ہفتہ , 22 ستمبر 2018

ایپک پالیسی کانفرنس 2018ء (پہلا حصہ)

(صابر ابو مریم)

ایپک سے مراد امریکا میں قائم ’’امریکا اسرائیل پبلک افیئر کمیٹی‘‘ ہے جسے انگریزی میں AIPACکہتے ہیں سیاسیات وبین الاقوامی تعلقات کی دنیا میں اس کمیٹی کو دنیا کی سب سے طاقتور ترین کمیٹی مانا جاتا ہے جو نہ صرف امریکا اور اسرائیل کے مابین تعلقات بنائے رکھنے میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے بلکہ دیگر کئی ایک اہم امور سمیت سب سے اہم ترین کام یعنی امریکی صدر کے چناؤ میں بھی یہی کمیٹی لابنگ کرتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ جس کو اس کمیٹی کی حمایت حاصل ہو جائے وہ یقینی طور پر صدر بن جاتا ہے۔یعنی سادہ الفاظ میں امریکہ میں مقیم صیہونیوں کا گروہ کہ جو امریکی سیاست کو مکمل طور پر غاصب صیہونی ریاست کے مفادات کے لئے استعمال کرتا ہے۔

حتیٰ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ امریکی صدارتی انتخابات میں ہر امید وار کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی صدارتی انتخابی مہم میں صیہونیوں کی ہمدردی و حمایت حاصل کر سکے۔ دور حاضر کے گذشتہ نصف درجن سے زائد صدور بھی اسی کمیٹی یا اس کے قیام سے قبل بھی صیہونیوں کی حمایت کے نتیجہ میں امریکی صدر کے عہدے تک پہنچے ہیں اور جو تھوڑی بہت بھی مخالفت کرتا ہے تو اس کا انجام بہت برا ہوتا ہے جیسا کہ امریکی صدور کا قتل بھی ہوا ہے۔ایپک کے قیام کے مقاصد کے بارے میں صیہونیوں کا کہنا ہے کہ یہ کمیٹی امریکا و اسرائیل کے مابین اچھے تعلقات اور مشترکات کو اچھے اسلوب کے ساتھ انجام دینے کے لئے بنائی گئی ہے اور ان معاملات میں،

یہ کمیٹی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔سادہ الفاظ میں یہ کہا جائے کہ یہ ایک ایسی کمیٹی ہے کہ جس کا مقصد امریکی شہریوں کو اسرائیل کا حامی بنانا ہے تا کہ امریکی شہریوں کی طرف سے اسرائیل کے خلاف کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہ ہو ۔ کیونکہ امریکہ ہی ہے کہ جو غاصب صیہونی اور جعلی ریاست اسرائیل کا مکمل طور پر سرپرست ہے اور نہ صرف اربوں ڈالرز کا اسلحہ اسرائیل کو فراہم کرتا ہے بلکہ فلسطین کے مظلوم اور نہتے عوام پر جاری صیہونی مظالم پر عالمی اداروں میں صیہونی جعلی ریاست کی مذمت کرنے بجائے اس پر چشم پوشی بھی کرتا ہے ۔بہر حال امریکی شہریوں کے ساتھ یہ بہت بڑی نا انصافی ہے کہ ان کے ٹیکس کو اسرائیل کے لئے سرف کیا جاتا ہے،

اور اس ٹیکس کی رقم سے بننے والا اسلحہ اسرائیل کو فقط امداد کے نام پر دیا جاتا ہے جس کے بعد مظلوم انسانوں کا قتل عام کیا جاتا ہے، جو پہلے پہل فلسطین تک محدود تھا، بعد میں عرب ممالک کے ساتھ مختلف جنگوں کی صورت میں سامنے آنا شروع ہوا ور اب دنیا بھر میں دہشت گرد گروہوں کو مدد فراہم کرنے کی صورت میں بھی سامنے آرہاہے ، جس کی تازہ مثالیں القاعدہ، طالبان، داعش، النصرۃ فرنٹ، جیش الاسلام، احرار الشام، فلیق الرحمان، فری سیرین آرمی اور کرد تنظیمیں سر فہرست ہیں۔صیہونیوں کی اس کمیٹی یعنی ایپک کے بارے میں امریکی سیاست کا ایک مایہ ناز نام پال فنڈلے اپنی کتاب میں چشم کشاء حقائق بیان کر چکا ہے جس میں،

ایپک کی امریکی صدارتی انتخابات سمیت سینیٹرز اور کانگریس پر کس حد تک دسترس قائم ہے اور کس طرح یہ صیہونی کمیٹی صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہو کر صیہونی حمایت یافتہ امید وار وکو کامیاب کرواتی ہے ، یہ تمام حقائق انہوں نے اپنی کتاب ’’شکنجۂ یہود‘‘ میں لکھے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

شہیدوں کا پیغام

(مصنف:سید انوار احمد بلگرامی) حسین (ع) نام ہے کامل آزادی کا ،حریت کاملہ کا ،حسینیت ...