جمعرات , 13 دسمبر 2018

ٹیلرسن کی لبنان میں بے عزتی اور امریکہ کا اس بے عزتی کا جواب

(تسنیم خیالی)
امریکی وزیر خارجہ نے حال ہی مشرق وسطیٰ کے چار ممالک کا دورہ کیا ہے جن میں سے ایک ملک لبنان بھی تھا، لبنان میں ٹیلرسن کو دو موقعوں پر بے عزتی کا سامنا ہو جس میں پہلے تو لبنان کے وزیر خارجہ نے ٹیلرسن کا استقبال نہیں کیا جبکہ دوسری بے عزتی لبنان کے صدارتی محل میں اس وقت ہوئی جب ٹیلرسن کو لبنانی صدر میشال عون کا چند منٹ انتظار کرنا پڑا۔

ویسے تو عالمی طور سفارتی آداب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کسی بھی شخصیت کو دوسرے کا انتظار نہیں کرنا پڑتا، کیونکہ تمام شیڈول پہلے سے طے ہوتے ہیں اور دونوںاطراف اس پر سختی سے عمل کرتے ہیں، دوسری بات یہ ہےکہ دورہ کرنے والی شخصیت کا استقبال اسکے ہم منصب نے کرنا ہوتا ہے اور ٹیلر سن کے دورے کے موقع پر استقبال لبنانی وزیر خارجہ نے کرنا تھا۔

مگر لگتا ہے کہ لبنانیوں نے امریکہ کےاسرائیل کی طرف جھکائو کے خلاف احتجاجاً سفارتی رسومات کو توڑا ،ٹیلرسن کے دورے کا مقصد دراصل لبنان کو اس بات پر قائل کرنا کہ وہ اسرائیل کو لبنان کے ساتھ جڑی سرحد پر سرحدی دیوار تعمیر کرنے سے نہ روکے ، البتہ لبنانی بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ اسرائیل کو یہ سرحدی دیوار ہر گز تعمیر نہیں کرنے دیں گے خواہ اس کے لئے انہیں جنگ ہی کیوں نہ لڑنی پڑے۔

لہٰذا لبنانیوں نے سرحدی دیوار کے حوالے سے امریکی موقف پر احتجاجاً سفارتی پروٹوکول کو توڑا اور ٹیلر سن کی ’’سفارتی انداز‘‘ میں بے عزتی کر دی۔ٹیلر سن نے بھی لبنان سے جاتے جاتے اس بے عزتی کا جواب لبنانیوں کو ’’سفارتی انداز‘‘ میں ہی دیا، ٹیلر سن کی لبنانی صدر میشال عون اور لبنانی وزیر اعظم سعد الحریری سے ملاقات کے بعد ان کی ملاقات لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نےنبیہ بری سے ہوئی اس ملاقات کے لئے 20 منٹ کا وقت طے تھاجس کے بعد ٹیلر سن نے اپنے لبنانی ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرنی تھی۔

مگر امریکیوں نے سفارتی رسومات کی بناء پر بری سے ملاقات کے دورانیہ کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا اور 20 منٹ کی یہ ملاقات ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی جس کے بعد ٹیلر سن لبنانی وزیر خارجہ کے ساتھ پریس کانفرنس کیے بغیر ہی لبنان سے روانہ ہو گئے، (کیونکہ پریس کانفرنس کے لئے مقررہ وقت ہی ختم ہو گیا تھا) واضح رہے کہ لبنان آنے سےقبل ٹیلر سن مصر اور اردن کے دورے پر تھے جہاں انہوں نےمصری اور اردنی وزراء خارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کی تھی اس بناء پر ماہرین کا کہنا ہے کہ لبنان میں لبنانی وزیر خارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس نہ کر کے ٹیلر سن نے لبنانیوں کے ہاتھوں ہونے والےبے عزتی کے جواب میں ایسا کیا ہے۔

اصولی طور پر دیکھا جائے تو کسی بھی ملک کو سفارتی رسومات اور پروٹوکولز کو توڑنا نہیں چاہئے اور ان رسومات پر سختی سے عمل کرنا چاہئے خواہ آنے والا مہمان کوئی بھی ہو، البتہ یہاں واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ اس سب کی ذمہ دار خود امریکہ حکومت ہے جو عرصہ دراز سے غلط پالیسیاں اپناتے ہوئے اسرائیل کا اس قدر ساتھ دے رہا ہے کہ علاقے کے دیگر ممالک بھی اب تنگ آ چکے ہیں کیونکہ ان امریکی پالیسیوں کی وجہ سے صرف اور صرف اسرائیل کے مفادات کو تحفظ دیا جا رہا ہے اور باقی ممالک کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

آخر میں آپ سب کو یہ جان کر شاید خوشی ہو کہ امریکہ میں وزیر خارجہ کا منصب تمام وزراء میں سب سے طاقتور اور اعلیٰ وزارت ہوتی ہے جس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ لبنانیوں نے کیا کیا ہے؟

یہ بھی دیکھیں

کیا بی جے پی کی شکست مودی دور کا خاتمہ ثابت ہو گی؟

(سید مجاہد علی) بھارت میں تین اہم ریاستوں راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں ...