ہفتہ , 23 جون 2018

عجائب گھر

(تحریر: سید انجم رضا)
عمر رفتہ کی بودوباش، تہذیب گم گشتہ کی بازگشت، ماضی کے اوراق پلٹ کر تاریخ میں جھانکنا کسی بھی شخص کے لیے دلچسپی کا باعث ہوتا ہے کہ اک تجسس تو بہرحال انسان میں موجودہے۔عجائب گھر ایسی ہی جگہ ہے جہاں ایک ہی چھت کے نیچے مختلف ادوار کی تہذیب وتمدن اور ان سے وابستہ دیگر معلومات ایسے ہی متجسس لوگوں کی تشنگی دور کررہی ہوتی ہیں۔

تاریخ انسانی میں عجائب گھر کی تاریخ بھی بہت پرانی ہے۔ قدیم ادوار میں امراء اور دیگر صاحب اختیار لوگ اپنے گھروں میں کسی ایک مخصوص کمرے میں اپنے آباؤ اجداد کی اشیا ء کو اپنے دوستوں اور دیگر مہمانوں کے لیے محفوظ انداز میں رکھا کرتے تھے ۔ قدیم تاریخ میں ایسے مخصوص عجائباتی کمروں سے متعلق آثار عراق میں دریائے دجلہ و فرات کے درمیان علاقے میں پائی جانے والی بابل، اشاری اور اکادی تہذیبوں میں ملتے ہیں ۔

عجائب گھر یوں تو دنیا میں ہر جگہ موجود ہیں اور ان میں چیزیں بھی ایسی ہی رکھی جاتی ہیں جو عام طور پر دیکھنے میں نہ آتی ہوں اس لحاظ سے عجائب گھر بذات خود ایک عجوبہ ہوتا ہے لیکن عجائب گھروں میں بعض عجائب گھر اپنی مثال آپ ہیں اس وقت ہمارا موضوع ’’پاکستان کے عجائب گھر‘‘ ہے کہ جہاں ہم معلوم شدہ یا دریافت شدہ گزشتہ ادوار کی تاریخ کو محفوظ کر رہے ہیں۔ ماضی انسان کا اپنا ہو یا پوری انسانیت کا ہمیشہ رنگین اور دلچسپ ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ عجائب گھروں میں جا کر تقریباً ہر انسان ایک ناقابل بیان لذت اور سکون محسوس کرتا ہے پرانی تاریخ یا پرانی تہذیب جہاں ہماری ارتقائی جدوجہد سے آگاہ کرتی ہے وہاں ہمارے لیے عبرت اور سبق کا سامان بھی فراہم کرتی ہے ہم جان سکتے ہیں کہ ہم کیا تھے کیا ہیں اور کیا ہونا چاہیے تھا اس وقت تقریباً پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں عجائب گھر موجود ہیں۔ پرانی تہذیب جہاں ہماری ارتقائی جدوجہد سے آگاہ کرتی ہے۔ وہاں ہمارے لیے عبرت اور سبق کا سامان بھی فراہم کرتی ہے۔ ہم جان سکتے ہیں کہ ہم کیا تھے کیا ہیں اور کیا ہونا چاہیے تھا۔ اس وقت تقریباً پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں عجائب گھر موجود ہیں۔

٭پاکستان کے خاص اور مشہور عجائب گھر: نیشنل عجائب گھر۔ کراچی قومی عجائب گھر۔ اسلام آباد فوجی عجائب گھر (آرمی میوزیم) راولپنڈی مرکزی عجائب گھر (سنٹرل میوزیم) لاہور حیواناتی عجائب گھر۔ گورنمنٹ کالج لاہور عجائب گھر شاہی قلعہ۔ لاہور زرعی عجائب گھر۔ فیصل آباد انڈسٹریل میوزیم۔ لاہور پاکستان میں آثار قدیمہ کے عجائب گھر۔ ٹیکسلا اور پشاور ان کے علاوہ بھی بعض مقامات یعنی موہنجوداڑو، حیدر آباد، بہاولپور اور میرپور خاص میں تاریخی اہمیت کے حامل عجائب گھر واقع ہیں۔

پاکستان دنیا کا ایسا واحد ملک ہے جو انسانی تاریخ کی دو قدیم تہذیبوں کا مسکن ہے۔ ”ہمارے ہاں عجائب گھروں میں ’لوئر پیلولیٹو‘ پتھر کے زمانے سے لے کر جدید تاریخ تک جتنے بھی ادوار گزرے ہیں ان سے وابستہ نوادرات اور باقیات موجود ہیں“۔

