جمعرات , 13 دسمبر 2018

موجودہ صدی کا فتنہ

آج کل سعودی عرب کے اندر سیاسی و اقتصادی اتھل پتھل اور مہین آہ و فغاں کا طوفان ہے،بعض ماہرین کا خیال ہے کہ مالی بد عنوانی اور موجودہ فسادات سے مقابلہ کا یہ طریقہ اور پروجیکٹ خود آل سعود سے تعلق رکھنے والے سرمایہ داروں کے لئے بھی نیا ہے چونکہ انہوں نے بھی اس سے پہلے ایسا طریقہ سعودی عرب میں تو نہیں دیکھا تھا۔ایک ایسا طریقہ کہ جس میں نہ جانے کتنی خطائیں آج تک سرزد ہوچکی ہیں اور ساتھ ہی یہ اپنے ملک اور خطہ میںجود دوسری عربی ریاستوں کے لئے بھی بڑا خطرہ بنتا جارہا ہے جس کے سبب خلیج فارس کے دوسرے ممالک اپنی خود مختاری کے لئے آواز اٹھانے کے لئے آمادہ ہیں اور ساتھ آل سعود سے مقابلہ کے لئے بہت سے گروہ سامنے آنا چاہتے ہیں۔

سب سے بڑی پریشان کن بات یہ ہے کہ آج کل جس طریقہ اصلاح پر عمل ہورہا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس میں عقل و منطق کا تو کوئی دخل نہیں اور جس کا نتیجہ، صرف خطہ میں جنگ کے شعلے بھڑکانے اور داخلی حالات کشیدہ کرنے کے علاوہ کچھ اور نہیں ہیں اور ساتھ ہی یہ توجہ بھی رہے یہ خطرات صرف سعودی عرب کو ہی لاحق نہیں ہونگے بلکہ اس کے ناپسندیدہ اثرات پورے خطہ میں پھیل کر خطہ کی ہر اقلیت کے لئے مشکلات کے پہاڑ کردیںگے۔

اگرچہ سعودی عرب کے سیاسی اور جغرافیائی دشمن بنانے میں امریکہ کا بھی بڑا ہاتھ ہے،اسی کے سبب تو سعودی عرب کے اس بےوقوف شہزادے کو جرأت ملی کہ وہ ایسے اقدامات کا مرتکب ہو اور نہلے پر دہلہ یہ کہ ادھر امریکہ میں بھی ایک سنکی مزاج شخص کرسی صدارت پر براجمان ہے،اور چونکہ دو پاگل یکجا جمع ہوچکے ہیں تو اب خطےکا اللہ ہی مالک۔

آج جو حال سعودی عرب کے اقتصاد کا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے بلکہ عرب کے جو سرمایہ دار امریکہ اور یورپ میں سرمایہ کاری کرتے تھے انہوں نے بھی اپنے ہاتھ کھینچ لئے ہیں۔ نیز سعودی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والے بیرونی سرمایہ کار بھی اب سعودی کے جدید اقتصادی سسٹم سے نامید ہوچکے ہیں جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ سعودی ولیعہد نے اربوں ڈالر تاجروں سے ٹھگے ہیں کہ قانونی طور پر جن لوگوں کا مال اصلی اور صحیح تھا۔

درحقیقت سعودی ولیعہد نے ان تاجروں اور سرمایہ کاروں کو دھوکہ دیکر سعودی اقتصاد پر ایک کاری ضرب لگائی ہے اور خود سعودی عوام بھی اس خبیث ترین اور بے رحم شہزادے کے ہاتھوں سے محفوظ نہیں ہیں۔ خیر ان اقتصادی مسائل کو چھوڑئیے! سیاسی مسائل کے طوفان میں اب سعودی عرب کی کشتی ایک گرداب میں پھنس چکی ہے اور مسلسل یمن میں کئی سال کے نتائج نے سعودی کو پوری دنیا کے سامنے خوار کردیا ہے اگرچہ ریاض کا دعویٰ یہ ہے کہ محمد بن سلمان نے یمن پر اس وجہ سے حملوں کا آغاز کیا تھا کہ اس کی نظر یمن کے حوثی قبائل پر تھی کہ جن کو ایران کی حمایت حاصل ہے۔

جنگ کے ہر منظر سے یہ تصویر ابھر کر سامنے آرہی ہے کہ بن سلمان کا یمن پر حملہ وہاں پر قحط کا سبب بنا،وہاں کے لوگوں کے گھر مسمار ہوئے، لاکھوں لوگ لقمہ اجل بنے اور کئی لاکھ لوگ دربدری کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔

جبکہ حقیقت کچھ اور ہی ہے ،سعودی اتحاد کا یمن پر حملہ کرنے کا اصل سبب کچھ اور ہی نظر آتا ہے چونکہ باب المندب یمن کی وہ واحد بندر گاہ ہے کہ جہاں سے ۶۵ فیصد تیل بردار جہاز اور مال بردار کشتیاں گذرتی ہیں،بن سلمان کا ارادہ تھا کہ اگر اس کے ہاتھ یہ حساس علاقہ آجائے تو اسے قارون کا خزانہ مل جائے گا لیکن حوثیوںنے اس کے ان خوابوں کو شرمندہ تعبیر نہ ہونےدیا۔

کیا عالمی برادری ایسی چیزوں پر خاموش تماشائی بنی رہے گی؟ اور وہ بھی ایک بے وقوف شہزادےکی دلی مرادوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ؟ایسا شہزادہ جو اپنے ہی خاندان کے ثروتمندوں اور سعودی عرب کے شہریوں پر مخالفین کا لیبل لگا کر تشدد کرنے اور قتل و غارت کرنے کو ہی اپنی پہچان بنا چکا ہے پس ضروری ہے کہ دنیا کے تمام حساس ادارے ہوشیار رہیں کہ اس خطہ میں جلد ہی ویتنام اور عراق و افغانستان سے بری جنگ ہوسکتی ہے جس کا اثر صرف خطہ پر ہی نہیں بلکہ بن سلمان کے آقاؤں پر بھی پڑے گا،یہ حکومت طلبی کے جنون میں ہٹلر سے بھی آگے بڑھ چکا ہے۔

اگرچہ ریاض بخوبی جانتا ہے کہ وہ تہران سے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتا لیکن ایران اور مقاومت سے منسلک ممالک یا گروہوں کو کمزور کرنے کی مسلسل کوشش میں ہے اور حزب اللہ کو کمزور کرکے لبنان کو جنگ کے میدان میںدھکیل کر کمزور بنانا چاہتا ہے۔

ریاض نے تل ابیب کو جنوب لبنان پر حملہ کرنے کے لئے ہری جھنڈی دکھا دی ہے اور تل ابیب اور ریاض کے درمیان جاسوسی تبادلہ کی خبریں بھی عام ہوچکی ہیں کہ جو ایک جنگ کی چنگاری ہے اور ریاض کا تل ابیب کو جنگ کے لئے آمادہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ریاض اس خطہ میں ایک عظیم جنگ کا خواہاں ہے۔(بشکریہ رسا نیوز)

یہ بھی دیکھیں

کیا بی جے پی کی شکست مودی دور کا خاتمہ ثابت ہو گی؟

(سید مجاہد علی) بھارت میں تین اہم ریاستوں راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں ...