پیر , 10 دسمبر 2018

میونخ سکیورٹی کانفرنس اور اسرائیلی سرکس

(صابر ابو مریم)
فروری کے مہینہ میں میونخ میں بین الاقوامی سطح پر منعقد ہونے والی میونخ کانفرنس دنیا کے سیاسی حالات اور منظر نامہ پر نئے نقش مرتب کر گئی ہے، جہاں دنیا بھر کے ممالک سے آئے ہوئے سرکاری اعلٰی عہدیداروں نے دنیا کے امن و امان کو یقینی بنانے کے لئے مختلف قسم کی آراء پیش کیں اور خطوں میں رونما ہونے والے واقعات و سیاسی معاملات کی طرف توجہ مبذول کروائی۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اس کانفرنس میں فلسطین پر غاصبانہ تسلط قائم کرنے والی اور 1948ء میں قائم ہونے والی جعلی ریاست اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی دنیا کی سکیورٹی سے متعلق تقریر کی، حیرت کا لفظ اس لئے استعمال کیا گیا ہے، کیونکہ اسرائیل ایک ایسی جعلی اور غاصب ریاست ہے کہ جس کا وجود ہی دہشت گردی پر مبنی ہے اور دنیا میں کون ایسا شخص ہے، جو یہ بات نہیں جانتا کہ غاصب صیہونی ریاست اسرائیل گذشتہ ستر سال سے کس طرح انسانیت کی دھجیاں اڑانے میں مصروف عمل ہے، فلسطین کی بات کریں یا پھر فلسطین سے باہر گرد و نواح کے ممالک کی تو ہر طرف اسرائیل ہی نظر آتا ہے کہ جس نے دیگر ممالک کی زمینوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور خطے میں نت نئے انداز سے براہ راست اور دہشت گرد گروہوں بالخصوص داعش اور النصرۃ جیسی دہشت گرد تنظیموں کی معاونت کرتا ہے، تاکہ خطہ غیر مستحکم رہے اور معصوم انسانوں کا خون ضائع ہوتا رہے۔

اب بات کرتے ہیں میونخ کانفرنس کی، جہاں اسی جعلی اور ظالم ریاست اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے خطاب کیا۔ اپنی تقریر کے آغاز میں کہا کہ سکیورٹی کے بغیر نہ تو امن ہے، نہ ہی خوشحالی، نہ ہی ہمدردی اور نہ ہی آزادی ہے۔ اب ذرا کوئی ان سے پوچھتا کہ جناب آپ تو خود دنیا کی سکیورٹی کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں، کیونکہ موساد نامی دہشت گرد قسم کی خفیہ ایجنسی تو آپ ہی کی ہے، جو نہ صرف فلسطین میں لوگوں کی قتل و غارت کرتی ہے بلکہ دنیا بھر کے دیگر ممالک میں ان کے دہشت گرد جا جا کر دوسرے ممالک کی اہم شخصیات کو اغوا اور قتل کرتے پھرتے ہیں۔ حال ہی میں ترکی سے لبنان کے جنوبی علاقے میں پہنچنے والے اسرائیلی موساد ایجنٹوں نے حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے، جسے لبنانی سکیورٹی اداروں نے ناکام بنا دیا تھا، تو آپ اب کس منہ سے یہ باتیں کرتے ہیں؟ جبکہ اسرائیل ہی ہے کہ جس نے نہ صرف فلسطینیوں کی سکیورٹی کو تہس نہس کیا ہے، بلکہ سکیورٹی سے مربوط وہ تمام موارد کہ جنہیں نیتن یاہو نے بیان کیا ہے، یعنی فلسطینیوں کی آزادی بھی سلب کی گئی، انہیں ان کے بنیادی حقوق سے بھی محروم کیا گیا، ان کے ساتھ ہمدردی کرنے والوں کو بھی اسرائیل نے اپنا دشمن بنا کر ان کے خلاف محاذ کھول رکھے ہیں۔ اس طرح کے کئی ایک موارد ہیں، جو خود اسرائیل پر سوالیہ نشان اٹھاتے ہیں، لیکن شرم کی بات ہے کہ یہان میونخ سکیورٹی کانفرنس میں آپ بھاشن دیتے نہیں تھک رہے۔؟

