پیر , 24 ستمبر 2018

’’دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ‘‘

(حیدر جاوید سید)
پچھلے پندرہ ساڑھے پندرہ گھنٹوں سے ایک طوفان برپا ہے۔ ہمارے لیگی دوست سپریم کورٹ کی طرف سے پارٹی صدارت کے لئے نواز شریف کو نا اہل قرار دئیے جانے کے فیصلے کو لے کر جمہوریت‘ دستور اور پارلیمان کے حق قانون سازی پر دہائیاں دے رہے ہیں۔ بہت ادب کے ساتھ ان خواتین و حضرات اور کمرشل لبرلز سے دریافت کیا جاسکتا ہے کہ افتخار چودھری کے سید یوسف رضا گیلانی کے خلاف فیصلے کے بعد جب اس وقت کی سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے رولنگ دی تھی کہ سپریم کورٹ پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں مداخلت نہیں کرسکتی تو سپیکر کی اس رولنگ کے خلاف چودھری کورٹ کے دروازہ پر فریاد لے کر کون گیا تھا۔ ہمارے تازہ محبوب جمہوریت کامریڈ میاں نواز شریف ان دنوں فرمایا کرتے تھے کہ ’’عدالتی فیصلوں کی بے توقیری نہیں ہونے دیں گے۔ تکریم عدالت پر 10وزیر اعظم قربان کئے جاسکتے ہیں۔ نظریہ ضرورت کا وقت بیت گیا۔ عدلیہ آزاد ہے اور عوام اس کے فیصلوں پر اطمینان ظاہر کر رہے ہیں۔‘‘ 6سال قبل (یعنی یہ 2012ء کی بات ہے) اور آج کے خیالات میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اب ان لوگوں کو بھی بھٹو کی پھانسی یاد آرہی ہے جنہوں نے مٹھائیاں اور حلوے تقسیم کئے۔ کامریڈ نواز شریف کی ماڈل ٹائون والی اقامت گاہ پر تین دن تک لنگر تقسیم ہوا تھا۔ چند تازہ محبان جمہوریت کے ماضی کا ذکر بھی کیا جاسکتا ہے مگر فائدہ کوئی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایک لانگ مارچ اور ہیلری کلنٹن و جناب کیانی کے ذریعے بحال کروائی گئی عدلیہ میں اب کیا خرابی نکل آئی؟ یہ پی سی او جج ہیں تو میثاق جمہوریت پر چڑھ دوڑنے کی ضرورت کیا تھی؟۔

سوال اور بہت ہیں جو قبلہ کامریڈ جی سے دریافت کئے جاسکتے ہیں چلیں مان لیا جناب نواز شریف‘ نون لیگ اور کمرشل لبرلز دوستوں کا موقف سو فیصد درست ہے مگر کوئی بتلائے گا کہ جب اپوزیشن کہہ رہی تھی کہ پانامہ کے معاملے پر پارلیمانی کمیشن بنا لیتے ہیں۔ احتساب کے بلا امتیاز عمل کے لئے قانون سازی کرلیتے ہیں تو اس وقت پارلیمنٹ سے نکل کر سپریم کورٹ کون گیا۔ کس نے خط لکھا‘ کیا اگر اس وقت کسی ایکٹ کے ذریعے ایک تحقیقاتی کمیشن بنا لیا جاتا تو صورتحال مختلف نہ ہوتی؟ ایک ضمنی سوال ہے اگر طبع نازک پر گراں نہ گزرے۔ زرداری کے خلاف ماضی میں لاہور ہائیکورٹ سے کیسے کیسے فیصلے سامنے آئے۔ وہ سب آئین و قانون کے مطابق تھا۔ میاں صاحب کو یاد تو ہوگا کہ جب وزیر اعظم گیلانی نے ان کی جماعت کو تجویز پیش کی کہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر زمینی حقائق کے مطابق پارلیمان میں نظر ثانی کرلیتے ہیں تو چودھری نثار علی خان نے قومی اسمبلی میں دھواں دھار تقریر فرمائی اور نواز شریف کہا کرتے تھے ’’ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کلرک سے صدر کے منصب تک ہر سیٹ پر ایک زرداری بیٹھا ہو۔‘‘