انسان کب اور کہاں پیدا ہوا کن کن ادوار سے گزرا کیا کیا دکھ جھیلے کیا کچھ مصائب برداشت کیے حقیقتاً ان تمام باتوں پر ابھی تک پردہ پڑا ہوا ہے اس بارے میں صرف قیاس آرائیاں کی جا سکتی ہیں کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے ہاں البتہ دور جدید کا انسان اپنی جدید ترین ایجادات کی مدد سے ان تمام سوالات کے جواب ڈھونڈنے کی کوشش ضرور کر رہا ہے دیکھیے کہاں تک کامیابی حاصل ہوتی ہے کامیابی ہوتی بھی ہے یا نہیں۔ یہ سب اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات بابرکات ہی بہتر جانتی ہے۔ کہنے کو تو ہم کہہ دیتے ہیں کہ انسان کی عمر لاکھوں سال ہے لیکن ہمارے پاس جو شواہد مہیا ہیں وہ صرف پانچ ہزار سال پرانے ہیں وہ بھی صرف موہن جوداڑو، ہڑپہ، ٹیکسلا اور اب بلوچستان کے ضلع کچھی کے شہر مہر گڑھ سے جو کچھ بھی ملا ہے اسی سے کڑیاں ملائی جا رہی ہیں واضح رہے کہ وادی مصر سے جو آثار ملے ہیں وہ بھی تقریباً پانچ ہزار سال ہی پرانے ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو لاکھوں سال کے مقابلے میں پانچ ہزار سال تو ایک لمحے کی حیثیت رکھتے ہیں پانچ ہزار سال تو ایسے ہیں جیسے کل کی بات ہو یہی وجہ ہے کہ پانچ ہزار سال قبل پہلے کے اور آج کے انسان کی تہذیب و تمدن،طرز زندگی اور بودوباش کے طریقوں میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے بلکہ کئی ایک چیزیں تو ایسی ہیں کہ پانچ ہزار سال کے عرصے میں ان میں کوئی فرق نہیں آیا۔

عجائب گھر ویسے تو سبھی کے لیے اپنی تاریخ اور کرہ ارض پر زندگی کے مختلف مدارج سے آگاہی کے لیے بہت ضروری ہیں لیکن ان کا سب سے زیادہ فائدہ تعلیمی شعبے میں اٹھایا جاسکتا ہے ۔”طلبا جو کتابوں میں پڑھتے ہیں اگر ان چیزوں کو،اس تاریخ کو، ان حوالوں کو اپنے سامنے بھی دیکھیں تو یہ ایک دلچسپ انداز تعلم ہوگا“۔

لاہور عجائب گھر 1865-66 میں بنا جوکہ تب پنجاب ایگزیبیشن کی عمارت میں واقع تھا پھر1894 میں اس عجائب گھر کو اس کی موجودہ بلڈنگ جو کہ مال روڈ پر واقع ہے، میں شفٹ کردیاگیا۔ جون لوک وڈ کپلنگ کا شمار اس عجائب گھر کے بنانے والوں میں ہوتا ہے۔

2005ء تک قریباً ڈھائی لاکھ لوگ اس عجائب گھر کی سیر کر چکے ہیں۔ سرگنگا رام نے اس کی موجودہ بلڈنگ کو ڈیزائن کیا تھا جو کہ کسی شاہکار سے کم نہیں۔ ملک کا سب سے بڑا عجائب گھر کئی کمروں پر مشتمل ہے جن میں چندبلاک زیر تعمیر ہیں اور جبکہ باقی جو کہ نمائش کیلئے کھولے جاتے ہیں وہ کئی قیمتی اور پرانی چیزوں سے سجائے گئے ہیں۔ ہر چیز کا نام اور چند معلومات اردو زبان میں آویزاں ہے۔ عجائب گھر مغل اور برٹش دور کی پیٹنگز، سکوں، پاکستان کی دستکاری، بڑے بڑے بُدھا اور پرانے زمانے کے برتن، ہتھیار اور کپڑوں سے سجایا گیا ہے اور ایک فوٹو گیلری بھی موجود ہے جو کہ پاکستان کے وجود میں آنے کا منظر پیش کرتی ہے۔ اس کی ٹکٹ بہت ہی سستی ہے اور ہر قسم کی عوام اور سیاحوں کے لئے کھلا ہے۔ ہر ماہ کے پہلے ہفتے یعنی پیر کو یہ عام عوام کے لئے بند ہوتا ہے کیونکہ اس دن عجائب گھر کی صفائی ستھرائی اور نگہداشت وغیرہ کی جاتی ہے۔ بیرون ملک سے آنے والے سیاح یہاں آتے ہیں اور بہت سی یادیں سمیٹ کے لے جاتے ہیں۔ مختلف سکول سے بچے بڑے سب آتے ہیں اور یہاں موجود چیزیں دیکھ کر محظوظ ہوتے ہیں۔ فن ثقافت اور اپنے ورثے کو زندہ رکھنا چائیے تاکہ نئی نسل بھی پرانے دور سے آشنا ہوسکے۔

 

یہ بھی دیکھیں

ہتھیار ڈال کر سر تسلیم خم کرنا انصار اللہ کی قاموس میں نہیں پایا جاتا: عطوان

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، عالم عرب کے مشہور صحافی عبدالباری عطوان نے ...