بدھ , 24 اکتوبر 2018

میڈیا پر انقلابی حکومت کا کنٹرول ختم ہو رہا ہے (2)

(جاوید صدیق)

ایران کے دورے پر آئے ہوئے پاکستانی میڈیا کے نمائندوں سے گزشتہ روز ایران کے نائب وزیر پریس و انفارمیشن محمد سلطانی فر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس دور میں میڈیا پر ریاست کا کنٹرول ممکن نہیں ہے۔ ایک گھنٹہ کی طویل گفتگو میں جو تہران میں ان کے دفتر میں ہوئی۔ ایرانی نائب وزیر اطلاعات نے پاکستانی صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں بتایا کہ ایرانی حکومت نے میڈیا پر کئی قدغنیں لگائی ہوئی ہیں لیکن اب کمیونیکیشن ٹیکنالوجی تبدیل ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعہ اطلاعات انتہائی تیزی سے پھیلتی ہے جنہیں روکنا ریاستی اداروں کے بس میں نہیں۔ ایرانی نائب وزیر نے یہ بھی بتایا کہ ایران میں نجی گھروں میں ڈش لگے ہوئے ہیں جن کے ذریعہ وہ دنیا بھر,

کے ٹی وی چینل دیکھ رہے ہیں‘ ان چینلوں کی نشریات کو ایرانیوں تک پہنچنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ ایران کے نائب وزیر اطلاعات بہت پڑھے لکھے شخص ہیں‘ وہ ہمارے مشاہد حسین سید کے بھی دوست ہیں۔ پاکستانی صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے سینیٹر مشاہد حسین سے اپنی ملاقاتوں کا بھی تذکرہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ یونیورسٹی میں جرنلزم پڑھاتے بھی ہیں۔ انہوں نے اس تاثر کی نفی کی کہ ایرانی حکومت پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر کنٹرول جاری رکھنا چاہتی ہے۔ موجودہ دور میں لوگوں کو اطلاعات تک رسائی کو روکنا ممکن نہیں ہے۔ ایرانی نائب وزیر اطلاعات نے اس بات پر دکھ کا اظہار کیا کہ دنیا کے 156ملکوں سے میڈیا کے نمائندے ایران میں موجود ہیں جن میں,

سی این این، بی بی سی اور امریکہ کے دوسرے چینل بھی ہیں۔ ایران اور پاکستان دونوں پڑوسی اور اسلامی
ملک ہیں لیکن ان کی میڈیا کے درمیان کوئی بھی کوارڈینیشن نہیں۔ پاکستانی میڈیا کو تہران میں اپنے نمائندے تعین کرنا چاہیے تاکہ پاکستانیوں کو ایران کی صحیح صورتحال کا علم ہوسکے۔ ایران میں حالیہ گڑ بڑ پر بھی ایرانی نائب وزیر سے دلچسپ گفتگو ہوئی۔ ایرانی نائب وزیر محمد سلطانی فر ایک کھلے ڈھلے آدمی ہیں۔ لگی لپٹی بغیر بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہ کہ حال ہی میں جو گڑ بڑ ہوئی تھی اس میں ایرانی عوام نے اپنے مسائل اور پریشانیوں کا اظہار کیا جو انکا حق ہے۔ حکومت کو احتجاج کرنے والوں کے مسائل حل کرنے چاہیے۔ مغربی دنیا نے اس گڑ بڑ کو ایران کی,

اسلامی حکومت اور اصلاح پسندوں کے درمیان کشمکش سے تعبیر کیا ہے۔ایران کی نئی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایران کے تمام صوبوں میں اب خصوصی میدان مختص کئے جائیں گے جہاں لوگ کھل کر اپنے مسائل کا اظہار کریں اور احتجاج کریں۔ ہم ایران میں کئی ہائیڈرر پارک بنائیں گے تاکہ حکومت سے لوگوں کو جو شکایات ہیں وہ ان کا اظہار کرسکیں۔ پاک ایران تعلقات پر ایرانی نائب وزیر کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک کے درمیان بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ دونوں ملکوں کے اخبارات چینل اور صحافی کرسکتے ہیں پاکستان اور ایران کے میڈیا کے درمیان بہتر انٹرایکشن اور ایک دوسرے کے مسائل اور طرز فکر کو بہتر طور پر سمجھنے میں ہمارے درمیان غلط فہمیوں کا خاتمہ
ہوسکے گا۔

محمد سلطانی فر کا کہناتھا کہ پاکستانی اخبارات اور چینلوں کو تہران میں اپنے بیوروز بنانے چاہئیں۔ ایران کے میڈیا کے کئی نمائندے پاکستان میں موجود ہیں ان میں ایران کی مقامی خبر رساں ایجنسی ارتا‘ انگریزی پریس ٹی وی اور دوسرے اداروں کے پاکستان میں نمائندے موجود ہیں۔ایرانی نائب وزیر اطلاعات نے پیشکش کی اگر پاکستانی اخبارات تہران میں اپنے نمائندے بھیجنا چاہیں تو حکومت ان سے بھرپور تعاون کرے گی۔ ہم پاکستانی میڈیا کے بیوروز قائم کرانے میں ان کی مدد کریں گے۔

یہ بھی دیکھیں

فلسطینی اتھارٹی کے کلیدی عہدے من پسند افراد کے لیے کیوں؟

فلسطینی اخبارات میں آئے روز خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں کہ فلسطینی اتھارٹی کے فلاں ...