مزید بھاشن میں ایران پر الزام عائد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایران ہمارے خطے یعنی مشرق وسطٰی میں اپنی بالادستی قائم کر رہا ہے، حیرت کی بات پھر یہ ہے کہ نیتن یاہو کو معلوم ہی نہیں کہ مشرق وسطٰی صیہونیوں کا خطہ ہونے سے پہلے عرب دنیا اور وہاں کے مقامی باشندوں کا خطہ ہے، جن کی نسل در نسل اس خطے میں چلی آرہی ہے تو یہ صیہونی جو دنیا کے دیگر علاقوں سے ہجرت کرکے 48ء سے قبل یہاں پر لائے گئے، تاکہ غاصب صیہونیوں کی سازش یعنی اسرائیل قائم ہوسکے تو آج یہ کس منہ سے اس خطہ کو اپنا کہتے ہیں؟ اور اگر مان لیجئے کہ اپنا خطہ ہے تو کیا کوئی اپنے خطے کے لوگوں کا قتل عام کرتا ہے۔؟ کیا اسرائیل نے 48ء کے بعد سے 67ء اور پھر متواتر 1975ء اور 1982ء اور 2006ء اور 2008ء سمیت مختلف مواقع پر اس خطے کے ممالک اور عوام پر جنگیں اور مظالم مسلط نہیں کئے؟ تو یہ خطہ کسیے نیتن یاہو کا ہوسکتا ہے۔؟ ماہرین سیاسیات کے مطابق جعلی ریاست اسرائیل کے وزیراعطم نیتن یاہو دراصل ایک عجیب سی گھبراہٹ اور بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور بلکہ یہ کہا جائے کہ مسلسل سیاسی و جنگی میدانوں میں اسرائیل کے حصے میں آنے والی شکست نے تمام اسرائیلی عہدیداروں کی ذہنی حالت و کیفیت کو متاثر کیا ہے اور یہی اثر نیتن یاہو کی جانب سے ہمیشہ بین الاقوامی فورمز پر ظاہر ہوتا ہے، جس میں وہ ہمیشہ دشمنوں کی فتح کا خود اعلان کرتے ہیں، یہاں میونخ کانفرنس میں بھی نیتن یاہو نے ایسا ہی کیا ہے۔

تقریر کے دوران ایک ڈرون طیارے کے کچھ ٹکڑے ہاتھوں میں اٹھا کر نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ یہ ایرانی ساختہ ڈرون ہے جسے 10 فروری کو اسرائیل نے مار گرایا تھا، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل کے خلاف اقدامات کئے جا رہے ہیں، حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس طرح کے درجنوں ڈرون روزانہ کی بنیاد پر فلسطین اور غزہ کی پٹی اور اسی طرح لبنان کے جنوبی علاقوں سے پرواز بھرتے ہیں اور غاصب صیہونیوں کے ناقابل تسخیر ہونے اور ان کی فضائی برتری کے دعووں کو چکنا چور کرتے ہیں، کیونکہ جب اسرائیل خطے میں موجود دیگر ممالک کے عوام پر ظلم و ستم کرتا ہے، یا پھر ان کے ممالک میں گھس کر فوجی کارروائیاں انجام دیتا ہے اور دوسرے ملکوں کی اہم شخصیات کو دہشت گردی کا نشانہ بناتا ہے تو پھر خطے کی دیگر اقوام اور حکومتوں کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنا دفاع کریں اور اسرائیل کے جارحانہ عزائم کو خاک میں ملانے کے لئے تمام جنگی حکمت عملیوں کا استفادہ کریں۔ بہرحال نیتن یاہو کی تقریر میں مسلسل ایران ایران اور ایران کی بات سن کر ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل نے سیاسی و جنگی میدانوں میں شکست تسلیم کر لی ہے۔ دوسری طرف ایران کے وزیر خارجہ نے میونخ کانفرنس میں اپنے خطاب کے دوران بڑے اطمینان کے ساتھ مسکراتے ہوئے نیتن یاہو کو ایک کارٹونسٹ سرکس کا لقب دیا اور کہا کہ نیتن یاہو کی الزام تراشیوں اور اس طرح کے ڈرون کے ٹکڑے دکھانا کسی سرکس سے کم نہیں ہے۔

