پیر , 24 ستمبر 2018

اسرائیلی فوجی مشقیں فلسطینیوں کے لیے مصیبت!

فلسطین کے مقبوضہ شہروں روز مرہ کی بنیاد پر ہونے والی اسرائیلی فوجی مشقوں نے فلسطینی عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ دیگر فلسطینی شہروں کے ساتھ ساتھ وادی اردن کا تو نقشہ ہی بدل دیاگیا ہے۔وادی اردن میں اسرائیلی فوجی مشقیں فلسطینیوں کو در بہ در کرنے کا مکرہ صہیونی حربہ ہیں۔ ابھی فلسطینی شہری اسرائیلی فوج کی جنگی مشقوں کو ختم ہونے کے بعد واپس اپنے گھروں کو لوٹے ہی ہوتے ہیں کہ قابض صہیونی فوج انہیں گھر خالی کرنے کا نیا نوٹس کر دیتی ہے۔۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق غرب اردن کے شمالی شہر طوباس میں خربہ ابزیق کے 16 فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھر خالی کرنے کا حکم دیا گیا۔ انہیں بار بار گھرخالی کرنے اور یہودی،

فوج کی مشقوں کی آڑ میں وہاں سے بے دخل کیا جاتا ہے۔فلسطینیوں کی اجتماعی گھر بدری کے شکار صرف خربہ ابزیق کے شہری نہیں بلکہ وادی اردن کے دوسرے علاقوں الفارسیہ، وادی المالح اور دوسرے فلسطینی شہروں اور قصبوں کے فلسطینی باشندے بھی آئے روز گھر بدری کے عذاب سے گذر رہے ہیں۔عینی شاہدین نے مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کو بتایا کہ قابض فوج کی بھاری نفری نے حال ہی میں ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں اور دیگر فوجی گاڑیوں کے ساتھ الفارسیہ اور سمرہ کے مقامات کا محاصرہ کیا۔ وہاں کے باشندوں کو انتہائی مختصر وقت میں وہاں سے نکل جانے کا نوٹس جاری کیا گیا۔ایک مقامی شہری احمد دراغمہ کا کہنا ہے کہ ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔

بعض اوقات صہیونی فوجی آدھی رات کو ان کے گھروں میں آگھستے ہیں اور فوجی مشقوں کی آڑ میں انہیں گھر خالی کرنے کو کہا جاتا ہے۔ زرعی علاقے الحمص کی چالیس دونم کی اراضی پر حال ہی میں صہیونی فوج کے ’D9‘ بلڈورز چڑھا دیے گئے جنہوں نے وسیع پیمانے پر سبزیوں اور فصلوں کو مٹی کے ڈھیروں میں تبدیل کردیا۔

قبرستان بھی غیرمحفوظ!

مقامی فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ صرف زراعت ہی نہیں بلکہ صہیونی فوج کی مشقوں سے فلسطینیوں کے قبرستان بھی غیرمحفوظ ہو کر رہ گئے ہیں۔ قابض فوج کے ٹینک قبرستان میں داخل ہوجاتے ہیں۔ بلڈوزروں کی مدد سے قبروں کو اکھاڑ کر پھینک دیا جاتا ہے۔الفارسیہ قصبے کا سب سے بڑا تاریخی قبرستان بھی صہیونی فوج کی مشقوں کی نذر ہوا۔ اس قبرستان میں کئی سرکردہ مقامی شخصیات کی آخری آرام گاہیں موجود ہیں۔متاثرہ شہرہ عید بشارات نے کہا کہ صہیونی فوج جنگی مشقوں کی آڑ میں ہرچیز کو تہس نہس کردیتی ہے۔ یہودی فوجی اپنے ٹینکوں کے ساتھ فلسطینیوں کی قیمتی زرعی زمینوں میں ایسے تباہی پھیلاتے ہیں جیسے بچے کھیل رہے ہیں۔

دائرے کی شکل میں گھومتے ہوئے اسرائیلی ٹینک سامنے آنے والی ہرخشک وترچیز کو مٹی میں بدل دیتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ صہیونی فوج نے حالیہ ایام میں وادی اردن میں جنگی مشقوں کے لیے کئی سرنگیں کھودیں، سڑکوں کے لیے فلسطینیوں کی زرعی اراضی پر قبضے کیے۔

رات میں دن کے مناظر

یہودی آباد کاری کے امور کے تجزیہ نگار عارف دراغمہ نے کہا کہ وادی اردن کے فلسطینی عرب باشندوں پر ہمہ وقت خوف اور رعب کی کیفیت طاری ہے۔ نہ صرف کسان پیشہ شہریوں کے لیے اسرائیلی مشقیں تباہی کا سامان لا رہی ہیں بلکہ مویشی پالنے والے اور گلہ بانی کے پیشے سے وابستہ افراد بھی اسرائیلی فوج کی انتقامی کارروائیوں کا سامنا کررہے ہیں۔مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے دارغمہ نے کہا کہ جنگی مشقوں کے دوران رات کو بھی دن کے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ اسرائیلی فوج رات بھر روشنی چھوڑنے والے گولے پھینکتے ہیں۔ چوبیس گھنٹے کی بنیاد پر اسرائیلی فوجی اوراپنے ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے ہمراہ فلسطینی علاقوں میں دندناتے پھرتے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ شمالی وادی اردن کو اسرائیلی فوج نے میدان جنگ میں تبدیل کرر کھا ہے۔ خوف کا عالم ایک طرف فلسطینیوں کی جان محفوظ نہ مال، نہ املاک اور نہ ہی ارضی محفوظ ہیں۔ یہ سلسلہ روز مرہ کا معمول بن چکا ہے۔

(بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین)

یہ بھی دیکھیں

اہواز حملے میں ملوث دہشت گرد گروہوں کا مختصر تعارف

(تحریر: محمد علی) برطانیہ میں سرگرم این جی او تنظیم "انجمن دوستی ایران اور برطانیہ” ...