جمعرات , 13 دسمبر 2018

دنیا کیا سوچے گی؟؟

(انصار عباسی )
قصور سانحہ کا مجرم عمران علی جب پکڑا گیا تو وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے خود پریس کانفرنس بلا کر میڈیا سے خطاب کیا، مقتول زینب کے والد کو اپنے ساتھ بٹھایا اور یہ انکشاف کرتے ہوئے کہ درندہ صف مجرم نے ایک نہیں بلکہ قصور سے تعلق رکھنے والی آٹھ معصوم بچیوں کو اغوا کر کے پہلے انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر قتل کیا۔ شہباز شریف نے اُس موقع پر مجرم کو سر عام پھانسی دے کر نشان عبرت بنانے کی شدید خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا اس بارے میں کچھ قانونی رکاوٹوں کا سامنا ہے جس کو دور کرنے کے لیے اُن کی حکومت ضروری کارروائی کرے گی۔

گزشتہ روز (21فروری) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون کا اسلام آباد میں اجلاس ہوا جس میں اسی موضوع پر بحث کے لیے تمام صوبائی حکومتوں کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ اس اجلاس میں دوسری صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ شہباز شریف حکومت کے نمائندہ (سیکرٹری ہوم) نے بھی سرعام پھانسی دینے کے آپشن کی بھرپور مخالفت کی جس پر کمیٹی میں موجود اکثر افراد حیران رہ گئے کہ پنجاب کا نمائندہ کیا کہہ رہا ہے اور شہباز شریف نے تمام میڈیا کے سامنے پریس کانفرنس میں کیا کہا تھا۔ مخالفت تو دوسرے صوبوں نے بھی کی لیکن پنجاب حکومت نے اس معاملے پر بھی جو سیاست کی وہ قابل مذمت اور قابل افسوس ہے۔ یہاں میں یہ بات بھی بتاتا چلوں کے اسلامی سزائوں اور زینب کے قاتل کو سرعام پھانسی دینے کا معاملہ میاں نواز شریف کے سامنے بھی اٹھایا گیا جس پر انہوں نے کہا کہ وہ اپنی پارٹی کو ہدایت دیں گے کہ اس سزا کی کسی بھی طور پر مخالفت نہ ہو تاکہ قاتل کو سرعام سولی پر لٹکا کر نشان عبرت بنایا جاسکے۔ لیکن گزشتہ روز کی سینیٹ کمیٹی میٹنگ میں ن لیگ کی وفاقی حکومت کی وزارت قانون نے پنجاب اور دوسری صوبائی حکومتوں کی طرح سرعام پھانسی دینے کی تجویز کی کھل کر مخالفت کی۔ایک اور افسوس ناک عمل اسلامی نظریاتی کونسل کے چئیرمین کی طرف سے نظر آیا۔

میڈیا کی خبروں کے مطابق چاروں صوبوں کے علاوہ اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی زینب کے قاتل کو سر عام پھانسی دینے کی مخالفت کی۔ چئیرمین اسلامی نظریاتی کونسل کے حوالے سے خبروں میں لکھا گیا کہ کسی چوک یا چوراہے کی بجائے جیل کے اندر پھانسی دے کر مناظر میڈیا پر دکھائے جائیں۔ دوسروں کی طرح اب اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی وہ بات کی ہے جس سے مغرب، سول سوسائٹی، میڈیا اور این جی اوز ناراض نہ ہو جائیں۔ کمیٹی ذرائع کے مطابق کئی شرکاء نے بار بار اس بات کا حوالہ دیا کہ سرعام سزا دے کر ہم دنیا کو کیا پیغام دیں گے۔ یعنی اکثریت کو پریشانی یہ تھی کہ دنیا کیا سوچے گی؟؟؟ لیکن کمیٹی میں موجود کسی ایک فرد نے وہاں یہ بات نہ کی کہ امریکا، یورپ، سول سوسائٹی، میڈیا، این جی اوز کا تو ہمیں بہت ڈر ہے کہ وہ کیا سوچیں گے اور کیا کہیں گے لیکن ہمیں اپنے اللہ کا ڈر نہیں۔

اسلامی سزائوں اور اسلامی احکامات کے ساتھ جو کچھ ہم کھلے عام اور ڈھٹائی کے ساتھ کر رہے ہیں وہ ہماری دنیا اور آخرت دونوں کے لیے بہت خطرناک ہو سکتا ہے لیکن کاش ہمیں وقت پر سمجھ آ جائے۔ اگر ہمارے حکمران ، سیاستدان اور پارلیمنٹیرین قرآن و سنت کی بجائے مغرب کے قوانین اور رواجوں کو ترجیح دیں گے اور اسلامی نظریاتی کونسل جیسا ادارہ سب کو خوش کرنے کے لیے گول مول باتیں کرے گا تو ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں اپنے اللہ کی گرفت سے کیسے بچ سکتے ہیں؟؟ یہاں یہ بھی ذکر کرتا چلوں کہ اسی سینیٹ کمیٹی میٹنگ میں سپریم کورٹ کے اُس فیصلہ پر بھی بات ہوئی جس نے سرعام سزائوں پر پابندی لگائی۔ اس حوالے سے عدلیہ اور چیف جسٹس کو سمجھنا اور دیکھنا چاہیے کہ کیا وہ آئین پاکستان کے تحت اسلامی سزائوں پر پابندی لگانے کا اختیار رکھتے ہیں؟؟؟ میری ذاتی رائے میں سپریم کورٹ کی یہ پابندی شریعت کے ساتھ ساتھ آئین پاکستان کی بھی خلاف ورزی ہے لیکن اس خلاف ورزی پر نہ سپریم کورٹ کو کوئی مسئلہ ہے نہ ہی اس پر حکومت، پارلیمنٹ اور میڈیا کو کسی قسم کی کوئی پریشانی لاحق ہے۔

یہ بھی دیکھیں

کیا بی جے پی کی شکست مودی دور کا خاتمہ ثابت ہو گی؟

(سید مجاہد علی) بھارت میں تین اہم ریاستوں راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں ...