اتوار , 24 جون 2018

جزیرہ نما کوریا میں قیام امن اور امریکہ

(تسنیم خیالی)
گزشتہ صدی کے وسط میں امریکہ نے جزیرہ نما کوریا کو دو حصوں میں تقسیم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا اور وہاں ایک خونخوار جنگ کی اصل وجہ بنا جو تین سال جاری رہی۔جزیرہ نما کوریا دنیا کے مستقل اور کشیدگی زدہ حصوں میں سے ایک ہے جہاں کسی بھی وقت تباہ کن جنگ شروع ہوسکتی ہے۔

جنگ کا خطرہ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے بعد مزید زور پکڑ چکا ہے کیونکہ امریکی صدر اور نائب صدر مائیک پنس سمیت متعدد امریکی رہنما اور وزراء شمالی کوریا کے خلاف بیان بازی کرتے ہوئے اسے دھمکی دیتے رہتے ہیں۔یہاں تک کہ چند ماہ قبل جنگ شروع ہونے والی تھی۔

البتہ جنوبی کوریا میں منعقد ہونے والی سرمائی اولپمکس گیمز کے آغاز نے جنگ کے منڈلاتے ہوئے سائے کو کچھ دیر کے لیے دور کردیا ہے۔کھیلوں سے قبل شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے مذاکرات کی پیش کش کی جسے جنوبی کوریا والوں نے قبول کرتے ہوئے اسے اہم پیش رفت قرار دیا۔

خیر پیش کش کے تحت شمالی کوریا کے متعدد رہنماؤں نے خیر سگالی کے طور پر جنوبی کوریا کا دورہ کیا اور اہم جنوبی رہنماؤں سے ملاقات کی۔ملاقات مثبت تھی اور اس سلسلے کو آگے بڑھانے پر دونوں اطراف میں اتفاق طے پایا۔اس پیش رفت سے سب سے زیادہ تکلیف امریکیوں کو ہوئی اور امریکی حکام نے حسب معمول اپنی بیان بازیاں شروع کردیں اور اس پیش رفت کو شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اون کا ڈرامہ قرار دیا اور جنوبی کوریا کو خبردار کرتے ہوئے اسے شمالی کوریا سے دور رہنے کی نصیحت کر ڈالی ،ساتھ ہی امریکہ نے جنوبی کوریا کو اس بات سے بھی آگاہ کیا کہ وہ ان مذاکرات کا مخالف ہے اور جنوبی کوریا کو بھی ہونا چاہیے۔

اس واقعے کے بعد جنوبی کوریا میں سرمائی اولمپکس کا آغاز ہوا اور ایک بار پھر کم جونگ اون نے خیر سگالی کے طور پر افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے اپنی ہمشیرہ کو جنوبی کوریا بھیجا اور یوں ایک نئی تاریخ رقم ہوئی کہ پہلی مرتبہ شمالی کوریا میں حکمران خاندان کا کوئی فرد جزیرہ نما جنوبی کوریا کے دورے پر آیا ہو۔

افتتاحی تقریب میں امریکی نائب صدر مائیک پنس بھی موجود تھے اورشمالی کوریا سے آنے والی خاص مہمان کے قریب بیٹھے تھے۔

شمالی کوریائی اور امریکی رہنماؤں کے درمیان ملاقات بھی ہونی تھی اور اس ملاقات کو انتہائی اہم قرار دیا جارہا تھا،مگر اچانک سے شمالی کوریا نے ملاقات منسوخ کردی۔

اب سوال یہ ہے کہ شمالی کوریا نے ایسا کیوں کیا؟
ملاقات کی منسوخی کی وجہ کوئی اور نہیں بلکہ مائیک پنس ہیں،پنس نے اس اہم موقع سے یوں ہاتھ دھویا کہ شمالی کوریا کے خلاف پھر بیان بازیاں شروع کیں اور دھمکی آمیز لہجہ استعمال کیا۔یہ سب کچھ پنس نے جان بوجھ کر کیا تاکہ ملاقات منسوخ ہو اور کشیدگی جاری رہے ،کیونکہ اس کشیدگی سے صرف اور صرف امریکہ کا مفاد ہے۔

سادہ اور واضح الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ نے دنیا بھر کو ایک ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے،جس کا نام امن ہے،البتہ امریکہ کا امن سے دور کا بھی تعلق نہیں وہ تو صرف دنیا میں تباہی مچارہا ہے اور دنیا کو مختلف جنگوں میں لگایا ہوا ہے اور کشیدگیوں میں ڈالا ہوا ہے خواہ وہ جزیرہ نما کوریا ہو،مشرق وسطیٰ یا کوئی اور ،کیونکہ انہی جنگوں اور کشیدگیوں سے امریکہ کا کاروبار چلتا ہے اور وہ کاروبار اسلحہ کا کاروبار ہے۔

یہ بھی دیکھیں

جنگلات ہمارا مسقبل ہیں! اپنا مستقبل بچائیں

(شیریں حیدر ) ایک ننھا سا بیج، جسے ہم چاہیں تو ایک لمحے میں ہاتھوں ...