پیر , 20 اگست 2018

سعودی عرب عراق میں سافٹ پاور کا استعمال کررہا ہے

اکانومسٹ(economist) اخبار میں شائع شدہ ایک مضمون کے مطابق عراق میں سعودی عرب ماضی کی طرح ایک نرم وملائم طاقت کا استعمال کررہا ہے جو عراق کے ہمسایہ ملک ایران کی تشویش میں اضافے کے باعث بن رہا ہے ۔ایران کے قریب واقع عراق کا جنوبی حصہ ایران کے لئے اہمیت کا حامل علاقہ ہے کہ جہاں اس وقت سعودی سیاحوں کی آمدورفت کا سلسلہ ایک بار پھر زور پکڑ رہا ہے ۔ماضی میں اس علاقے میں بہت سے امیر سعودی شہریوں نے مکانات اور ویلاز خریدے تھے اور کچھ نے یہاں شادی بھی کی ہوئی تھیں ۔بصرہ کے شیرٹن ہوٹل کہ جہاں سعودی ایمبیسی بھی واقع ہے میں عراقی سنگروں کے گانے سنتے ہیں ، گزشتہ ماہ درجن بھر سے زیادہ سعودی,

شعراءیہاں منعقد ہونے والے ایک ادبی تہوار میں بھی شریک ہوئے تھے ۔اس وقت سعودی عرب اور عراق کے درمیان پروازوں کی تعداد میں بھی قابل ملاحظہ اضافہ ہوا ہے کہ جس کی تعداد اب 140پروازیں ہرماہ بن جاتی ہیں ۔بہت سی سعودی سرکاری کمپنیوں بھی عراق میں اپنے دفتر کھولنے شروع کردیے ہیں کہ جس میں ایک اہم کمپنی پیٹرو کیمیکل سے تعلق رکھنے والی SABICکمپنی ہے ۔داعش کیخلاف جنگ سے باہر نکلنے والے عرا ق کی تعمیر نو کے لئے کویت میں ہونے والی ایک کانفرنس میں سعودی وزیر خارجہ عادل جبیر نے ایک کروڑ ڈالر عراق کو امداد فراہم کرنے جبکہ پانچ سوملین ڈالر برآمدات کے لئےامدادی قرضہ دینے کی بات کی تھی ۔سوال یہ ہے کہ کیا سعودی عرب,

کی عراق کی جانب غیر معمولی توجہ اس مسلم ہمسایہ عرب ملک عراق کی مدد کرنا ہے ؟اخبار لکھتا ہے کہ عراق میںسعودی دلچسپی شروع میں امریکہ کی جانب سے ناپسندیدگی کے طور پر دیکھی گئی جو ایران کیخلاف خلیجی ممالک کو اکھٹا کرنے کی تگ و دو میں ہے ،یقیناً شروع میں سعودی عرب کے لئے یہ ایک مشکل کام تھا صدام سعودی عرب کو دھمکیاں دیتا رہتا تھا کہ وہ سعودی عرب پر حملہ کرے گا لیکن گزشتہ کچھ سالوں میں سعودی عرب نے ایران کی حمایت یافتہ عوامی رضاکار فورسز کو اجازت دی کہ وہ سعودی باڈر کے نزدیک فوجی اڈے بنالیں ۔اخبار مزید لکھتا ہے کہ سن 2015میں بن سلمان نے عراق کے ساتھ تعلقات میں ایک بڑی چھلانگ لگائی,

اور گزشتہ سال عراق اور سعودی عرب کے درمیان زمینی سرحد بھی آمد و رفت کے لئے کھول دی گئی ۔عرا ق کی بہت سی فعال اور موثر شیعہ شخصیات کو رقوم سے نواز اکہ جس میں سرفہرست مقتدی الصدر اور ایران کے انتہائی قریب سمجھے جانے والے عراقی وزیر داخلہ قاسم اعرجی شامل ہیں ۔کویت کانفرنس میں ایک عراقی رہنما کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میدان جنگ میں ایران کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد اب پیسے بانٹنے میں اس پر برتری رکھنا چاہتا ہے ۔اخبار کے مطابق سعودی عرب فارسی ایران کے مقابلے میں عربی عراق کو اپنے قریب کرنا چاہتا ہے کیونکہ سن 2003میں صدام کے سقوط تک عراق کی عربی شناخت مفقود رہی ہے ۔سعودیوں کی زیادہ تر,

