ہفتہ , 23 جون 2018

پاکستان کیخلاف عالمی پروپیگنڈہ

(طاہر یاسین طاہر )
ہمیشہ کی طرح لکھنے کو کئی ایک موضوعات موجود ہیں۔ عالمی و علاقائی سطح پر پیش آنے والے تیز رفتار واقعات اور داخلی سیاسی ہیجان سب ہی اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ دنیا ایک نئی جنگ میں الجھی ہوئی ہے۔ اس جنگ کا نام دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے اور پاکستان اس جنگ کا فرنٹ لائن اتحادی۔ ہم اس موضوع کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں، بالخصوص ان لمحات میں جب منی لانڈرنگ کے انسداد کے لئے قائم کردہ عالمی نگراں ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اہم اجلاس فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جاری ہے اور اس اجلاس میں پاکستان کو دوبارہ ایسے ممالک کی فہرست میں شامل کئے جانے کی تجویز زیرِغور ہے، جو دہشت گردوں کی مالی معاونت کا عمل روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ پاکستان 2012ء تا 2015ء اس فہرست کا حصہ رہ چکا ہے۔ پھر سے عالمی برادری پاکستان کے خلاف سرگرم ہے۔ دوسری جانب جرمنی کے شہر میونخ میں سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا کردار بےمثال ہے۔ آرمی چیف نے یہ بھی کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ہیں اور افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے ہو رہے ہیں، پاکستان اور افغانستان خود مختار ملک ہیں اور دہشت گردی کو روکنے کے لئے پاک، افغان بارڈر پر بائیومیٹرک سسٹم لگایا۔ اس امر میں کلام نہیں کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے پناہ جانی و مالی قربانیاں دی ہیں۔ عالمی برادری ان قربانیوں کی معترف بھی ہے، مگر بوجہ پاکستان عالمی برادری کو اپنی قربانیوں کے حوالے سے پوری طرح قائل نہ کرسکا، جس کا نتیجہ پیرس اجلاس کے دبائو کی شکل میں سامنے آرہا ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی کی کئی ایک وجوہات ہیں۔ پاکستانی سماج چار دہائیوں سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا سامنا کرتا چلا آرہا ہے۔ دنیا نے تو نائن الیون کے بعد اس آگ کی حدت کو محسوس کیا۔ روس جب افغانستان میں در آیا تو امریکہ نے پاکستان کی مدد سے روس کا زور توڑنے کا منصوبہ بنایا۔ اس منصوبے کی کامیابی کے لئے عرب دنیا سمیت پوری دنیا سے مذہب کے نام پر نوجوانوں کا جمع کیا گیا۔ ان کی فکری، معاشی اور عسکری تربیت کا اہتمام کرکے انہیں مختلف افغان کمانڈروں کے ہاتھ دے دیا گیا۔ اس عالمی فکری رویئے کا پاکستانی سماج پر گہرا اثر پڑا، کیونکہ یہ سب پاکستانی معاشرے میں ہو رہا تھا بلکہ پاکستان کی مدد سے ہی ہو رہا تھا۔ امریکی ڈالر، اسلحہ اور پاکستانی و امریکی اداروں کی پالیسیوں سے افغانستان سے روس کی واپسی ممکن ہوئی۔ اگر افغان یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے “جہادی” جذبے نے روس کو شکست دی تو یہ تاریخی طور پہ ایک ثابت شدہ جھوٹ ہے۔ افغانستان پہ جب بھی کڑا وقت آیا، پاکستان ان کی مدد کو دوڑا، جبکہ پاکستان جب معرض وجود میں آیا تھا تو افغانستان پہلا ملک تھا، جس نے عالمی فورم پر پاکستان کی مخالفت کی تھی۔ ایک مختصر سے کالم میں تاریخ کو سمونا مشکل ہے، البتہ جزئیات کا ذکر کرکے تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔ سماجی علوم کے ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستانی معاشرہ افغان مہاجرین کی آمد سے قبل اس حد تک متشدد اور سماجی پریشانیوں کا شکار نہ تھا۔ ہیروئن، کلاشنکوف کلچر اور انتہا پسندی کو بالخصوص افغان مہاجرین سے مخصوص کیا جاتا ہے۔ اپنی تمام تر ہمدردیوں کے باوجود پاکستان کو افغان قیادت کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

