پیر , 10 دسمبر 2018

جب تک؟

(ظہیر اختر بیدری)
جلسے جلوس جمہوری روایات کا حصہ ہوتے ہیں۔ لیکن اگر جلسے جلوسوں کو ہی جمہوریت کی پہچان اور بنیاد بنادیا جائے تو اسے جمہوریت کے ساتھ ایک مذاق کے علاوہ کیا کہا جاسکتا ہے۔ پاکستان سر سے پیر تک ایک دلچسپ مذاق بنا ہوا ہے، ہمارا جلسوں جلوسوں کا کلچر اسی مذاق کا حصہ بن کر رہ گیا ہے۔

ہماری سیاست ہماری جمہوریت میں جلسوں کو سیاسی طاقت کا مظاہرہ کہا جاتا ہے اور میڈیا میں جلسے ایسی سرخیاں بنی رہتی ہیں۔ اب تو جلسوں کو سیاسی طاقت کے حوالے سے پہچانا جانے لگا ہے بلکہ ہمارے محترم سیاستدان لاکھ دو لاکھ عوام کو مختلف حوالوں سے جمع کرکے اور ان سے کسی مسئلے پر ہاں یا ناں کہلوا کر بڑی ڈھٹائی سے یہ فرماتے ہیں کہ ’’یہ ملک کے 20 کروڑ عوام کا فیصلہ ہے‘‘ اور حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ اس لاکھ دو لاکھ کے ہجوم کے بے عقلانہ فیصلوں کے ذریعے ملک کے بعض اہم ترین اداروں کے فیصلوں کو اس طرح مسترد کردیا جاتا ہے، جیسے یہ ادارے غیر اہم یا معمولی اہمیت رکھنے والے ادارے ہوں۔

آج کل جلسوں کی لازمی ضرورت لاکھ سوا لاکھ کرسیاں ہوتی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قدر بھاری تعداد میں ہائر کی جانے والی کرسیوں کا کرایہ کس قدر ہوتا ہے؟ اس کے علاوہ عوام کو ٹرانسپورٹ فراہم کرنے ان کے کھانے پینے کا اہتمام کرنے اور بعض صورتوں میں انھیں دیہاڑی ادا کرنے اور جلسوں کی دوسری ضروریات پوری کرنے پر جس میں پبلسٹی پر خرچ ہونے والی بھاری رقوم بھی شامل ہوتی ہیں، کروڑوں کا خرچ بیٹھتا ہے اور یہ بھاری خرچ بلاشبہ کروڑ پتی اور بعض صورتوں میں ارب پتی سیاستدان ہی برداشت کرسکتے ہیں، ان حربوں سے بھاری مجمعے جمع کرنے والے سیاستدانوں کو مقبول عوام سیاستدانوں کا نام دیا جاتا ہے۔ پچھلے تقریباً ایک عشرے سے یہ کلچر ہماری سیاست کا اہم حصہ بنا ہوا ہے۔

ہمارا معاشرہ ابھی تک نیم قبائلی نیم جاگیردارانہ معاشرہ ہے یہاں پر انھی معاشرتوں کے قاعدے قانون اور روایات موجود ہیں اور ان روایات میں سیاسی پارٹیوں کے منشور سیاسی جماعتوں کے طبقاتی کردار سے نہ عوام واقف ہوتے ہیں نہ ان سے عوام کو کوئی غرض ہوتی ہے ہمارے انتخابات میں ذات برادری زبان قومیت جیسے عوامل کا بڑا دخل ہوتا ہے، اس کلچر کی گہرائی کا عالم یہ ہوتا ہے کہ ان حوالوں سے بدنام زمانہ لوگ عوام کے امیدوار اور نمایندے بن کر انتخابات لڑتے ہیں اور سرمایہ کاری کے حوالوں سے انتخابات جیت کر اپنا لگایا ہوا سرمایہ سو گنا زیادہ وصول کرنے کی دھن میں اس قدر مگن ہوتے ہیں کہ عوام کے مسائل ان کی نظروں سے حرف غلط کی طرح ہٹ جاتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی وجوہات ہیں جس کے نتیجے میں 70 سال سے عوامی مسائل جوں کے توں ہیں بلکہ آئے دن ان میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔

آج کی دنیا پروپیگنڈے اور پبلسٹی کی دنیا ہے اور ہماری سیاست انھی عناصر پر چل رہی ہے، جب تک الیکٹرانک میڈیا عام نہیں تھا عوام سیاستدانوں کے پروپیگنڈے سے اس لیے متاثر نہیں ہوتے تھے کہ ان میں 80 فیصد سے زیادہ لوگ ناخواندہ ہوتے تھے اور اخبارات پڑھنے سے معذور تھے، صرف ایک سرکاری ٹی وی ہوتا تھا جو سرکار کا بھونپو بنا رہتا تھا، پرائیویٹ چینلز نہ ہونے کی وجہ سے اپوزیشن کا ویو پوائنٹ یا نظریات عوام تک نہیں پہنچتے تھے۔

سابق آمر اور جمہوریت کے دشمن بلکہ قاتل آمر جنرل (ر) پرویز مشرف نے ’’جمہوریت دشمنی‘‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ چینلوں کی منظوری دے دی اور ملک بھر میں مشروم کی طرح چینل اگ آئے اور مقابلے کا ایسا رن پڑا کہ عوام کے لیے سچ جھوٹ غلط صحیح میں تمیز کرنا یا فرق کرنا مشکل ہوگیا ہے۔

