جمعہ , 25 مئی 2018

شمالی کوریا، امریکہ مناقشہ اور پاکستان

(عارف بہار)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ ان سے ملاقات کا اعلان کر کے اچانک ایک بڑا یوٹرن لے لیا۔ اس اچانک یوٹرن نے دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ہے کیونکہ ابھی کل تک ہی دونوں کے درمیان تند وتیز جملوں کا تبادلہ ہو رہا تھا۔ دنیا بھر کا میڈیا ان جملوں کا دلچسپ تبصروں اور کارٹونوں کے ذریعے مذاق اُڑا رہا تھا۔ یوں لگ رہا تھا دنیا ایک تھیٹر ہے جہاں ٹرمپ اور کم جونگ اپنے مزاحیہ اور بھاری بھرکم ڈائیلاگ کے ذریعے ناظرین پر اپنی دھاک بٹھا رہے ہیں۔ کئی ایک جملوں پر تو غیر اخلاقی کارٹون اور تبصرے بھی ہوئے۔ تھیٹر کا باقاعدہ آغاز ٹرمپ کے اس ڈائیلاگ سے ہوا تھا کہ ’’کم کو معلوم نہیں کہ انہیں ایسے غیظ وغضب کا سامنا کرنا پڑے گا جو دنیا نے پہلے,

کبھی نہیں دیکھا ہوا۔ راکٹ مین اپنی حکومت کیلئے خودکش مشن پر ہے‘‘۔ اس کے جواب میں کم جونگ ان کا یہ ڈائیلاگ ٹرمپ کے چودہ طبق روشن کر گیا ’’میں یقیناً ذہنی معذور ہوں امریکی بڈھے کو آگے سے سدھاؤں گا‘‘۔ تھوڑے سے وقفے کے بعد ٹرمپ نے پھر لفظی میزائل ٹویٹر کے ذریعے یوں داغا ’’کم جونگ پاگل ہے اور اسے اپنے لوگوں کے بھوکا رہنے سے غرض نہیں‘‘۔ یوں لگ رہا تھا کہ کم جونگ کے ایک دو جوابی جملوں نے ہی ٹرمپ کے حوصلے توڑنا اور اعصاب چٹخانا شروع کر دئیے تھے اس لئے وہ اس شکوے بھرے جملے کیساتھ سامنے آئے کہ ’’کم جونگ ان بوڑھا کہہ کر میری توہین کر رہے ہیں۔ وہ حقیقت میں ایک بیمار پلا ہے‘‘۔ اب وہ دونوں طرف سے وہ تاریخی,

جملے ادا کئے گئے جن کا مذاق خود امریکی اخبارات نے غیر اخلاقی کارٹون میں اُڑایا۔ کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ تمام امریکی ہمارے ایٹمی ہتھیاروں کی زد پر ہیں اور ایٹمی ہتھیار ہمہ وقت میری میز پر دھرے رہتے ہیں‘‘۔ اب معاملہ ملفوف اور مستور نہیں رہا تھا بلکہ ایٹمی جنگ کی دھمکیوں تک پہنچ گیا تھا۔ ٹرمپ نے اس کا جواب یوں دیا ’’میرے پاس بھی ایٹمی ہتھیار کا بٹن ہے اور یہ اس کے بٹن سے بڑا اور زیادہ طاقتور ہے‘‘۔ ٹرمپ کو ملنے والے ان ترکی بہ ترکی جوابوں کے بعد اب دنیا ان لفظوں اور دھمکیوں کے عملی شکل میں ڈھلنے کا انتظار کر رہی تھی۔ دنیا نے شاید ابھی تباہ ہونے کی بجائے طاقت کو طاقت کی زبان سے کنٹرول کرنے اور روکنے کا ایک اور عملی مظاہرہ دیکھنا تھا۔ اچانک,

ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی کوریا کا نام استعمال کرتے ہوئے شمالی کوریا کے بارے میں اپنا لہجہ تبدیل کرنا شروع کیا۔ شمالی کوریا کے سرمائی اولمپکس میں اپنا دستہ بھیج کر ٹرمپ کو یوٹرن کا راستہ ملا، یہاں تک کہ ایک روز ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ’’مجھے یقین ہے کہ شمالی کوریا بھی امن چاہتا ہے اور یہ اس کا وقت ہے‘‘۔ ٹرمپ نے کم جونگ ان سے ملاقات کا اعلان کر کے اپنے یوٹرن کو مزید وسیع اور مستقل بنانے کا اعلان بھی کیا۔ اب دونوں بڈھا، پاگل، خودکش جیسے الفاظ بھول بھال کر مئی میں دنیا کے کسی بھی مقام پر ملاقات کر سکتے ہیں۔ شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان تند وتلخ جملوں کے تبادلے کے بعد حالات میں ڈرامائی تبدیلی کا خلاصہ یہ ہے کہ شمالی کوریا,

