جمعرات , 21 نومبر 2019

ولی عہد محمد بن سلمان نے آخر باپ کو بھی رنگ دکھا دیا

(تسنیم خیالی)
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے نرالے رنگوں سے اب کون ہے جو واقف نہیں؟ جس دن سے شہزادہ اقتدار میں آیا اس دن سے علاقے میں کیا، دنیا بھر میں سعودی عرب کے چرچے ہورہے ہیں اور اب باپ کے لاڈلے ولی عہد نے اپنا رنگ اپنے باپ کو بھی دکھا دیا ہے۔ ٹویٹر پر سرگرم ’’نافذ‘‘ نامی صارف (جو خود کو سعودی عہدیداروں سے قریب بتاتا ہے) نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اپنے بیٹے اور ولی عہد محمد بن سلمان پر انکی پالیسیز اور سیاسی فیصلوں کی وجہ سے ازحد نالاں ہیں، یہی نہیں بلکہ شاہ سلمان نے بن سلمان کی سرگرمیوں کو روکنے کےلیے بن سلمان کو آرام کی غرض سے چھٹیاں دی ، البتہ بیٹے نے باپ کے اس فیصلے کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی سر گرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

نافذ کہتے ہیں کہ سعودی میڈیا پر جو نظر آرہا ہے اور جو کچھ دکھایا جا رہا ہے حقیقت سے اسکا کوئی تعلق نہیں اور شاہ سلمان درحقیقت اپنے ولی عہد کی پالیسیوں اور پالیسیز کی وجہ سےحکمران خاندان اور سعودی خارجہ امورپر منفی اثرات مرتب ہونے سے کافی پریشان ہیں۔ ’’نافذ ‘‘کا مزید کہنا تھا کہ شاہ سلمان نے ولی عہد کو گزشتہ جنوری میں چھٹی دینے کا فیصلہ جاری کیا تھا البتہ بن سلمان نے اپنے والد کے اس فیصلے کو نظرانداز کرتے ہوئے اس پر تاحال عمل نہیں کیا۔

’’نافذ‘‘ کے انکشاف سے واضح ہوتا ہے کہ شاہ سلمان اپنے بیٹے کی حرکتوں، فیصلوں اور پالیسیز سے تنگ آ چکے ہیں، اور اپنے بیٹے کے ہاتھوں ہونے والی خرابیوں کو جلد از جلد درست کرنا چاہتے ہیں۔البتہ چھٹی پر بھیجنے کے شاہی فیصلے سے کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ کیا یہ فیصلہ صرف چھٹی کی حد تک ہے؟ یعنی چھٹی ختم ہونے کے بعد بن سلمان واپس اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔یا پھر شاہ سلمان پھر سے ولی عہد بدلنے کے چکر میں ہیں کیونکہ موجودہ ولی عہد نے تو سعودی عرب کا بیڑہ غرق کردیا ہے؟

ولی عہد نے بھی اپنے والد کے فیصلے کو نظر انداز کر کے دلوں میں اس شک کو تقویت دی ہے کہ کچھ گڑ بڑ ہے اور دونوں باپ بیٹے میں اختلاف پیدا ہوچکے ہیں۔اگر حقیقت میں ایسا ہے تو سعودی عرب میں آنے والے وقت کچھ نہ کچھ اہم ہونےجارہا ہے جس میں بادشاہ یا ولی عہد کی رخصتی شامل ہے۔

یہ بھی دیکھیں

یمن کے کوسٹ گارڈز نے 3 کشتیوں کو ضبط کرلیا

    صنعا: یمن کے کوسٹ گارڈز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یمن …