اتوار , 24 جون 2018

اگر سعودی عرب پر حملہ ہو تو ایران کا کیا موقف ہوگا۔

(تسنیم خیالی)

یوںتو عرصہ دراز سے سعودی عرب دنیا بھر کویہ باور کرانے کی کوشش کرتا آرہا ہے کہ اُسے اور مشرق وسطیٰ کو صرف اور صرف ایران سے خطرہ لاحق ہے اور اس خطرے سے نمٹنے کے لیے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو چاہیے کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کاروائی کریں۔ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی ’’العربیہ‘‘ نیوز چینل کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب جنگ کے میدان کو ایران منتقل کرے گا۔بن سلمان سے قبل سابق سعودی فرمانروا عبداللہ کے بارے میں حال ہی میں سابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بھی انکشاف کیا ہے کہ شاہ عبداللہ نے اپنے دور حکومت میں امریکہ پر زور دیا تھا کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کاروائی کرے۔

اور اس جنگ کے اخراجات خود سعودی عرب ہی برداشت کرے گا۔ایران کے ساتھ دشمنی کی بنیاد پر سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ بھی ہاتھ ملا لیا ہے، دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے علاقے میں ایران کے خلاف ایک اتحاد قائم کر رکھا جس کے بارے میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن باہو نے کئی مرتبہ علانیہ طور پر گفتگو بھی کی ہے۔ایران کے خلاف اس قدر نفرت بھرے رویےکے باوجود اگر سعودی عرب پر فوجی حملہ ہوتا ہے، تو اس صورت میں ایران کا موقف ہوگا؟حال ہی میں پاکستان کے سرکاری دورے پر آنے والے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان دشمنی کی کوئی معقول وجہ نہیں، ظریف کے مطابق سعودی عرب دنیا بھر کو باور کرانا چاہتا ہے کہ انہیں ایران سے خطرہ ہے، ظریف کے بقول سعودی شاید یہ سمجھ رہے ہیں کہ ایسا کرنے میں،

ہی ان کا مفاد ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ایرانی وزیر خارجہ کا واضح الفاظ میں کہنا تھا کہ ’’سعودی عرب پر حملہ ہونے کی صورت میں ایران وہ پہلا ملک ہوگا جو سعودی عرب کا ساتھ دے گا‘‘ظریف کے ان بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ ایران کا نہیں بلکہ سعودی عرب کا ہے اور وہ سعودی عرب ہی ہے جو شمنی دکھارہا ہے۔سعودی عرب کی دھمکی آمیززبان اور سخت رویے کے باوجود آج بھی ایران نے سعودی عرب کے ساتھ دوستی کی گنجائش رکھی ہے اور سب کچھ بھلانے کےلیے تیار ہے۔ایران کے ساتھ یکطرفہ سعودی دشمنی کی وجہ سے عالم اسلام کو دہائیوں سے کافی نقصان برداشت کرنا پڑرہا ہے، اسی یکطرفہ دشمنی کے باعث اسلام کے دشمن مسلمانوں کے خلاف،

اپنی سازشوں میں کامیاب ہوتے آرہے ہیں۔میرے خیال میں ظریف کے بیانات پر سعودی حکام کو بھی غور کرنا چاہیے اور اپنی اس یکطرفہ دشمنی کو ختم کرکے امت مسلمہ کی بہتری کے لیے ناصرف ایران بلکہ تمام اسلامی ممالک کے ساتھ (بشمول ترکی اور قطر) تعلقات میں بہتری لائے،اور ان ممالک کے ساتھ مل کر عالم اسلام کو درپیش مشکلات اور چیلنجز سے نکالیں، ارض حرمین ہونے کی وجہ سے سعودی عرب کو صرف اپنے امن واستحکام کی فکر کرنے کے بجائے عالم اسلام کے امن و استحکام کی فکر کرنی چاہیے کیوں عالم اسلام کی سلامتی میں ہی تمام اسلامی ممالک کی سلامتی ہے اور کسی مخصوص اسلامی ملک کو دشمن سمجھ بیٹھنا سعودی عرب کے مفاد میں نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

جنگلات ہمارا مسقبل ہیں! اپنا مستقبل بچائیں

(شیریں حیدر ) ایک ننھا سا بیج، جسے ہم چاہیں تو ایک لمحے میں ہاتھوں ...