اتوار , 24 جون 2018

کرپشن الزامات؛ اسرائیلی وزیراعظم کا قریبی ساتھی وعدہ معاف گواہ بن گیا

تل ابیب(مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کا ایک قریبی ساتھی ان کے خلاف کرپشن الزامات میں وعدہ معاف گواہ بننے پر تیار ہوگیا ہے۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے خلاف بد عنوانی کے متعدد معاملات کے حوالے سے تحقیقات ہیں۔ اس سلسلے میں نیتن یاہو کا ایک خاص ساتھی ہی ان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے پر تیار ہو گیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کی کابینہ شلومو فِلبرز وزیر مواصلات کے عہدے پر فائز تھے جنہیں چند روز قبل حراست میں لیا گیا تھا۔ دوران تفتیش فِلبرز اس بات پر راضی ہو گئے ہیں کہ وہ اس مقدمے میں ریاست کی طرف سے بطور گواہ پیش ہوں گے جس میں پولیس نے نجی کمپنی بیزیک ٹیلی کام کے مالکان پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے سرکاری مراعات کے بدلے میں نیتن یاہو کی حمایت میں کوریج کرنے کی حامی بھری تھی۔

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ شلومو فلبر کی جانب سے وعدہ معاف گواہ بننے کے بعد بینجمن نیتن یاہو کے لئے مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے اور اب وہ قبل از وقت انتخابات یا مستعفی ہونے کا اعلان کرسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ بینجمن نیتن یاہو کو اسرائیل کی تاریخ کے طاقت ور ترین سربراہان میں شمار کیا جاتا ہے ، وہ 1996 سے کئی مرتبہ اس عہدے پر فائز رہ چکے ہیں تاہم ان پر الزام ہے کہ انہوں نے مختلف کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے رشوت کے طور پر مہنگے ترین تحائف اور دیگر مراعات حاصل کیں۔

یہ بھی دیکھیں

اسرائیل نے فلسطینیوں کی فصلیں نذر آتش کر دیں

یورو شلم (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل نے غزہ کے جانب سے جلتے ہوئے کاغذی جہازوں کا ...