پیر , 24 ستمبر 2018

آل سعود اور آل الشیخ کے درمیان تعلقات اور اتحاد کا آخر کیا بنا؟

(تسنیم خیالی!)
سعودی عرب میں نظام حکومت 2 قبیلوں پر قائم ہے، آل سعود اور آل الشیخ، دونوں قبائل کے درمیان ایک اتحاد اور ہم آہنگی قائم ہے، آل سعود کا کنٹرول سیاسی معاملات پر ہے جبکہ آل الشیخ (جو کہ وہابیت کے بانی محمد بن عبدالوہاب کی آل و اولاد ہیں) کا دینی معاملات پر کنٹرول ہے، اس اتحاد اور ہم آہنگی کی وجہ سے سعودی عرب میں لگاتار 8 دہائیوں سے بھی زائد عرصے میں عبدالعزیزآل سعود کی بادشاہت چلی آ رہی ہے۔طویل عرصے سے عبدالعزیز آل سعود اور آل الشیخ اس اتحاد پر مضبوطی سے چلے آ رہے ہیں، ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیتے آ رہے ہیں اور ایک دوسرے کی کبھی مخالفت نہیں کی۔

مگر دور حاضر میں شہزادہ محمد بن سلمان کے ولی عہد بننے کے بعد موصوف نے سعودی عرب میں ’’اصلاحات‘‘ کا آغاز کیا ہے جس کی وجہ سے ممکن ہے کہ آل سعود اور آل الشیخ کے درمیان قائم اتحاد میں دراڑیں پڑ جائیں کیونکہ بن سلمان کی ’’اصلاحات‘‘ میں نوجوانوں اور خواتین کے بہت سے معاملات میں وہابیت کی روح کے برعکس ’’اصلاحات‘‘ کی جا رہی ہیں۔

بن سلمان کے بقول وہ ’’معتدل اسلام‘‘ لانا چاہتے ہیں، بن سلمان نے سعودی عرب میں حال ہی میں خواتین کو بہت سے حقوق دیئے ہیں جسکی وجہ سے آل الشیخ کے مفتیوں کے فتوے بے کار ہو چکے ہیں، علاوہ ازیں شاہ سلمان نے بھی شاہی فرمان جاری کرتے ہوئے ’’امربالمعروف و نہی عن المنکر‘‘ کمیٹی کےاختیارات کم کر دیے ہیں اور اس کمیٹی کو شہریوں کے ذاتی معاملات اور زندگی میں دخل اندازی سے سخت منع کر دیا ہے، انہی وجوہات کی بناء پر آل سعود اور آل الشیخ کا اتحاد خطرے میں پڑ گیا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اس اتحاد کا انجام کیا ہو گا اور کس قسم کی صورتحال متوقع ہے؟
نمبر 1۔ پہلی صورت یہ ہے کہ وہابیت بن سلمان کی ’’اصلاحات‘‘کے ڈھانچے میں ڈھل جائے، جس کی بناء پر سعودی عرب میں وہابیت کی ایک نئی صورت جنم لے سکتی ہے۔

نمبر2۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ وہابی علماء صبر کا دامن تھام کر بن سلمان اور انکے ’’اصلاحات‘‘ کو برداشت کریں جب تک کہ نیا ولی عہد یا بادشاہ اقتدار میں نہیں آتا جو وہابیت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔

نمبر 3۔ اس صورت میں یہ ممکن ہے کہ آل الشیخ آل سعود کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے ہتھیار اٹھالیں جس طرح 1979ء میںجہیمان العتیبی نے کیا اور یوں بن سلمان کی اصلاحات کے مخالف مفتی اور وہابیت کے علماء آل سعود کے دشمن بن جائیں۔

نمبر 4۔ اس صورت میں ممکن ہے خود وہابیوں کے درمیان کے درمیان اختلافات پیداہوں اور وہ دو حصوں میں بٹ جائیں ایک حصہ بن سلمان کی ’’ اصلاحات‘‘ کا حامی اور دوسرا مخالف۔

یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہو گا کہ وہابیت میں گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ کئی تبدیلیاں آئیں، آج ہم سعودی عرب میں ایک ’’حکومتی وہابیت‘‘ کو دیکھ رہے ہیں اور وہابیت کے مفتی وہ سب کچھ کر رہے ہیں جسکے ذریعے سیاسی عہدے اور فوائد حاصل ہوں اس لیے سعودی عرب میں ہونے والی تبدیلیوں کے خلاف وہابی مفتیوں کی طرف سے کوئی خاص رد عمل سامنے نہیں آیا اس بناء پر زیادہ تر امکان یہی ہے کہ سعودی عرب کے وہابی مفتی اور علماء دین پہلی اور دوسری صورت حال پر عمل کریں، یعنی سعودی عرب کے وہابی بن سلمان کی تبدیلیوں کو اپناتے ہوئے بن سلمان کے جانے کا انتظار کریں، انہی اصولوں پر وہابیت 8 دہائیوں سے عمل درآمد کرتی آ رہی ہیں اور اسکی واضح مثال یہ ہے کہ سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ملنے پر سعودی علماء کونسل نے واہ واہ کرتے ہوئے اسکے اقدام کا خیر مقدم کیا، یہ وہی علماء ہیں جو دہائیوں سے خواتین کی ڈرائیونگ کو حرام قرار دیتے آ رہے تھے۔

یہ بھی دیکھیں

سفارتکاری کی نزاکتوںکو سمجھئے حضور!

(حیدر جاوید سید) گھمسان کے ’’رن‘‘ اور زبان درازیوں سے اٹے ماحول میں بصد ادب ...