افغانی طالبان کون ہیں؟ کیا ہیں اور ان کا ہدف کیا ہے؟ یہ سب آشکار ہے۔ افغان حکومت کو وہ گرا کر اپنی حکومت بنانا چاہتے ہیں۔ ملک خانہ جنگی کا شکار ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ پاکستان افغان طالبان کو کنٹرول کرے؟ جبکہ وہ اپنے فہم کے مطابق اپنے ملک سے قابض قوتوں کو شکست دینا چاہتے ہیں۔ پاکستان تو خود افغانستان کی طرف سے در اندازی کا شکار ہے۔ آرمی چیف نے بالکل درست کہا کہ اب افغان مہاجرین کو اپنے ملک واپس چلے جانا چاہیے، کیونکہ ان افغان کیمپوں میں بے شک دہشت گرد پناہ لیتے ہیں اور پھر اپنی انہی کمین گاہوں سے پاکستان کی سرزمین کو لہو رنگ کرتے ہیں۔ دہشت گردوں کا پشت بان پاکستان نہیں بلکہ بھارت و افغانستان ہیں۔ بھارت پاکستان کے خلاف تخریب کاری کے لئے افغانستان کی سرزمین استعمال کر رہا ہے۔ افغانستان ان دنوں پاکستان مخالف سرگرمیوں کو اڈا بنا ہوا ہے۔ “را، موساد اور افغان خفیہ ایجنسی” ایک ہی مقصد کے لئے یکجا ہو چکی ہیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ ملا فضل اللہ جو کہ پاکستان کو مطلوب دہشت گرد ہے، اسے افغان حکومت نے اپنے ہاں پناہ دے رکھی ہے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ افغانستان نے ہمیشہ ریاست مخالف عناصر کو اپنے ہاں پناہ دی اور ان کی تربیت کی۔؟

افغان مہاجرین نہ صرف پاکستان کی معیشت بلکہ سماج اور رواج پر بھی بوجھ بن چکے ہیں۔ اشرف غنی کا یہ کہنا کہ ہم دو سال میں افغان مہاجرین کو واپس لے آئیں گے، تاکہ پاکستان کے پاس بہانہ نہ رہے، دراصل اس عالمی ایجنڈے کی زبان ہے، جو سی پیک کے بعد پاکستان کے خلاف ترتیب دیا گیا ہے۔ ورنہ اس سے بڑا جھوٹ اور کیا ہوگا کہ افغانستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے پاکستان ہے؟ حالانکہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی منصوبہ بندی افغانستان میں حکومتی سرپرستی اور بھارتی معاونت سے ہو رہی ہے۔ عالمی برادری اس نکتے پر غور کرے کہ افغانستان میں امن پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف دنیا میں سب سے زیادہ قربانیاں دینے والا ملک ہے، بھلا یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ پاکستان ہی دہشت گردی کے فروغ کا سبب بن رہا ہو؟ یہ پاکستان کے خلاف عالمی پروپیگنڈا ہے۔ اس عالمی پروپیگنڈے کا توڑ سفارتی محاذ پر ہی ممکن ہے۔ پاکستانی سیاسی قوتوں کو داخلی محاذ پر ایک دوسرے سے دست و گریبان ہونے کے بجائے عالمی سفارتی فورمز پر دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کروانے اور پاکستان کے خلاف بے بنیاد افغانی و بھارتی پروپیگنڈے کا توڑ کرنے کے لئے اقدامات اور منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔

یہ بھی دیکھیں

ہتھیار ڈال کر سر تسلیم خم کرنا انصار اللہ کی قاموس میں نہیں پایا جاتا: عطوان

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، عالم عرب کے مشہور صحافی عبدالباری عطوان نے ...