منگل , 19 جون 2018

بھارتی تعصب پر نئی دہلی سے پاکستانی سفارتکار کو واپس بلانے پر غور

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کی جانب سے پاکستانی سفارتکار اور ان کے اہل خانہ کو دھمکی اور ہراساں کیے جانے پر اسلام آباد نے بھرپور احتجاج کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ نہیں روکا گیا تو سفارتکار کو فیملی کے ہمراہ واپس بلالیا جائے گا۔سفارتی ذرائع نے بتایا کہ اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن اور دہلی میں وزارت خارجہ امور کو آگاہ کردیا گیا ہے۔

اس حوالے سے ذرائع نے تفصیلات سے آگاہ کیا کہ ’پاکستانی سفارتکار اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں کرنے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث انہیں بھارت میں تعینات کرنا مشکل ہو چکا ہے‘۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ ہراساں کیے جانے والے سفارتی عملے کے اہل خانہ مزید برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

اس ضمن میں انہوں نے بتایا کہ تین روز قبل پاکستانی ڈپٹی ہائی کمشنر کے بچوں کو اسکول جاتے وقت راستے میں روکا اور انہیں ہراساں کیا گیا جبکہ اس سے قبل ایک اور واقعے میں سینئر سفارتکار کو دہلی جاتے ہوئے ہراساں کیا گیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ سفارتکاروں کی گاڑیوں کو مختلف حیلے بہانوں سے روک کر تلاشی لی جاتی ہے دوسری جانب پاکستان کے سفارتی عملے کو عوامی مقامات پر بدتہذہبی کا سامنا ہے۔

مذکورہ واقعات کے بعد سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے پاکستانی سفارتی عملے کو ہراساں کرنے کے واقع کی مذمت کی اور بھارت کی جانب سے اسے سفارتی آداب کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔

نئی دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن میں بھارتی عملے کو بھی انتظامی امور کی انجام دہی کے لیے آنے سے روک دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آتے ہی دونوں ممالک، پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بلا اشتعال فائرنگ کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا، 2003 میں جنگی بندی کے معاہدے کے باوجود بھارتی فوجیوں کی فائرنگ سے 87 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔

اس ضمن میں اکتوبر 2016 میں وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے پیش گوئی کی تھی کہ جب تک ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی اقتدار میں ہیں، پاک-ہندوستان تعلقات میں بہتری کی امید بہت کم ہے تاہم ‘پاکستان خطے کے بہترین مفاد میں ہندوستان سے کشیدگی کا خاتمہ چاہتا ہے‘۔

پاک-ہندوستان کشیدگی—کب کیا ہوا
پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات اُس وقت مزید کشیدہ صورت حال اختیار کر گئے، جب 18 ستمبر کو کشمیر کے اوڑی فوجی کیمپ میں ہونے والے حملے کے بعد، جس میں 18 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے، ہندوستان نے اس کا الزام پاکستان پر لگاتے ہوئے اسے عالمی سطح پر تنہا کرنے کی سفارتی کوششوں کا آغاز کیا تھا تاہم اسلام آباد نے اس الزام کو یکسر مسترد کردیا تھا۔

بعدازاں 29 ستمبر کو بھارت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے کنٹرول لائن کے اطراف پاکستانی علاقے میں دہشت گردوں کے لانچ پیڈز پر سرجیکل اسٹرائیکس کیں جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی۔

پاکستان نے ہندوستان کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیکس کے دعوے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کنٹرول لائن پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا واقعہ تھا جس کے نتیجے میں اس کے دو فوجی جاں بحق ہوئے۔

بعد ازاں یہ رپورٹس بھی سامنے آئیں کہ پاکستانی فورسز کی جانب سے ایک ہندوستانی فوجی کو پکڑا بھی گیا ہے جبکہ بھرپور جوابی کارروائی میں کئی انڈین فوجی ہلاک بھی ہوئے۔

ہندوستان کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیکس کا دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب کشمیر کی موجودہ صورتحال پر دونوں ملکوں کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ تھے اور اس واقعے نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔

یاد ریے کہ رواں برس 8 جولائی کو حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی انڈین فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد سے کشمیر میں صورتحال کشیدہ ہے اور پولیس سے جھڑپوں اور مظاہروں میں اب تک 100 سے زائد کشمیری ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں جبکہ چھرے لگنے سے 150 سے زائد کشمیری بینائی سے محروم ہوچکے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ٹرمپ کی اہلیہ نے اپنے شوہر کیخلاف آواز بلند کردی

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اہلیہ نے اپنے شوہر کیخلاف آواز بلند کردی، ...