بدھ , 24 اکتوبر 2018

شور تو اپنی جگہ پر حقائق کیا کہتے ہیں؟

(تسنیم خیالی)

یورپی ممالک میں عام طور پر سعودی عرب کو ہتھیار فروخت کرنے کے حوالے سے کافی شور مچایا جارہا ہے اور اپوزیشن جماعتیں اس بات پر زور دیتی آرہی ہیں کہ سعودی عرب کو ہتھیار کی فراہمی بند کی جائے، کیوں کہ ان ہتھیاروں کی مدد سے سعودی عرب یمن میں جنگی جرائم کا ارتکاب کرتا آرہا ہے جسکی وجہ یورپی ممالک کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔اس ضمن میں جرمن حکومت نے سعودی عرب کو اپنے فروخت کردہ ہتھیاروں سے بے تحاشہ یمنی باشندوں کے مارے جانے کے بعد آخرکار سعودی عرب کو ہتھیار کی فروخت بند کردی ہے، اگرچہ یہ فیصلہ بہت دیر سے آیا ہے مگر خوش آئندہے۔یورپی ممالک میں اس شورو غوغا کے باوجود تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق,

سعودی عرب یورپی یونین ممالک کے ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار ہے، 2015ءمیں یمن جنگ کے آغاز سے اب تک سعودی عرب ان ممالک سے 22ارب یورو کے ہتھیار خریدچکا ہے اور سعودی عرب نے سب سے زیادہ ہتھیار فرانس سے خریدے ہیں، رپورٹ کے مطابق 2015ء میں سعودی عرب نے فرانس کے ساتھ 12 ارب ڈالر مالیت کی اسلحہ ڈیل کی تھی جس میں 500ملین ڈالر کی مالیت 23 ’’ائیریس ایچ 145‘‘ نوعیت کے جنگی ہیلی کاپیٹر شامل ہیں۔برطانیہ کا شمار بھی سعودی عرب کوہتھیار فروخت کرنے والے بڑے ممالک میں ہوتا ہے، 2015ء اور 2016ء کے درمیان برطانیہ نے 3.3ارب پائونڈ کےہتھیار سعودی عرب کو فروخت کیے تھے اور ان ہتھیاروں میں’’بائیف وائی 4‘‘ نوعیت کے,

جدید ترین بم شامل تھے۔اسکے علاوہ متعدد مشرقی یورپی ممالک نے بھی 2014ء میں سعودی عرب کو 806 ملین یورو کے ہتھیار فروخت کیے تھے جنہیں سعودی عرب نے تمام یورپی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شام اور عراق میں سر گرم دہشت گرد تنظیموں کے حوالے کیاتھا،یورپی ممالک کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ سعودی عرب نے اُن سے خریدے گئے ہتھیاروں کے ذریعے مشرقی وسطی میں تباہی مچادی ہے، اس کے باوجود اب بھی بہت سے ممالک سعودی عرب کو ہتھیار فراہم کررہے ہیں اور کرتے رہیں گے، اور جو شور مچایا جارہا ہے وہ صرف شور کی حد تک محدود رہے گا ، اسکی واضح مثال سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ برطانیہ سے ملتی ہے،

دورے کے موقع پر برطانیہ کے مختلف حلقوں نے بر طانوی حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ سعودی عرب کو ہتھیاروں کو فروخت بند کردے مگر ہوایہ کہ برطانیہ نے سعودیوں کومذیدہتھیار فروخت کرنے پر آمادگی ظاہر کی اور اس مد میں برطانیہ سعودی عرب کو ’’ٹائی فن‘‘ لڑاکا طیارہ بھی فروخت کر ے گا۔

یہ بھی دیکھیں

کیا آل سعود 9 ستمبر کے واقعہ کی طرح خاشقجی کے معاملے سے بچ پائے گی؟

عبدالباری عطوان (ترجمہ تسنیم خیالی) خاشقجی کے قتل کے معاملے کے حوالے سے سعودی عرب ...