پیر , 10 دسمبر 2018

پاکستان میں نومولود بچوں کی اموات دنیا میں سب سے زیادہ: یونیسف

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) بچوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے کی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں پاکستان میں نومولود بچوں کی اموات کے لحاظ سے سب سے خطرناک ملک ہے جبکہ اس فہرست میں شامل دس بدترین ممالک میں سے دو جنوبی ایشیا اور آٹھ افریقہ میں صحرائے صحارا کے زیریں علاقے میں واقع ہیں۔یونیسف کا کہنا ہے کہ غریب ممالک میں نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح میں کمی لانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

ادارے کی ایگزیکیٹو ڈائریکٹر ہینریٹا فور نے کہا ہے کہ اگرچہ دنیا میں گذشتہ 25 برس میں پانچ برس سے کم عمر کے بچوں کی موت کی تعداد میں پچاس فیصد کمی ہوئی ہے تاہم ایک ماہ سے کم عمر کے بچوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچانے کے لیے اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب کہ یہ واضح ہے کہ ان ہلاکتوں میں سے اکثریت کو روکا جا سکتا تھا ہم دنیا کے غریب بچوں کی مدد نہیں کر پا رہے ہیں۔

یونیسف کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں پاکستان، افغانستان اور سنٹرل افریقن رپبلک وہ تین ممالک ہیں جہاں نوزائیدہ بچوں کے زندہ رہنے کے امکانات سب سے کم ہیں جبکہ اس کے برعکس جاپان، سنگاپور اور آئس لینڈ میں پیدا ہونے والے بچے اس معاملے میں سب سے زیادہ خوش قسمت ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 2016 کے اعدادوشمار کے مطابق ہر ایک ہزار میں سے 46 یعنی ہر 22 بچوں میں سے ایک پیدائش کے پہلے ہی ماہ میں ہلاک ہوا جبکہ سنٹرل افریقن رپبلک میں یہ شرح 24 میں ایک جبکہ افغانستان میں 25 میں ایک رہی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2016 میں پاکستان میں ایک برس کے دوران دو لاکھ 48 ہزار نومولود بچے ہلاک ہوئے جو کہ دنیا بھر میں ہلاک ہونے والے بچوں کا دس فیصد تھے۔

اس کے برعکس رپورٹ میں دیے گئے اعدادوشمار کے مطابق جاپان میں ہر ایک ہزار ایک سو گیارہ، آئس لینڈ میں ہر ایک ہزار جبکہ سنگاپور میں ہر 909 میں سے ایک بچہ ہی ایک ماہ سے کم عمر میں موت کے منہ میں جاتا ہے۔

یونیسیف کی عہدیدار ولیبالڈ زیک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جاپان کے مقابلے میں پاکستان کو نوزائیدہ بچوں کی ہلاکتوں کے معاملے میں شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایک اہم چیز دیکھ بھال کا معیار ہے اور ایک اور چیز نجی شعبے میں ترقی کا ہونا اور نہ ہونا ہے۔ شہروں میں منتقلی کا رجحان ایک اور ایسا معاملہ ہے جو بہت چیلنجنگ ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر ہم جاپان کو دیکھیں تو حالات مختلف ہیں کیونکہ وہ زیادہ آمدن والا ملک ہے لیکن وہ زیادہ آمدن والے ممالک میں بھی بہت اوپر ہے اور میرے خیال میں اس کی وجہ سیاسی عزم اور تجربہ کار عملہ اور ڈاکٹر بھی ہیں۔‘

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں 2014 کے اعدادوشمار کے مطابق دس ہزار افراد کے لیے 14 طبی ماہرین دستیاب تھے جبکہ افغانستان میں یہ تعداد سات تھی۔

یونیسیف کی عہدیدار کا یہ بھی کہنا تھا کہ غریب ممالک میں ماؤں کو چاہیے کہ وہ کچھ بنیادی اقدامات خود بھی کریں کیونکہ یہ بھی شرحِ اموات میں کمی لانے میں اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

ولیبالڈ زیک نے کہا کہ مائیں ’نوزائیدہ بچوں کو گرم کپڑے میں لپیٹ کر رکھیں۔ اپنے جسم سے انھیں گرمائش دیں اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ انھیں اپنا دودھ پلائیں کیونکہ یہ بھی ان کی بقا کے لیے اہم ہے۔‘

یہ بھی دیکھیں

82 سال پرانا ریکارڈ یاسرشاہ کی جھولی میں گرنے کو تیار

دبئی(مانیٹرنگ ڈیسک) 82 سال پرانا اہم ترین ٹیسٹ ریکارڈ بھی یاسر شاہ کی جھولی میں ...