اتوار , 24 جون 2018

کم جونگ اون کی ہمشیرہ اور شمالی کوریا کی طاقتور ترین خاتون کم یو جونگ کی زندگی کی مختصر داستان

تاریخ پیدائش: 26 ستمبر 1987ء
جائے پیدائش: پیانگ یانگ شمالی کوریا
والد کا نام: کم جونگ ایل (شمالی کوریا کے سابق صدر)
والدہ کا نام: کویونگ ہوئی
بھائی: کم جونگ چول اور کم جونگ اون (شمالی کوریا کے موجودہ صدر)
ابتدائی زندگی:
کم یو جونگ شمالی کوریا کے سابق صدر کم جونگ ایل کی بیٹی اور موجودہ شمالی کوریا کے صدر کم جونگ اون کی چھوٹی ہمیشرہ ہیں۔

تعلیم:
کم یو جونگ نے ابتدائی تعلیم(اپنے دیگر بھائیوں کی طرح) سوئیٹزرلینڈ میں حاصل کی اس کے علاوہ انہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم شمالی کوریا کی کم ایل سونک ملٹری یونیورسٹی سے حاصل کی ،نیز انہوں نے مذکورہ یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس کی تعلیم بھی حاصل کی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ انہوں نے سویٹزرلینڈ میں اپنے دیگر بھائیوں کی طرح متبادل نام سے تعلیم حاصل کی تھی،سویٹزر لینڈ کے ریکارڈ میں کم یوجونگ کا نام ’’باک می ہیانگ‘‘ تھا۔

عملی زندگی
شمالی کوریا کے سابق سربراہ کم جونگ ایل کی وفات کے بعد ان کے چھوٹے بیٹے کم جونگ اون نے اقتدار سنبھالا،ان کے اقتدار میں آنے کے ساتھ ہی ان کی ہمشیرہ کم یوجونگ نے بھی سیاسی میدان میں قدم رکھ دیا اورشمالی کوریا کی قومی دفاعی کمیٹی کی رکن بن گئیں۔

9 مارچ 2014ء میں کم یو جونگ کو شمالی کوریا کی حکمران جماعت لیبرل پارٹی کی سینٹرل کمیٹی میں اعلیٰ عہدے سے نوازا گیا۔

28 نومبر 2014ء میں کم یو جونگ کو شمالی کوریا کی حکمران جماعت لیبرل پارٹی کی سینٹرل کمیٹی میں اعلیٰ عہدے سے نوازا گیا۔

28 نومبر 2014ء میں انہیں لیبرل پارٹی کے پراپیگنڈہ اینڈ ایگیٹیشن ڈیپارٹمنٹ کا مینجر مقرر کیا گیا اور مارچ 2015ء میں انہیں اس ادارے کا سربراہ مقرر کیا گیا،جس کے ساتھ کم یوجونگ اس وقت شمالی کوریا کی طاقتور ترین خاتون بن گئیں، اس کے علاوہ کم یوجونگ وزیر کے منصب پر بھی فائز ہیں البتہ ان کی وزارت کے حوالے سے کسی بھی قسم کی معلومات میسر نہیں۔

کم یوجونگ کی سیاسی طور پر ترقی کا سفر مزید جاری رہا اور اکتوبر2017ء میں لیبرل پارٹی کے سیاسی آفس میں بھی رکن کی حیثیت حاصل ہوئی،اس ادارے کے سربراہ کم جونگ اون ہیں اور یہی ادارہ شمالی کوریا کے سیاسی فیصلوں کا مرکز ہے۔

کم یوجونگ کے سیاسی اثرورسوخ کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ کم جونگ اون نے انہیں جنوبی کوریا میں منعقد ہونے والی سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کیلئے بھیجا اور یوں کم یوجونگ شمالی کوریا کے حکمران خاندان کی پہلی فرد بن بیٹھیں،جس نے جزیرہ نما کوریا کی جنگ کے بعد جنوبی کوریا کا دورہ کیا۔

جنوبی کوریا میں کم یو جونگ کی ملاقات جنوبی کوریا کے صدر مون جی ان سے ہوئی اور یوجونگ نے انہیں اپنے بھائی کے ہاتھ سے لکھا دعوت نامہ بھی پیش کیا جس میں کم جونگ اون نے مون جی ان کو شمالی کوریا کا دورہ کرنے کی دعوت دی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران کی اسرائیل کے خلاف نمایاں کامیابی

(تسنیم خیالی) دور حاضر میں انٹیلی جنس اداروں کا کسی بھی جنگ میں کلیدی کردار ...