بہرحال یہ نیتن یاہو کی جانب سے دکھائے جانے والے ایرانی ساختہ ڈرون کے بعد دنیا کو یہ اندازہ بھی ہوچکا ہے کہ ایران فلسطین کے عوام کی کس حد تک مدد کرنے میں مصروف ہے، یعنی فلسطین کی عوام و مزاحمتی تحریکوں کو اسرائیل کے مقابلے میں اپنا دفاع کرنے کے لئے نہ صرف ایران مالی مدد کر رہا ہے، بلکہ ٹیکنالوجی کی فیلڈ میں بھی فلسطینیوں کو خود کفیل کر رہا ہے، جس کا ثبوت اس طرح کے متعدد ڈرون طیاروں کا غاصب اسرائیلی فضاؤں میں پرواز کرنا ہے۔ نہ صرف فلسطین و دیگر خطوں سے ڈرون بھیجے جاتے ہیں بلکہ فلسطینیوں نے اب اسرائیلی ڈرون طیاروں کو مار گرانا بھی شروع کر دیا ہے اور اس طرح کے چند ایک واقعات گذشتہ برس بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ ایسے ہی واقعات فلسطین کی سرحدوں پر واقع دیگر ممالک کی طرف سے بھی سامنے آئے ہیں، جب اسرائیل کی طرف سے ان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے جواب میں اسرائیلی ڈرون طیاروں کو مار گرایا گیا، حال ہی میں شام کی فضائی حدود میں اسرائیلی ایف سولہ طیاروں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجہ میں ایک ایف سولہ طیارہ گر کر تباہ بھی ہوا، جس کا بھی شاید اسرائیل کو شدید رنج و الم بھی ہے اور دنیا پر آشکار ہوچکا ہے کہ اسرائیل کے ناقابل تسخیر ہونے کے دعوے کھوکھلے ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ اگر جعلی ریاست اسرائیل فلسطین سمیت خطے کی دوسری اقوام کے خلاف جنگیں مسلط کرنے اور ان کے حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے سمیت ان ممالک کی حدود میں داخل ہونے سمیت دوسروں کی سکیورٹی کو چیلنج کرسکتا ہے تو پھر فلسطین و لبنان و شام و عراق مصر اور دیگر تمام ان اقوام کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنے دفاع کو بہتر بنانے کے لئے اسرائیل کی سکیورٹی کو چیلنج کریں، نیتن یاہو کی جانب سے ایرانی ساختہ ڈرون کے ٹکڑے دکھا کر سرکس کرنا ایک طرف ہے، لیکن اہم بات یہ ہے کہ اسرائیلی دشمن نے اپنے دشمن کی برتری کا خود اعلان کر دیا ہے، کیونکہ اگر وہ ڈرون کا ٹکڑا ایرانی ساختہ بھی تھا تو کیا وہ ایران سے چل کر اسرائیل کی حدود تک آیا؟ یقیناً ایسا نہیں ہوا ہوگا۔ کیونکہ اب خطے کی دیگر اقوام غیرت مندانہ اور شجاعت مندی کے ساتھ اپنی عزت و ناموس کے دفاع میں سرگرم عمل ہیں اور اس معاملے میں فلسطین کی شجاع و پائیدار قوم نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ہر محاذ پر اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ پس اسرائیل چونکہ ایک جعلی و غاصب ریاست ہے، تاہم خطے سمیت دنیا کا امن اب اسرائیل کی نابودی سے مشروط ہوچکا ہے اور یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ظالموں کو نابود کرکے ہی رہے گا اور وہ لوگ جن کو مظلوم تر بنا دیا گیا ہے، ان کو اس زمین پر حاکم قرار دے گا۔

یہ بھی دیکھیں

کیا عرب اور اسرائیلی ایک دوسرے کو گلے لگا لیں گے؟

اسرائیلی رہنما اکثر کہتے ہیں کہ ان کا ملک ’ایک مشکل محلے‘ میں پھنسا ہوا ...