یہ ہماری تاریخ ہے حضور سو اب ہمیں کھلے دل سے یہ تسلیم کرلینا چاہئے کہ اپنا بویا ہوا کاٹا جا رہا ہے۔ یہ راستہ نون لیگ نے دکھایا تھا۔ میثاق جمہوریت توڑا۔ میمو گیٹ فراڈ میں نواز شریف انہی ججز کے سامنے کالا کوٹ پہن کر پیش ہوئے۔ یہ وہ سارے واقعات ہیں جنہیں تاریخ سے نکالا نہیں جاسکتا ہے۔ پیپلز پارٹی آج کہاں کھڑی ہے اور کیا کہہ رہی ہے اس پر بحث کی ضرورت ہے لیکن کیا ماضی پر شرمندہ ہوئے اور سازشوں میں کردار ادا کرنے پر شریف خاندان اور نون لیگ اس ملک کے عوام سے معافی مانگنے کو تیار ہیں؟۔ چلیں آگے بڑھتے ہیں کیا پارلیمان کی قانون سازی اجتماعی مفاد میں ہوتی ہے یا فرد واحد کے لئے؟ خود دستور آئینی تشریحات کاحق دیتا ہے عدالتوں کو۔ پیپلز پارٹی نے ایک وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی تجویز دی تھی اس وقت کہا گیا کہ یہ آزاد عدلیہ کے خلاف زرداری گردی ہے۔ صحافت و سیاسیاست کے ایک طالب علم کی حیثیت سے یہی عرض کرسکتا ہوں کہ اگر پچھلے پونے پانچ سالوں کے دوران ابہام دور کرنے‘ عوام دوست قانون سازی سمیت دیگر اقدامات کئے جاتے تو آج نون لیگ کے موقف کو اس کے حلقہ اثر و ثروت سے باہر بھی پذیرائی ملتی۔

ستم یہ ہے کہ ہمارے سیاستدانوں کو حزب اختلاف کے ماہ و سال میں جو قوانین‘ عدل کا نشان لگتے ہیں اقتدار کے دنوں میں وہی زہر‘ عجیب تماشے ہیں۔ ان تماشوں کے بیچوں بیچ ایک سوال مکرر عرض ہے پچھلے سات آٹھ ماہ سے عدلیہ اور دوسرے اداروں کے خلاف جو بولا لکھا جا رہا ہے اس طرح اگر چھوٹے صوبوں والے کہتے لکھتے تو انہیں زبانی جواب ملتا یا جیٹطیاروں سے پھول برسائے جاتے؟۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جناب نواز شریف کسی دن اپنے ماضی پر شرمندہ ہوتے ہوئے معافی مانگیں اگلے مرحلہ پر سیاسی جماعتیں مل کر مستقبل کا لائحہ عمل طے کریں۔ مگر لکھ کے رکھ لیجئے کہ ایسا نہیں ہوگا کیونکہ اندرون خانہ رابطوں اور ریلیف کے لئے پیام رسانی اب بھی جاری ہے۔ اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ بلا امتیاز احتساب کا ادارہ ہونا چاہئے۔ طاقت ور ترین آئینی تحفظ رکھنے والا ادارہ۔ سوال یہ ہے کہ ایسا ادارہ بنائے گا کون۔ 2011ء میں جب پیپلز پارٹی نے ایسے ادارے کے قیام کے لئے تجویز دی تھی تو بازار میں دستیاب کونسی گالی تھی جو پیپلز پارٹی کو نہیں دی گئی۔ حضور قبلہ میاں نواز شریف! عرض فقط یہ ہے کہ
اتنی نہ بڑھا پا کئی داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ
(بشکریہ مشرق نیوز)

 

یہ بھی دیکھیں

اہواز حملے میں ملوث دہشت گرد گروہوں کا مختصر تعارف

(تحریر: محمد علی) برطانیہ میں سرگرم این جی او تنظیم "انجمن دوستی ایران اور برطانیہ” ...