منگل , 25 ستمبر 2018

اسرائیل: تارکینِ وطن افریقی باشندوں کی گرفتاری پر احتجاجی مظاہرے

ہولولٹ(مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیلی پولیس کی جانب سے گرفتار 9 افریقی مزدوروں کے حق میں ہزاروں افریقی باشندوں نے جیل کے سامنے مظاہرہ کیا۔واضح رہے کہ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے خبردار کیا تھا کہ سوڈان اور جنوبی افریقہ سے آئے 38 ہزار باشندے رواں برس مارچ تک ملک چھوڑ دیں ورنہ ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اسرائیلی وزیراعظم نے مذکورہ منصوبے کے تحت رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑنے والے ہر شخص کو فضائی خرچ اور 3 ہزار 500 ڈالر دیئے جانے کا وعدہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ اسرائیل، جنوبی صحرا میں ہولٹ نامی ایک جگہ بھی ختم کررہا ہے جہاں 12 ہزار تارکین وطن رہائش پذیر ہیں اور انہیں دن کے اوقات میں کام کرنے کی بھی اجازت ہوتی ہے۔اس سے قبل اسرائیل نے گزشتہ برس نومبر میں بے دخلی کے منصوبے کا اعلان کیا تو اقوام متحدہ مہاجرین نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیل میں رہائش پذیر ہزاروں افریقی مظاہرین نے جیل کے سامنے پہنچ کر ‘ملک سے بے دخلی’ کے خلاف نعرے بازی کی اور گرفتار باشندوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ‘معاملے کا پر امن حل نہ نکلنے تک وہ بھوک ہڑتال پر رہیں گے’۔

اسرائیلی حکام کا دعویٰ کیا کہ 9 افریقی باشندوں کو حراست میں لیا گیا جبکہ تارکین وطن باشندوں نے کہا کہ گرفتار کیے گئے افراد کی تعداد 12 ہے۔

مظاہرین نے نعرے لگائے کہ ‘ہم مجرم نہیں، تارکین وطن ہیں، بے دخلی نامظور، مزید جیل نہیں، ہم برائے فروخت نہیں، ہمیں پناہ دی جائے، ہمارے بھائیوں کو چھوڑ دو’۔

مظاہرے میں شریک ایک افریقی تارکین وطن نے بتایا کہ وہ چھ برس قبل اسرائیل پہنچا اور پناہ کے حصول کے لیے درخواست پیش کی لیکن رد کردی گئی۔انہوں نے کہا کہ ‘ہم یہاں کام کرنے یا امیر بننے کے لیے نہیں آئے بلکہ پناہ چاہتے ہیں’۔

یہ بھی دیکھیں

برطانوی حزب اختلاف کا سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت بند کرنے کا مطالبہ

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی حزب اختلاف کے رہنما اور لیبر پارٹی کے سربراہ جیرمی کوربن ...