پیر , 24 ستمبر 2018

امریکی انتقام سے حماس کا موقف کمزور نہیں ہوگا: فوزی برھوم

مقبوضہ بیت المقدس (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے امریکی حکومت کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں اور جماعت کی قیادت کو بلیک لسٹ کرنے کے اقدامات کو مسترد کردیا ہے۔

حماس کے ترجمان فوزی برھوم نے امریکی ایوان نمائندگان سے حماس کے خلاف پابندیوں کے بل کی منظوری کی شدید مذمت کی ہے۔

حماس کے ترجمان فوزی برھوم نے کہا کہ صہیونی ریاست فلسطینی عوام کے خلاف منظم ریاستی دہشت گردی کی مرتکب ہے، حماس اپنے قوم کے دفاع کے لیے کام کررہی ہے۔ جماعت پر شہریوں کو انسانی ڈھال کے طورپر استعمال کرنے کا الزام بے بنیاد اور من گھڑت ہے۔

انہوں نے کہا کہ حماس پر شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور استعمال کرنے کا امریکی الزام صہیونی ریاست کے موقف کو آگے بڑھاتے ہوئے صہیونی فوج کے فلسطینیوں کے خلاف وحشیانہ جرائم کی پردہ پوشی اور اسرائیل کے موقف کو آگے بڑھانے کی کوشش ہے۔ حماس امریکا اور اسرائیل گٹھ جوڑ کے دباؤ میں نہیں آئے گی بلکہ امریکی انتقامی کارروائیاں حماس کو قوم کے دفاع کے عزم کو مزید مضبوط کریں گی۔

فوزی برھوم نے کہا کہ فلسطینیوں کی امداد بند کرنا، بیت المقدس کو صہیونی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کرنا اور تل ابیب سے امریکی سفارت خانہ القدس منتقل کرنے اور اسماعیل ھنیہ کو بلیک لسٹ کرنے کے اقدامات فلسطینیوں کے خلاف امریکاکی انتقامی پالیسی کا حصہ ہیں۔

خیال رہے کہ جمعرات کو امریکی ایوان نمائندگان میں پیش کردہ بل میں الزام عاید کیا گیا ہے کہ حماس شہریوں کو انسانی ڈھال کےطورپراستعمال کرتی رہی ہے۔ بل میں کہا گیا ہے کہ شہریوں کو انسانی ڈھال کے طورپر استعمال کرنا دہشت گردی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ حماس شہریوں کو جنگ کے دوران انسانی ڈھال بنا کر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی ہے۔

بل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ میں اپنے ہائی کمیشن کو حماس پر مزید عالمی پابندیاں عاید کرانے کے لیے احکامات صادر کریں۔

امریکی ایوان نمائندگان سے منظوری کے بعد یہ بل سینٹ میں پیش کیا جائے گا اور آخر میں صدر کی منظوری کے بعد اسے عملی شکل دی جائے گی۔

یہ بھی دیکھیں

نواز شریف نے ایک مرتبہ پھر آصف زرداری سے مدد مانگ لی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) متحدہ اپوزیشن کے لئے مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی سے ...