منگل , 25 ستمبر 2018

کیا حقیقت میں ترکی ایک اسلامی ملک ہے؟

(تسنیم خیالی)
ویسے تو ترکی کا شمار اسلامی ممالک میں ہوتا ہے بلکہ بڑے اسلامی ممالک میں ہوتا ہے،جس کا عالم اسلام پر گہرا اثر پایا جاتا ہے ،خود ترک صدر رجب طیب اردگان اپنے آپ کو عالم اسلام کا چوہدری سمجھتے رہتے ہیں مگر کیا حقیقت میں ترکی اسلامی ملک ہے؟

اردگان نے اپنی تازہ ترین پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ ترکی میں زنا کو جرم قراردیا جائے۔دوسرے لفظوں میں ترکی میں زنا جرم کے زمرے میں نہیں آتا،جی ہاں !ترکی قوانین میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں جس کے ذریعے زنا کرنے والے مرد اور خواتین کو سزا دی جاسکے کیونکہ ترک قوانین میں زنا جرم ہی نہیں۔

آج سے چودہ سال قبل جب اردگان کی سیاسی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی اقتدار میں آئی تھی تو اس وقت اس جماعت نے زنا کو جرم قرار دلوانے کی کوششیں کی تھی مگر اپوزیشن جماعتوں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس قسم کے قانون کو نافذ کرنے سے ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت متاثر ہوگی،کیونکہ یورپی یونین کے ممالک اس قسم کے قانون کے مخالف ہیں اور ویسے بھی زنا کو جرم قرار دینا انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور لوگوں کی آزادی پر قدغن ہے۔

اسلام کے مطابق زنا جرم ہے اور گناہ کبیرہ میں شمار ہوتا ہے جس کی سزا بھی متعین ہے جسے حد الزنا کہا جاتا ہے۔کسی بھی اسلامی ملک میں اسلامی شریعت کا نفاذ اور اسلامی قوانین پر عمل درآمدگی فطری ہے کیونکہ اس قسم کے ممالک کی بنیاد ہی اسلامی شریعت اور قوانین پر استوار ہے،مگر ترکی میں ایسا نہیں، جہاں زنا کے معاملے میں اسلام کی تعلیم پر عمل نہیں کیا جارہا،جس کی وجہ سے ترکی کا بطور اسلامی ملک شمارہونا مضحکہ خیز ہے۔

ترکی میں ایک اور حیران کردینے والی بات یہ ہے کہ ترک قوانین میں پورنوگرافی یعنی فحش اور عریانت کی فلموں پر پابندی عائد نہیں،حالانکہ یہ فلمیں احکام اسلام کے خلاف اور معاشرے میں کئی معاشرتی بیماریوں کا باعث ہیں۔

خود کو عالم اسلام کا چوہدری سمجھنے والے اردگان نے 14 سال سے اس معاملے پر یورپی یونین کو خوش کرنے اور ترکی کے اس یونین میں شامل ہونے کی کوششوں نے ترکی کو اس غیر اسلامی نہج پر لاکھڑا کر دیا ہے۔

14 سالوں سے اردگان کے نزدیک یورپی یونین کی خوشی اور اس کی رضا مندی اسلام اور اس کے قوانین سے بہتر ہے،یہی نہیں موصوف کہتے ہیں کہ ہم نے یورپی یونین میں شامل ہونے کی خاطر زنا کو جرم قرار نہیں دیا مگر یہ فیصلہ درست نہیں ثابت ہوا اور سبھی جانتے ہیں کہ یورپی یونین نے ترکی کے ساتھ کیا کیا۔

اردگان کے اس آخری بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اگر یورپی یونین ترکی کی شمولیت پر آمادہ ہوتا اور اسے یورپی یونین میں شامل ہونے دیتا تو زنا کو جرم قرار دینے کی بات نہ ہوتی اور سب کچھ ٹھیک ہی رہتا،جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اردگان کے لیے یورپی یونین ضروری ہے،اسلام اور اس کے قوانین پر عمل درآمد ضروری نہیں اور عین ممکن ہے کہ یورپی یونین میں شامل ہونے کے لیے اسلامی ملک کا لقب بھی چھوڑ سکتے ہوں۔

یہ بھی دیکھیں

ماسکو کے ممکنہ انتقام سے اسرائیل خوفزدہ

(تحریر: محمد بابائی) ماسکو کا موقف ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے ایک دشمنی پر ...