جلسوں کی تصویری رپورٹنگ منٹوں کے اندر عوام تک پہنچتی ہے چونکہ جلسوں کو بڑا یا چھوٹا دکھانے کی تیکنیک چینلوں کے پاس ہوتی ہے لہٰذا وہ جس کے جلسے کو چاہیں بڑا دکھا سکتے ہیں جس کے جلسے کو چاہیں چھوٹا دکھا سکتے ہیں۔ یہ ’’صوابدیدی اختیار‘‘ چینلوں کے پاس ہوتا ہے اور بڑی آسانی سے اس ٹرک کے ذریعے عوام کو متاثر کیا جاسکتا ہے۔

بلاشبہ جلسوں کی اس جدید تیکنیک کے ذریعے عوام پر اثرانداز ہوا جاسکتا ہے لیکن عوام کو اس بات پر نظر رکھنا چاہیے کہ بار بار اقتدار میں آنے کے باوجود عوام کے مسائل دو فیصد بھی حل نہ کرنے والے عوام کے مسائل حل کرنے کا جلسوں میں اس طرح پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب ملک میں کوئی مسئلہ رہا ہی نہیں۔ اور اس ڈھٹائی سے جھوٹ بولتے ہیں کہ خود جھوٹ بھی شرمندہ ہوکر رہ جاتا ہے۔ جلسوں میں زندہ باد کے دیہاڑی پر نعرے لگوانے والوں کے ایسے تجربہ کار گروہ ہوتے ہیں کہ عوام کے مسترد کردہ رہنماؤں کو بھی مقبول ترین رہنما بنا دیتے ہیں۔

ترقی یافتہ ملکوں میں عوام تعلیم یافتہ بھی ہوتے ہیں سیاسی حوالے سے باشعور بھی ہوتے ہیں۔ اس لیے انھیں جلسوں جلوسوں سے بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا وہ ایک تو امیدوار کے ماضی اور حال کے ساتھ ساتھ اس کی عوامی خدمات سے پوری طرح واقف ہوتے ہیں دوسرا وہ امیدواروں کی پارٹیوں کے منشور سے واقف ہوتے ہیں اس کے علاوہ انتخابی مہم کے دوران کیے جانے والے وعدوں کا ریکارڈ بھی رکھتے ہیں۔ انھی حقائق کی روشنی میں وہ اپنے ووٹ کو استعمال کرتے ہیں اور چونکہ جیتنے والا رہنما ان کے بیچ میں ہوتا ہے اس لیے وعدہ خلافی کی صورت میں اس کا گلا بھی پکڑتے ہیں۔

ہماری سیاسی زندگی کا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں 70 سال سے سیاسی اشرافیہ ہی اقتدار پر قابض ہے اور ملک کی سربراہی کے ساتھ ساتھ وہ سیاسی جماعتوں کی سربراہی بھی اپنے قبضے میں رکھے ہوئے ہے اور یہ سب جمہوریت کے نام پر کیا جا رہا ہے۔

بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے عوام کی ایک بڑی تعداد شخصیت پرستی کے خطرناک مرض میں مبتلا ہے وہ کسی رہنما اور کسی جماعت کو نہیں دیکھتی بلکہ اس کی شخصیت خاندانی وجاہت اور سماجی طمطراق کو دیکھ کر اپنے ووٹ کا استعمال کرتی ہے اسی کلچر کی وجہ سے 70 سال سے ہمارا ملک اشرافیہ کے چنگل میں پھنسا ہوا سسک رہا ہے اور اس دلدل سے نکلنے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

بدقسمتی یہ ہے کہ مڈل کلاس کی جماعتیں اس وحشیانہ عوام دشمن کلچر سے واقف ہوتے ہوئے ہمیشہ اشرافیہ سے ناتا جوڑے رہتی ہیں اور کھل کر اشرافیہ کی عوام دشمنی کے حربوں سے عوام کو واقف نہیں کراتیں۔ اشرافیہ مڈل کلاس کی اس کمزوری سے پوری طرح واقف ہے کہ مڈل کلاس جمہوریت کا اندھا شیدائی ہے وہ 70 سال سے دیکھ رہی ہے کہ جمہوریت کے نام پر اشرافیہ نے ملک میں کھلم کھلا خاندانی راج نافذ کر رکھا ہے۔ اور ان جمہوریت کے عاشقین کو اقتدار کے دودھ سے مکھی کی طرح باہر پھینکا ہوا ہے۔

اگر خاندانی حکمرانیوں کا یہی سلسلہ جاری رہا تو ہماری جمہوریت کی عاشق صارف مڈل کلاس آنے والے 70 سال تک سیاسی ہریجن ہی بنا رہے گا۔ اس کا فرض ہے کہ وہ جلسوں جلوسوں کے کلچر کی حقیقت سے سادہ لوح عوام کو واقف کرائے اور اسے بتائے کہ جب تک وہ اپنی بستیوں اپنے طبقات سے اپنی قیادت نہیں نکالے گی اشرافیہ کی غلام بنی رہے گی۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

کیا عرب اور اسرائیلی ایک دوسرے کو گلے لگا لیں گے؟

اسرائیلی رہنما اکثر کہتے ہیں کہ ان کا ملک ’ایک مشکل محلے‘ میں پھنسا ہوا ...