۱۲۸ ممالک نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیے۔ اس پر امریکی صدر نے بڑی بے نیازی سے کہا’ ہمیں اس کی ذرا پروا نہیں۔‘ امریکی سفریر نکی ہیلے نے یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ ہمارے پیسوں سے چل رہی ہے اور ہم اس کی امداد میں بھی تخفیف کر سکتے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکا نے اقوام متحدہ کے بجٹ میں ۲۸۵ بلین ڈالر کی کمی کر دی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ صدر ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف دنیائے عرب کی طرف سے غیر معمولی رد عمل نہیں آیا اور او آئی سی میں بھی زور دار تقریروں کے سوا کوئی ٹھوس لائحہ عمل طے نہیں کیا گیا۔(جاری ہے)

یہ بھی دیکھیں

ماسکو کے ممکنہ انتقام سے اسرائیل خوفزدہ

(تحریر: محمد بابائی) ماسکو کا موقف ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے ایک دشمنی پر ...