توجہ اور فوکس بصرہ جیساوسائل سے مالا ل شہر ہے ،وہ بصرہ کی پیٹروکیمیکل فیکٹری میں سرمایہ کاری کے ذریعے سے اس شہر کو ایرانی مصنوعات سے دور کرنا چاہتے ہیں سعودی عرب کی توجہ سرحدی زرخیز علاقوں پر بھی ہے جبکہ عراقی ذمہ دار امیدرکھتے ہیں کہ اس سے ایک ریلوئے لائن کا راستہ بھی ہموار ہوگا اور سن 1990سے بند پڑی ہوئی پائپ لائن بھی کھولی جاسکتی ہے کہ جس کےذریعے عراقی تیل کو آسانی کے ساتھ بحیرہ احمر تک پہنچاسکتے ہیں۔عراق کا جنوبی حصہ اس وقت ایرانی اثر ورسوخ کے مدار میں موجود ہے ،یہاں موجود ہائی وے کو آیت اللہ امام خمینی کے نام سے منسوب کیا گیا ہے اور یہاں کا کنٹرول ایران کےنزدیک سمجھی جانے والی پارٹیوں کے پاس ہے ۔

اخبار کا کہنا ہے کہ تہران میں بہت سے افراد سعودی ماضی کو پیش نظر رکھتے ہوئے تشویش میں مبتلا ہیں کہ ماضی کی آٹھ سالہ جنگ میں کس طرح سعودی عرب نے عراقی عربوں یہاں تک کہ بعض شیعہ کو بھی اس جنگ میں جھونک دیا تھا ۔چائنہ کے بعد خطے میں non-oil products تیل کی مصنوعات سے ہٹ کر مصنوعات بنانے والے دوسرے بڑے ملک کے تاجروں کے سامنے سعودی سرمایہ کاری ایک چیلنج سمجھی جارہی ہے ۔ایران اور عراق نے آزاد تجارت کے لئے بصرہ کے قریب شلمچہ کے پاس آزاد تجارتی علاقہ free-trade zoneبنالیا ہے جو دونوں ملکوں میں مزید قربت بڑھاسکتا ہے ۔خوزستان کے سرحدی علاقے میں عراقی بغیر کسی ویزے کے کسی بھی کرنسی,

میں خریداری کرسکتے ہیں واضح رہے کہ عراق برآمدکے مقابل 100 گنا زیادہ ایران سےدرآمد کرتا ہے۔بصرہ میں ایسے بہت سے عراقی ہیں جو سعودی عرب کو ویلکم کرنے کے لئے تیار دکھائی نہیں دیتے ،داعش میں تین ہزار سے زیادہ سعودی شامل تھے شاید یہی وجہ ہے کہ بصرہ میںعوامی رضاکار کے ایک فرد کا کہنا ہے کہ ہم کیسے اپنے قاتلوں کو ویلکم کہہ سکتے ہیں ؟۔نجف کے مذہبی ذمہ دار سعودی عرب کی جانب سے شیعہ مقدس شہر نجف اشرف میں قونصلیٹ کھولے جانے کی درخواست پر شش و پنج کا شکار دکھائی دیتے ہیں ۔(بشکریہFocus on Middle East )

یہ بھی دیکھیں

نئے پاکستان کے سعودی عرب سے نئے تعلقات کی امید

(ثاقب اکبر) قبل ازیں ہم نو منتخب وزیراعظم عمران خان کی 26جولائی 2018ء کی وکٹری ...