اتوار , 24 جون 2018

کیا عمان واقعی میں غیر جانبداری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے؟

(تسنیم خیالی)
سلطنت عمان کی پالیسی ہمیشہ سے غیر جانبدار رہی،خلیجی ریاستوں میں شمار ہونے والی یہ ریاست کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتی،اس کے برعکس یہ ریاست سرد مزاج پالیسی اپناتے ہوئے علاقائی اور عالمی کشیدگیوں کو حل کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔اس سب کے باوجود غیر جانبداری کا لفظ منفی اور مثبت معنی کا حامل ہوسکتا ہے۔مثال کے طور پر عمان کا غیر جانبدار رہنے سے بعض ممالک کے مفادات کو نقصان پہنچتا ہے اور بعض ممالک کے معاملات کو حل کر دیتا ہے۔

البتہ عمان کی اس غیر جانبداری کی وجہ سے عمان آج کل امارات اور سعودی عرب کے نشانے پر ہے اور دونوں ممالک کی یہی کوشش ہے کہ عمان کو کسی بھی غیر جانبداری کی پٹری سے اتارا جائے۔جس کے لیے دونوں ممالک عمانی سرحد کے ساتھ متصل یمنی صوبہ مہرہ کا استعمال کررہے ہیں اور اس کے ذریعے عمان کی پیٹھ اور یمن سمیت علاقے میں عمانی پالیسیوں پر وار کرنے کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ عمان کی غیر جانبدارانہ پالیسیوں کی وجہ سے علاقے میں اماراتی اور سعودی سازشیں ناکام ہوگئی ہے۔

عمان نے کس طرح امارات اور سعودی عرب کو آگ بگولہ کیا؟
آج سے دس سال قبل عمان کے سلطان قابوس بن سعید نے ’’سیاسہ‘‘ نامی کویتی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم کسی بھی تنازعے میں آگ پر تیل چھڑکنے کا کام نہیں کرتے اور نہ ہی ہمارا کسی کے ساتھ کسی بھی قسم کا کوئی اختلاف یا دشمنی ہے۔ہماری ریاست امن کی ریاست ہے اور اگر ہمیں غصہ بھی آئے تو خاموشی اختیار کرلیتے ہیں کیونکہ وقت تمام اختلافات کو ختم کردیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اپنی کتاب میں فرماتے ہیں (ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ) سلطان قابوس کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ عمان کی پالیسی کیا ہے؟ اور آج امارات اور سعودی عرب کی کوشش یہی ہے کہ عمان کو یمن کے ذریعے جنگ کے دلدل میں پھنسایا جائے اور اسے اپنے اصولوں سے ہٹایا جائے اور اس کی غیر جانبداری کو ختم کیا جائے،مگر سعودی عرب اور امارات ایسا کیوں کرنا چاہتے ہیں؟

1۔عمان نے خود کو سعودی تسلط سے دور رکھا ہوا ہے جو کہ سعودی فرمانروا کے نزدیک قابل قبول نہیں،سعودی فرمانروا خود کو خلیجی ریاستوں کا چوہدری سمجھتا ہے اور ان کے نزدیک فیصلوں کا حق صرف اور صرف انہیں حاصل ہے اور باقیوں کو سعودی فیصلے اور پالیسیوں کے ماتحت ہونا چاہیے۔

البتہ اس نظریے کو شکست حاصل ہوگئی ہے کیونکہ عمان نے قطر کے بائیکاٹ کے معاملے میں سعودی عرب کی حمایت نہیں کی اور سعودی فیصلوں کو نظر انداز کیا اس کے علاوہ عمان نے سعودی مطالبوں کے باوجود ایران اور شام کے ساتھ تعلقات ختم نہیں کیے ،اس کے علاوہ عمان نے اور بھی بہت سے معاملات میں سعودی عرب سے بہت ہی مختلف موقف اپنائے رکھا۔

2۔ایران کے ساتھ تعلقات کا معاملہ سعودی عرب کے لیے انتہائی حساس نوعیت کا حامل ہے،سعودی عرب دنیا بھر کے تمام ممالک کو ایران کے خلاف بھڑکاتا رہتا ہے اور سعودی عرب ہمیشہ ایران اور عمان کے درمیان خوش گوار تعلقات کا مخالف رہا،خاص طور پر کہ عمان نے ہمیشہ سے ایران اور خلیجی ریاستوں کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کو کم کیا اور دونوں اطراف کے درمیان کئی مرتبہ بات چیت اور مذاکرات کرائے۔یہاں تک کہ عمانی کوششیں عالمی سطح پر بھی پائی جاتی ہیں اور ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کی کامیابی میں بھی عمان کا بھی اہم کردار رہا،اس کے علاوہ 2016 میں جب ایران نے 10 امریکی میرینز کو رہا کیا تھا تو اس رہائی کے لیے عمان نے ہی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار نبھایا تھا۔

عمان ایران کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں بھی کرتا رہتا ہے ،اس ضمن میں دونوں کے درمیان مشترکہ فوجی مشق گزشتہ سال 8 اپریل کو ہوئی تھی ،عمان وہ واحد خلیجی ریاست ہے جو ایران کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کرتا ہے اور مذکورہ آخری فوجی مشق سے قبل عمان کو دیگر خلیجی ریاستوں نے کویت میں خلیجی ریاستوں کی مشترکہ فوجی مشقوں کی دعوت دی تھی جسے عمان نے قبول نہ کرتے ہوئے ایران کے ساتھ مشترکہ مشقوں کو ترجیح دی جس نے سعودی عرب کو غصے میں مبتلا کردیا تھا۔

3۔شام کے معاملے میں بھی عمان کا موقف سعودی خواہشات کے برعکس تھا،عمان نے شام کے ساتھ تعلقات منقطع نہیں کیے اور عرب لیگ میں شام کی رکنیت منجمد کرنے کی مخالفت کی اور دمشق میں واقع عمانی سفارت خانے کو بند نہیں کیا۔

4۔یمن جنگ اور قطر بائیکاٹ کے معاملے میں بھی عمان نے سعودی عرب اور امارات کا ساتھ نہیں دیا،عمان نے یمن جنگ کی مخالفت کی اور یمن پر جارح اتحاد میں شامل نہ ہوا۔قطر کے معاملے کی بات کی جائے تو یہاں بھی عمان نے سعودیوں اور اماراتیوں کے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے بائیکاٹ کا حصہ بننے سے انکار کر دیا اوراس وجہ سے آج بھی سعودیوں اور اماراتیوں کی نظر میں بہت زیادہ کھٹکتا ہے۔

سعودی عرب اور امارات کے لیے عمان کو اپنی سازشوں کے جال میں پھنسانا آسان نہیں کیونکہ عمانی بخوبی اس بات کو جانتے ہیں کہ عمان کے مفادات کس طرح حاصل کیے جاسکتے ہیں ،اس کے باوجود عمان کو سعودی عرب اور امارات کی سازشوں کے آگے انتہائی احتیاط سے قدم اٹھانے ہوں گے۔

یہ بھی دیکھیں

جنگلات ہمارا مسقبل ہیں! اپنا مستقبل بچائیں

(شیریں حیدر ) ایک ننھا سا بیج، جسے ہم چاہیں تو ایک لمحے میں ہاتھوں ...