جمعہ , 25 مئی 2018

خفیہ تعلقات اور باہمی مشترکہ مفادات کے باوجود

تسنیم خیالی
عرصہ دراز سے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان خفیہ تعلقات کے ساتھ ساتھ باہمی مشترکہ مفادات اور اتحادموجود ہیں اور کچھ عرصے سے یہ سب کچھ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ پر زیر بحث ہے کوئی خوش ہے توکوئی نالاں ۔دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور اتحاد کی وجہ ایران کو قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اسرائیل اور سعودی عرب کے نزدیک علاقے میں انہیں سب سے زیادہ خطرہ ایران سے ہے، جس سے نمٹنے کے لئے اگر سعودی عرب اور اسرائیل اتحاد بھی کرجائیں تو حرج نہیںسعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان اچھے اور مضبوط تعلقات کا اعتراف تو اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کئی مرتبہ کیا ہے، انکے بقول دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات کی سطح ایسی,

ہے جس پرخود انہیں بھی حیرانی ہوتی ہے۔اس بارے میںسعودی موقف کی بات کی جائے تو وہ اب تک خاموش ہے جو ماہرین کے مطابق اس بات کا اقرار ہے کہ واقعی میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات موجود ہیں۔البتہ ان تعلقات کے باوجود اسرائیلی سعودی عرب میں جوہری پاور پلانٹس کی تعمیر اور سعودی عرب میں یورنیم اور پلوٹونیم جیسے جوہری عناصر کی افزائش کے مخالف ہیں اور سعودی عرب کوبطور جوہری توانائی کا حامل ملک دیکھنا نہیں چاہتے جس کا اظہار نیتن یاہو کرچکے ہیں۔نیتن باہو اس بات کے شدید مخالف ہیں کہ امریکی کمپنیاں سعودی عرب میں جوہری پاور پلانٹس کی تعمیر کریں اور سعودی عرب کو جوہری توانائی کی ٹیکنالوجی سے لیس کردیں،

کیونکہ اسرائیل کے نزدیک اس اقدام سے اسرائیل کی سالمیت کو بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔یعنی اسرائیل کو اس معاملے میں اپنے ہی اتحادی اور خفیہ طور پر دوست ملک سے خطرات۔اسرئیل کے اس اعلان سے واضح ہوتا ہے کہ صہیونیوں کی اس ریاست کے ساتھ دوستی گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ سود مند نہیں، کیونکہ وقت آنے پر یہ ریاست اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے دوستوں کوبھی دھوکہ دے دیتی ہے۔اب سعودیوں کو اسرائیل کے اس رویے کو دیکھتے ہوئے سوچنا چاہیے کہ جہاں صہیونیوں کے ساتھ دوستی امت مسلمہ کے لیے نقصان دہ ہے۔وہیں پہ یہ دوستی خود سعودیوں کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔امریکہ کی بات کی جائے تو امریکہ کی یہی کوشش ہے,

کہ سعودی عرب میں اگر جوہری پلانٹس تعمیر ہوتے ہیں تو وہ امریکی کمپنیوں کے ہاتھوں ہی تعمیر ہوں، کیونکہ اگر یہ کام امریکی کمپنیاں نہیں کرتی تو سعودی عرب نے متبادل راستہ اپناتے ہوئے یہ ٹھیکہ روس یا چینی کمپنی کو دے دینا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کیا سعودی عرب میں جوہری پلانٹس کی تعمیر اسرائیلی مخالفت کے باوجود ہوگی؟ کیا امریکی کمپنیاں ایسا کریں گی؟اور سعودی عرب میں جوہری پلانٹس کی تعمیر کے عوض سعودی اسرائیلیوں کو کیا دے کر منائیں گے؟

یہ بھی دیکھیں

ایران سے متعلق امریکہ کی 12 حسرتیں

(آئی اے خان) امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے 21 مئی کو ہیریٹیج فاؤنڈیشن میں ...