پیر , 24 ستمبر 2018

ٹرمپ کی انوکھی تجویز

(تسنیم خیالی)
رواں ماہ 7 تاریخ بدھ کے روز امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر پارکلینڈ میں واقع ایک ہائی سکول میں طالب علم نے اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے 17 طالب علموں کو موت کی نیند سلا دیا۔ویسے تو امریکہ میں اس قسم کے واقعات معمول بن چکے ہیں،قتل کے یہ واقعات کبھی سکولوں میں ،کبھی تجارتی مراکز اور کبھی میوزک کانسرٹس میں ہوتے رہتے ہیں،البتہ ان واقعات کی اصل ذمہ داری امریکی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے،جو امریکہ میں ہتھیاروں کی خریدوفروخت پر پابندی عائد نہیں کررہی ۔

امریکہ میں ہتھیاروں کی خریدوفروخت خطرناک حد تک عام ہے ،وہاں قانونی عمر پوری کرنے کے بعد کوئی بھی شخص با آسانی ہتھیار خرید سکتا ہے جو بڑے بڑے امریکی ہتھیار ساخت کمپنیوں سے تیار ہوکر آتے ہیں۔

جہاں یہ ہتھیار امریکی کمپنیوں کے لیے منافع بخش کاروبار بن چکے ہیں وہیں یہ ہتھیار امریکی عوام کے لیے موت بن چکے ہیں،امریکی عوام دہائیوں سے موت کے اس دھندے کو بند کرانے کا مطالبہ کررہی ہے اور اس پر پابندی عائد کرنے پر زور دے رہی ہے مگر امریکہ میں آنے والی تمام حکومتوں نے سب کچھ نظر انداز کرتے ہوئے کسی بھی قسم کا کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔

موجودہ امریکی حکومت بھی اس نہج پر چل رہی ہے اور اب امریکی صدر ٹرمپ نے بھی اس ضمن میں ایک انوکھی تجویز بنا شرم کھائے پیش کردی ہے ،موصوف کے مطابق سکولوں میں فائرنگ کے واقعات سے نمٹنے کے لیے اساتذہ کو مسلح کرنے کی ضرورت ہے۔ٹرمپ کے مطابق اگر اساتذہ کے پاس ہتھیار ہوتے تو شاید جانی نقصان نہ ہوتا اور اگر ہو بھی جاتا تو اتنے بڑے پیمانے پر نہ ہوتا۔

ٹرمپ کی اس شرمناک اور انوکھی تجویز سے صرف اور صرف اسلحہ تیار کرنے والی کمپنیوں کو فائدہ حاصل ہوگا،کیونکہ اساتذہ کو مسلح کرنے سے مزید ہتھیار فروخت ہوں گے۔

جن ہاتھوں میں قلم ہوتے ہیں ٹرمپ ان ہاتھوں میں ہتھیار تھمانے کی تجویز دے رہے جس کے بلاشبہ طالب علموں کی نفسیات پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ حل درست نہیں۔

ٹرمپ کو چاہیے تھا کہ وہ اگر امریکہ میں ہتھیاروں کے دھندے کو بند نہیں کراسکتے تو کم از کم ہتھیاروں کی خریدوفروخت پر موجود ضوابط کو مزید سخت کرے ،نہ کہ اساتذہ کو مسلح کرنے کی بات کرتے۔

امریکہ میں 265 ملین ہتھیار امریکیوں میں پھیلے ہوئے ہیں،یعنی ہر 100 میں 89 امریکیوں کے پاس مختلف قسم کے ہتھیار موجود ہیں اور حالانکہ دنیا کی کل آبادی میں امریکی پانچ فیصد رکھتے ہیں،مگر ہتھیار رکھنے والے افراد کے لحاظ سے امریکی عوام کے درمیان دنیا بھر کے 30 سے 35 فیصد ہتھیار موجود ہیں جس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بات کس خطرناک حد تک پہنچی ہوئی ہے اور جناب ٹرمپ عجیب و غریب تجویز پیش کررہے ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ٹرمپ کی اس تجویز سے کافی پہلے پاکستان میں اس پر عمل ہورہا ہے،پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد صوبہ خیبر پختونخواہ میں اساتذہ کو مسلح کیا گیا،جو کہ انتہائی غلط فیصلہ تھا۔کیا اساتذہ ہی رہ گئے ہیں جن کے ہاتھوں سے قلم چھین کر بندوق دیے جائیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

سفارتکاری کی نزاکتوںکو سمجھئے حضور!

(حیدر جاوید سید) گھمسان کے ’’رن‘‘ اور زبان درازیوں سے اٹے ماحول میں بصد ادب ...