بدھ , 12 دسمبر 2018

امت مسلمہ کی بہادر بیٹی احد التمیمی اسرائیل کی قید میں

(ملک رمضان اسراء)
احد التمیمی کے والد باسم التمیمی کا خصوصی پیغام ای میل کی صورت میں موصول ہوا جسے پڑھتے ہوئے نا چیز کی آنکھوں سے آنسو زار و قطار ٹپکنے لگے۔ میں نے ان سے مزید معلومات کیلئے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر کچھ وجوہات کے پیش نظر بات نہ ہوسکی۔ دراصل یہ پیغام “آواز” نامی تنظیم کے تعاون سے تیار کیا گیا تھا جس کے باسم التمیمی بھی رکن ہیں۔ اس پیغام میں احد التمیمی کی رہائی کیلئے دنیا بھر کے لوگوں سے اپیل کی گئی تھی۔

دراصل کئی ہفتے قبل چند سپاہیوں نے رات کے اندھیرے میں باسم التمیمی کے گھر پر دھاوا بول دیا اور ان کی 16 سالہ بیٹی احد التمیمی کو اٹھا کر قید خانے میں لے گئے جہاں وہ ایک سرد کوٹھڑی میں ڈال دی گئی، کیونکہ اس بہادر بیٹی کے والد اپنی زندگی عوامی مزاحمت اور آزادی حقوق کی جدوجہد کیلئے وقف کرچکے ہیں۔ اس لیے اسرائیلی فوج ان پر دبائو ڈال رہی ہے کہ وہ یہ سب ختم کردیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو خاندان اپنے خطے کی آزادی کے حصول کیلئے بے تحاشا قربانیاں دے چکا ہو، وہ مزید قربانیاں دینے اور کسی بھی قسم کی رکاوٹوں سے کیسے گبھرا سکتا ہے اور اسی چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے احد التمیمی کا خاندان بھی فلسطین میں بڑھتے ہوئے ظلم کیخلاف ڈٹ چکا ہے۔

احد التمیمی کے والد روتے ہوئے بتاتے ہیں کہ “جب میں نے اسے عدالت میں دیکھا تو اس کا رنگ زرد تھا اور وہ کانپ رہی تھی، وہ زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی اور واضح طور پر تکلیف میں تھی۔ میں رونا چاہتا تھا لیکن نہ رو پایا، مجھے مضبوط رہنا ہے کہ وہ مضبوط رہے، پھر جج نے ضمانت سے انکار کر دیا، اور اب میری بچی منصفانہ سماعت ملنے تک سلاخوں کے پیچھے مہینوں یا سالوں رہے گی۔ اس کو ایسے رکھنے کی کوئی وجہ بھی نہیں ہے! اسے آتشیں اسلحے سے لیس اس افسر پر ہاتھ اٹھانے کی پاداش میں گرفتار کر کے تب لے گئے، جب اس کے سپاہیوں نے اس کی چھوٹی کزن کو چہرے پر گولی مار کر اس کی کھوپڑی اڑا دی تھی۔ لیکن ایک کم سن کو گولی مارنے کی بجائے، وہ میری بچی پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں اور اب اس پر 12 جرائم کا الزام لگا رہے ہیں۔ میں ذاتی طور پر سفارتکاروں تک پہنچا ہوں۔ لیکن مجھ اکیلے کی آواز اتنی طاقتور نہیں اسی لیے میں تمام جہاں کے لوگوں اور بالخصوص امت مسلمہ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ ہمارے حق کیلئے آواز اٹھائیں تاکہ عالمی توجہ مرکوز ہو اور ہم جانتے ہیں کہ اسرائیلی فوجی اپنی طرف عالمی توجہ نہیں چاہتے اور نہ ہی اسرائیلی سیاستدان چاہتے ہیں کہ قیدی بچوں کا معاملہ ان کے لیے ایک بڑا عوامی اسکینڈل بنے”

