ہفتہ , 23 جون 2018

پاکستانیوں بارے سعودی حکومت کے امتیازی قوانین

ایک رپورٹ کے مطابق سعودی آجر کمپنی کے دیوالیہ ہونے کے دو سال بعد بھی پاکستان واپس آنے والے بہت سے ملازمین اب تک اپنے بقایاجات کی ادائیگی کے منتظر ہیں۔پاکستان سمیت سات ملکوں کے لوگوں کو نکالا گیا تھا جن میں ترکی، مصر، لبنان، فلپائن اور انڈیا بھی شامل ہیں۔لیکن صرف پاکستانیوں کو ان کے بقایاجات کی ادائیگی نہیں کی گئی۔ حکومتی نمائندوں نے سعودی عرب سے لوٹنے والے ملازمین کو یقین دہانی کرائی تھی کہ سعودی حکام سے بات چیت کا عمل جاری ہے جس سے ان کے بقایاجات دلانے میں مدد کی جائے گی لیکن اس یقین دہانی کے باوجود متاثرین 2016ء سے اب تک بقایاجات سے محروم ہیں اور مجبوراً انہوں نے کراچی پریس کلب اور اسلام آباد پریس کلب کے باہر احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستانیوں کے ساتھ سعودی عرب کی حکومت کا رویہ صرف متاثرین کی حد تک ہی معاندانہ نہیں بلکہ اب تو حج و عمرہ جیسے فریضے کی ادائیگی کے خواہشمندوں کو دو دو قسم کے امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ یہ سلوک دنیا بھر میں سوائے پاکستانیوں کے اور کسی کے ساتھ نہیں کیا جاتا اور نہ ہی سعودی حکام میں اتنی سکت ہے کہ وہ دیگر ممالک کے شہریوں سے اس طرح کا سلوک کرسکیں کیونکہ وہاں کی حکومتیں اپنے شہریوں کی عزت نفس اور ان سے سلوک کا پورا نوٹس لیتی ہیں جبکہ پاکستانی حکمران اور قیادت سعودی حکمرانوں کی خوشنودی کو اپنے قومی مفادات پر ترجیح دیتے ہیں اس سے بڑھ کر پاکستانیوں سے سعودی حکومت کا معاندانہ سلوک کیا ہوگا کہ پاکستانیوں کو دوسری مرتبہ عمرہ کی ادائیگی پر دو ہزار ریال اضافی ادائیگی کرنی پڑتی ہے جبکہ سعودی شاہی خاندان کی شراکتی بھارتی کمپنی جاکر فنگر پرنٹ دینے کی شرط رکھی گئی ہے یہ دونوں لوازمات دنیا کے کسی ملک کے شہریوں کے لئے ضروری نہیں جس ملک کو ہم اپنی فوج دے کر محفوظ بنانے کی ذمہ داری نبھاتے ہیں اس ملک میں پاکستانیوں سے یہ سلوک سمجھ سے بالا تر ہے۔

اگر پاکستانیوں سے سعودیوں کی نفرت کا عالم یہ ہے تو پھر پاک فوج کے جوان بھی ہمارے ہی بیٹے ہیں حکومت پاکستان کو متاثرہ محنت کشوں کے بقایاجات دوسری مرتبہ حج و عمرہ پر جانے والوں پر دو ہزار ریال کا ٹیکس اور بلا وجہ فنگر پرنٹس کی پابندی کرانے کے امتیازی سلوک پر سنجیدگی سے بات کرلینی چاہئے اور ان کو ایسے معاملات سے گریز کا مشورہ دینا چاہئے جس سے دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان دوریوں کا احساس پیدا ہو۔بشکریہ مشرق نیوز

 

یہ بھی دیکھیں

ہتھیار ڈال کر سر تسلیم خم کرنا انصار اللہ کی قاموس میں نہیں پایا جاتا: عطوان

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، عالم عرب کے مشہور صحافی عبدالباری عطوان نے ...