منگل , 25 ستمبر 2018

صہیونیوں کی نظر صرف بیت المقدس پر نہیں،مکہ پر بھی ہے

(تسنیم خیالی)
سابق ایرانی سپریم لیڈر امام خمینیؒ نے اپنے دور میں اسرائیلی ریاست کو کینسر کے پھوڑے سے مشابہت دی تھی،آج اسرائیلی ریاست کی حرکتوں اور زمینوں پر قبضے کو دیکھ کر اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ امام خمینیؒ نے کس قدر صہیونی ریاست کا دقیق تفصیل بیان کیا تھا۔صہیونیوں کے اطماع صرف بیت المقدس تک محدود نہیں،بلکہ ان کے سازشوں کا دائرہ قبلہ مسلمین مکہ مکرمہ تک جا پہنچتا ہے۔

’’آفی لیبکن‘‘ نامی صیہونی مورٔخ ’’مکہ کے لیے واپسی‘‘ نامی اپنی کتاب میں صیہونی ریاست کا ایک نیا نقشہ پیش کررہے ہیں اور وہ بھی اس بنیاد پر کہ بنی اسرائیل ہی جزیرہ نما عرب کے اصل باس ہیں اور اسرائیلیوں کو اپنی یہ زمینیں پھر سے حاصل کرنی چاہیے اور یہ اسرائیلیوں کا حق ہے۔لیبکن کے پیش کردہ نقشے کے مطابق فلسطینی سرزمین صیہونی ریاست کا صرف شمالی حصہ ہے ،نقشے کے مطابق یہ ریاست لبنان سے سعودی عرب تک پھیلی ہوئی ہے،جبکہ مشرق سے دریائے فرات اور مغرب سے مصر کے بعض اجزاء اور بحیرہ روم و بحیرہ احمر کے حصے اس ریاست میں شامل ہے۔

لیبکن کے مطابق اسرائیلی حکومت کو چاہیے کہ وہ سعودی عرب میں چلنے والی اپوزیشن تحریکوں سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے مقاصد کو حاصل کر لے ،لیبکن کے بقول ’’عرب بہار‘‘کی لہر سعودی عرب تک پہنچنی چاہیے تب آل سعود امریکہ اور اسرائیل سے مدد طلب کرے گا اور یہی وہ موقع ہوگا جس کے ذریعے مکہ پر کنٹرول حاصل ہوسکے گا۔

موجودہ وقت میں دیکھا جائے تو سعودی عرب اسرائیل کو خود دعوت دے رہا ہے کہ وہ اپنے استعماری منصوبے پر عمل کرے اور مکہ پر قابض ہوجائے ،سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ خفیہ طور پر انتہائی گہرے تعلقات موجود ہیں اور سعودی عرب اسرائیل کا کئی مواقع پر ساتھ دے چکا ہے جس کی وجہ سے صیہونی ریاست کا وجود مزید مستحکم ہوا۔

اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات کے حوالے سے بے شمار دستاویزات منظر عام پر آچکی ہیں اور اب تو خود سعودی حکام بھی کھلم کھلا کئی مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل سعودی عرب کا دشمن نہیں بلکہ ایک غیر اعلان کردہ اہم اتحادی ہے۔

دور حاضر میں یمن مزاحمتی تحریک انصاراللہ کے سربراہ سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے بھی اپنی ایک تقریر میں مسلمانوں کو مکہ اور مدینہ کے خلاف اسرائیلی سازش سے آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے مسلمانوں کے آپسی اختلافات سے استفادہ کر رہا ہے اور اگر مسلمان اسی طرح ایک دوسرے کے دشمن بنے رہے تو اسرائیل کا مکہ اور مدینہ پر قبضہ محض وقت کی بات ہوگی اور صیہونی ریاست کے ساتھ تعلقات اور دوستی سے صرف اور صرف اسرائیل اور اس کے استعماری منصوبوں کو ہی فائدہ حاصل ہوگا۔

اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ صیہونی ریاست واقعی میں کینسر کے پھوڑے کی مانند ہے جسے پھیلنے سے روکنے کے لیے مسلمانوں کا آپس میں اتحاد ضروری ہے مگر کیا ہم مسلمان باہمی اختلاف کو ترک کرکے متحد ہونے کے لیے تیار ہیں؟

یہ بھی دیکھیں

ماسکو کے ممکنہ انتقام سے اسرائیل خوفزدہ

(تحریر: محمد بابائی) ماسکو کا موقف ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے ایک دشمنی پر ...