واضح رہے جب احد التمیمی کو اسرائیلی عدالت میں پہلی بار پیش کیا گیا تو جج نے دریافت کیا کہ تم نے ایک بندوق بردار فوجی کو تھپڑ مارنے کی جرات کیسے کرلی؟ تو اس پر اس بہادر باپ کی بہادر بیٹی نے جواب دیا کہ تم میرے بندھےہوئے ہاتھ کھول دو تو میں تمہیں عملاً کرکے دکھاتی ہوں کہ میں نے کیسے اسے تھپڑ رسید کیا تھا؟

قارئین کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ سن 2000 سے اب تک کم و بیش 12,000 فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا گیا ہے جنہیں بغیر کسی منصفانہ سماعت کے اسرائیلی قید خانوں میں نہ صرف رکھا گیا بلکہ بدسلوکی کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ کاش کہ ہمیں اور ہمارے حکمرانوں کو آج اپنی آزادی کا احساس ہوتا کہ کن کن قربانیوں کے بعد ہمیں یہ سب کچھ ملا۔ یوں تو ہم ہر روز زبانی کلامی سطح کر کشمیریوں اور فلسطیینیوں سے مذمت کرتے ہیں لیکن آج تک ہم عالمی سطح پر موثر انداز میں ان مظلوموں کیلئے آواز بلند نہیں کرسکے جو ہمارے لیئے ناصرف باعث تشویش بلکہ باعث شرمندگی بھی ہے۔

آخر کیا وجہ ہے کہ ہر جگہ صرف مسلمانوں پر ہی ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں؟ کیا امت مسلمہ اتنی کمزور ہوکر رہ گئی یا پھر مظالم کرنے والے زیادہ طاقتور ہوگئے ہیں؟

خاکسار عالمی دنیا کے تمام تر رہنمائوں کو چیلنج کرتا ہے کہ آپ ہمیں ایک جگہ ایسی بتا دیں جہاں غیرمسلموں پر بطور ریاست مسلمان قابض ہوں اور اندوہناک مظالم ڈھا رہے ہوں جیسے کہ فلسطین اور کشمیر یا پھر روہنگیا وغیرہ میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ اگر ایسا نہیں تو پھر حقوق انسانی کی علمبردار تنظیمیں اور خاص کر عالمی برادری کو چاہئیے کہ مسلمانوں پر ہوتے غیر انسانی سلوک کو مسلمانوں کے ساتھ مل کر روک کر دکھائیں تاکہ پتہ چلے کہ آپ حقیقی معنوں میں حقوق انسانی کے سب سے بڑے محافظ ہیں وگرنہ پھر مسلمانوں کے ذہنوں سے یہ گمان کوئی نہ نکال پائے گا کہ عالمی تنظیمیں بشمول اقوامِ متحدہ صرف ایک ایجنڈے کے تحت کام کرتی ہیں اور وہ ایجنڈہ ہے اسلام مخالفت یعنی مسلمانوں پر ہوتے ریاستی جبروستم پر تو آواز بلند نہ کی جائے لیکن اگر کہیں اسلام دشمن قوتوں کو خراش بھی آجائے تو پوری دنیا کو سرپراٹھا لیا جائے۔ مجھے امید ہے کہ ہم سب ملکر ریاستی جبر و ستم کیخلاف وہ چاہے کہیں بھی ہو اور بالخصوص امت مسلمہ کی بہادر بیٹی احد التمیمی جیسے لاکھوں مظلوموں کیلئے اپنی آواز بلند کرینگے تو عالمی سطح تک ہم یہ آواز موثر انداز سے پہنچا پائیں گے اور ایک دن آئے گا کہ اس وحشت کا بھی سدِباب ہوگا۔ انشاءاللہ بشکریہ دنیا نیوز

یہ بھی دیکھیں

کیا عرب اور اسرائیلی ایک دوسرے کو گلے لگا لیں گے؟

اسرائیلی رہنما اکثر کہتے ہیں کہ ان کا ملک ’ایک مشکل محلے‘ میں پھنسا ہوا ...