کے لیڈر نے امریکہ کی دھونس اور دھمکیوں کو خاطر میں نہ لاکر طاقت کا نشہ ہرن کیا اور یوں ٹرمپ شمالی کوریا کے حوالے سے چند ماہ میں ہی یاس یگانہ چنگیزی کے اس شعر کی تصویر بن گئے۔

                          خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا
                             خدا بنے تھے یگانہ مگر بنا نہ گیا

شمالی کوریا اور کم جونگ ان کی ذات کے معاملے پر ٹرمپ کے یوٹرن میں پاکستان کیلئے ایک بڑا سبق ہے۔ طاقت کے آگے ڈھیر ہونے کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ لڑھکنا اور لڑھکتے چلے جانا ایسی قوموں کا مقدر ہوتا ہے جو قومیں اپنی عزت نہیں کرتیں، دنیا ان کی عزت نہیں کرتی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا سے زیادہ تلخ زبان پاکستان کیخلاف استعمال کی، جواب میں کوثر وتسنیم میں دُھلی زبان ان کے ہر نئے جملے کو پہلے سے زیادہ تلخ اور حقارت آمیز بناتی رہی۔ اب عالم یہ ہے کہ امریکہ ناروا اور بے مقصد مطالبات کی ایک فہرست اُٹھائے پاکستان کو طعنہ ودشنام کا شکار بنا رہا ہے۔ اس کی حقیقت اور امریکی عزائم کی نشاندہی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے یوں کی ہے۔ ’’پاکستان,

ان قوتوں کا ہدف ہے جنہوں نے عراق، لیبیا اور شام میں خون کی ہولی کھیلی ہے، کل کو ہم بھی نشانہ بن سکتے ہیں اور ہم ان کے نشانے پر ہیں‘‘۔ یہ حافظ سعیدکا بیان ہے نہ اخبارات کی فائلوں میں دفن جنرل حمید گل کے کسی خطاب کی سرخی بلکہ یہ ملک کے وزیر خارجہ کے الفاظ ہیں۔ اگر ان سے خواجہ آصف کا نام ہٹا دیا جائے تو اندازہ کرنا مشکل ہوگا کہ حالات کا یہ تجزیہ متذکرہ بالا شخصیات میں سے ہی کوئی کر رہا ہے۔ عراق، لیبیا اور شام میں امریکہ کا پہلا شکار ان ملکوں کا نیوکلئس تھا۔ ہر ملک کا اپنا نیوکلئس ہوتا ہے۔ تاریخ میں گہری جڑیں اور روایات رکھنے والے ملکوں میں آئین اور پارلیمنٹ بھی شیرازہ ہوتی ہیں مگر کئی ملکوں میں طاقتور شخصیات اور فوج بھی یہ کام دیتی ہے۔

کوئی پسند کرے یا نہ کرے پاکستان میں جمہوریت، آئین اور پارلیمنٹ ابھی ارتقائی مراحل میں ہیں اور یہ ادارے ابھی شیرازہ بننے کے مقام تک نہیں پہنچ سکے، پاکستان میں سول سٹرکچر کو بحال رکھنے والی قوت فوج ہے جو اس ملک کا واحد منظم ادارہ ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کی حوالگی اور اقتصادی پابندیوں کی قبولیت سمیت صدام، قذافی اور اسد نے امریکہ کی کون سی فرمائش پوری نہیںکی مگر ان کے ملک معتوب سے دوبارہ محبوب نہ بن سکے۔ عراق، لیبیا اور شام میں منظم اداروں کے زمین بوس ہونے نے ان ملکوں کو آگ کے الاؤ میں بدل دیا ہے اور یہ آگ ان کے وجود کو راکھ کر رہی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں کم جونگ ان اور ٹرمپ کی لڑائی میں پاکستان کیلئے یہ سبق پنہاں ہے,

کہ طاقت کے آگے جھکتے اور جھکتے چلے جانے کی ایک حد ہوتی ہے اور اس حد کے گزر جانے سے شاخ کی لچک ختم ہو جاتی ہے اور وہ توازن اور طاقت کھو کر عراق، لیبیا اور شام بن جاتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران سے متعلق امریکہ کی 12 حسرتیں

(آئی اے خان) امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے 21 مئی کو ہیریٹیج فاؤنڈیشن میں ...