جمعرات , 13 دسمبر 2018

شامی شہرعفرین کی صورتحال،امریکی اسرائیلی خفیہ منصوبے کا حصہ

عرب دنیا کے ایک کہنہ مشق سیاسی تجزیہ نگار اورروزنامہ رائے الیوم کے مدیراعلی نے خبردار کیا ہے کہ شمالی شام کے اسٹریٹجک شہر عفرین میں رونما ہونے والے واقعات تل ابیب اورواشنگٹن کے خفیہ منصوبے کا حصہ ہیں جس کا مقصد علاقے کو غاصب صیہونی حکومت سے لاحق سنگین خطرات سے عوام کی توجہ ہٹانا ہے۔

انہوں نے کہاکہ صیہونی حکومت پورے علاقے کیلئے ایک حقیقی خطرہ ہے اورعفرین میں رونما ہونے والے واقعات روس ،ترکی ،شام اورایران کو کمزور کرنے کیلئے امریکہ اوراسرائیل کا خفیہ منصوبہ ہے۔

انہوں نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کے اس بیان کہ انقرہ کو عفرین سے متعلق سیکورٹی خدشات کو دورکرنے کیلئے دمشق سے براہ راست مذاکرات کرنے چاہئے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ یہ ترکی کیلئے لاروف کی طرف سے ایک قیمتی مشورہ ہے کیو نکہ عفرین میں رونما ہونے والے واقعات شامی تنازعات سے جڑے ہوئے ہیں۔

عطوان نے یاد دہانی کرائی کہ واشنگٹن علاقے میں صیہونی حکومت کا واحد اتحادی ہے اوراس کی علاقائی پالیسی ہمیشہ اسرائیلی مفادات کا دفاع کرنے پر مبنی رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ امریکہ ترکوں ،کردوں اورعربوں کا استحصال کرکے صیہونی حکومت کے مفادات کا دفاع کررہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کے مشورے پر عمل پیرا ہوکر امریکہ واسرائیل کے منصوبوں کو ناکام کیا جاسکتا ہے۔قابل ذکر ہے کہ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخاروا نے گذشتہ جمعرات کو خبردار کیاکہ امریکہ مسلسل کردوں کو بھاری ہتھیار فراہم کررہا ہے ۔

انہوں نے کہاکہ امریکہ نے عراق کے راستے کردوں کو اسلحہ کی نئی کھیپ بھیجی ہے جس سے ترکی حکومت مشتعل ہوئی ہے اورانقرہ کو عفرین میں شاخ زیتون کا آپریشن کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔بشکریہ اللولو ٹی وی

یہ بھی دیکھیں

کیا عرب اور اسرائیلی ایک دوسرے کو گلے لگا لیں گے؟

اسرائیلی رہنما اکثر کہتے ہیں کہ ان کا ملک ’ایک مشکل محلے‘ میں پھنسا ہوا ...