منگل , 25 ستمبر 2018

آل سعود کی مالدیپ پر ڈالروں کی اور یمن پر بموں کی بارش؛ آخر ماجرا کیا ہے ؟

آل سعود کی جانب سے اپنے سے کوسوں دور اقتصادی مشکلات سے دوچار البتہ پرامن ملک مالدیپ پر ڈالروں کی بارش جبکہ اپنے ہمسایہ اور غریب ترین عرب ملک یمن پر بموں کی بارش کے پیچھے دراصل کیا مقاصد ہوسکتے ہیں؟

دنیا بھر بالخصوص مسلمان ممالک میں وہابی نظریات کی ترویج کیلئے پیٹرو ڈالر کا استعمال آل سعود کا نیا نہیں بلکہ پرانا وطیرہ ہے جس کے باعث مملکت خداداد پاکستان کی حالت دنیا پر عیاں ہے۔

آل سعود نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں وہابی نظریات کی پرچار کی خاطر ہزاروں مدارس کی بنیاد ڈالی اور اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کرتے ہوئے اس کا خمیازہ آج پاکستانی قوم شیعہ سنی تفرقے کے تحت بھگت رہی ہے۔

خبر سامنے آئی ہے کہ سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز نے مشکلات میں پھنسے ایک مسلمان ملک پر نوٹوں کی بارش کر دی ہے اور یہ ملک یمن نہیں بلکہ مالدیپ ہے۔

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق شدید مالی مشکلات کے شکار مالدیپ کو مختلف منصوبوں کی مد میں سعودی عرب نے 16کروڑ ڈالر (تقریباً 16ارب روپے) کی خطیر رقم دے دی ہے۔

اس امداد پر سعودی عرب میں تعینات مالدیپ کے سفیر عبداللہ حمید نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "میں شاہ سلمان، ولی عہد شہزاد محمد بن سلمان اور سعودی عرب کے عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس مشکل وقت میں میرے ملک کا ساتھ دیا اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی معاونت فراہم کی۔”

رپورٹ کے مطابق اس سے قبل بھی سعودی عرب مالدیپ کو کروڑوں ڈالرز کی مالی امداد دے چکا ہے۔ اس سے پہلے 10کروڑ ڈالر(تقریباً10ارب روپے) ایک ایئرپورٹ کی تعمیر کے لیے جبکہ 8کروڑ ڈالر (تقریباً8ارب روپے) ہلہومیلے نامی شہر کی ڈویلپمنٹ کے لیے دیئے گئے۔

سعودی فنڈ فار ڈویلپمنٹ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ "سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات مالدیپ میں ہونے والے حالیہ واقعات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ہمیں مالدیپ کے عدم استحکام اور ناقص سکیورٹی صورتحال پر سخت تحفظات لاحق ہیں۔ تاہم یہ بات زیر غور رہے کہ یہ مالدیپ کے اندرونی معاملات ہیں۔”

ان اندرونی معاملات پر مالدیپ کے سفیر کا کہنا تھا کہ "امید ہے کہ مالدیپ کا سیاسی عدم استحکام مذاکرات کے ذریعے پرامن طریقے سے حل ہو جائے گا اور اس کے لیے کسی بیرونی مداخلت کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اس وقت ملک میں ایمرجنسی نافذ ہے جو آئینی طور پر صرف 15دن تک رہ سکتی ہے۔ اس کے بعد اگر پارلیمنٹ اس کی مدت نہ بڑھائے تو یہ خودبخود ختم ہوجائے گی۔”

واضح رہے کہ آل سعود کے اپنے ہمسایہ مسلمان اور غریب ترین ملک پر مسلسل بمباریاں اور اپنے سے کوسوں دور ایک اور مسلمان ملک کو مالی امداد فراہم کرنا کسی خاص مقصد کے تحت ہورہا ہے۔

مشرق وسطی پر گہری نظر رکھنے والے سیاسی ماہرین کے مطابق آل سعود یمن میں اہل تشیع کی سرکوبی کی خاطر بے گناہ مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں بالکل اسی طرح جس طرح انہوں نے اپنے ہی ملک کے العوامیہ شہر میں شیعوں کیخلاف ظالمانہ کریک ڈاون کیا۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ سعودی عرب نے اس سے قبل ملائیشیا میں شیعہ اثنا عشری مکتب کو ایک منحرف مذہب کے طور پر تعارف کروایا تھا جس کے سبب یہ ملک عدم استحکام کا باعث بنا تھا جبکہ اس خطے کے دیگر ممالک مثال کے طور پر انڈونیشیاء میں وہابی تکفیری نظریات کے حامل افراد کو اکٹھا کرنا اور ان کو شیعوں کیخلاف بھڑکانا بھی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔

یاد رہے کہ آل سعود پاکستان، افغانستان اور مشرق وسطیٰ کے بعض ممالک کے بعد اب مالدیپ، انڈونیشیا اور ملائیشیا میں وہابی تکفیری نظریات کو پروان چڑھانے کی تیاریوں میں مصروف ہے جبکہ مسلمانان جہان ان کی تقلید کرتے ہوئے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔بشکریہ تسنیم نیوز

یہ بھی دیکھیں

ماسکو کے ممکنہ انتقام سے اسرائیل خوفزدہ

(تحریر: محمد بابائی) ماسکو کا موقف ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے ایک دشمنی پر ...