ہفتہ , 22 ستمبر 2018

ممالک کے مابین دوستی نہیں مفادات اہم ہوتے ہیں، علامہ محمد امین شہیدی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں نان ایشوز کو ایشوز بنا دیا جاتا ہے۔ ایف ا ے ٹی ایف کے تحت پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنا افسوسناک ہے۔ اس اہم مسئلے کو پاکستان میں قابل توجہ اہمیت نہیں دی گئی۔ پاکستان اور امریکا دوست نہیں، اسے اپنے مفادات عزیز ہیں۔ان خیالات کا اظہار امت واحدہ پاکستان کے چیئرمین علامہ امین شہیدی نے علمی و تحقیقی ادارے البصیرہ اور نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے زیراہتمام ایف اے ٹی ایف کی پاکستان پر نئی پابندیوں کے محرکات اور اثرات کے زیر عنوان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا،

کہ دنیا کا نظام سرمایہ دارانہ نظام کی حفاظت کے لیے ہے۔یہ ان کا پوری دنیا کے لیے کھلا چیلنج ہے۔ ممالک کے مابین تعلقات کی بنیاد ہمیشہ مفادات پر ہوتی ہے۔ دوستی کا فقط نام ہوتا ہے۔ دوستی تو قربانی کا نام ہے۔ ممالک میں جذبات اور احساسات نہیں ہوتے۔ جب آپ اس استعماریت کے مقابلے میں کھڑے ہوتے ہیں تو آپ دہشتگرد ہیں۔ وہ مجاہدین جو کل امریکا کی آنکھ کا تارہ تھے آج امریکا انھیں دہشت گرد قرار دے رہا ہے۔کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے البصیرہ کے چیئرمین اور ملی یکجہتی کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ثاقب اکبر نے کہا کہ پاکستان میں بہت،

سے مسائل عدم دلچسپی کا شکار ہیں۔ ایسے میں ایف اے ٹی ایف کی بات کون کرے۔ایف اے ٹی ایف 1989میں ایک بین الاقوامی ادارے کے طور پر قائم ہوا۔ اس میں 37ممالک شامل ہیں۔ بظاہر تو یہ ادارہ دہشت گردوں کو ہونے والی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے قائم ہوا لیکن امریکا اسے اپنے مفادات کے لیے استعمال کررہا ہے اس کے تحت پاکستان پر عائد کی گئی پابندیوں کی صورت میں پاکستان کی اقتصادی اور معاشی مشکلات بڑھ جائیں گی۔ گرے لسٹ کا مطلب ہے کہ آپ تعاون نہیں کررہے۔ پاکستان پر پہلے بھی پابندیاں لگی ہیں۔ حیرت اس بات پر ہے۔

کہ چین اور سعودی عرب نے بھی ہماری حمایت نہیں کی۔ چین نے پہلے ہمیں یقین دلایا تھا کہ ہم آپ کے ہمراہ ہیں۔ تاہم ہمیں گرے لسٹ میں شامل کردیا گیا۔ سعودی عرب اور پاکستان نے 15فروری کو فیصلہ کیا کہ پاکستان سعودیہ فوج بھیجے گا لیکن چند ہی روزبعد ہمارے خلاف ووٹ دے دیا گیا۔ ترکی نے ہمارے حق میں ووٹ دیا۔ وہ خود اس فہرست کا حصہ رہا ہے۔ ترکی پر پانچ سال تک یہ پابندیاں رہی ہیں۔ بعید نہیں کہ پاکستان پر پابندیوں کی ایک وجہ یروشلم میں امریکی سفارتخانے کو منتقل کرنے کے خلاف قرار داد کی حمایت ہو۔نیشنل پریس کلب کے صدر طارق،

چوہدری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم سفارتکاری کو افسانہ نگاری اور شاعری سمجھتے ہیں۔ سفارتکاری ایک تلخ حقیقت کا نام ہے۔ ہمارا جھکاﺅ کبھی امریکا کی جانب ہوتا ہے تو کبھی ہم مشرق وسطی چلے جاتے ہیں اور کبھی ہم چین کی جانب جھک جاتے ہیں۔جیسا کہ ہم نے اپنی بہت سی چیزیں لوگوں کو دی ہوئی ہیں اسی طرح ہم نے اپنے دفاع کی ذمہ داری بھی لوگوں کو دی ہوئی ہے اور چاہتے ہیں کہ وہ ہمیں آ کر بچائیں۔ کانفرنس سے ان احباب کے علاوہ آر آئی یو جے کے سیکرٹری جنرل علی رضا علوی، پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ، عون ساہی، ڈاکٹر زبیدہ خاتون، سرفراز اعوان اور دیگر نے خطاب کیا۔

یہ بھی دیکھیں

کوئی غلط کام نہیں کیا،ضمیر مطمئن ہے، نواز شریف

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے سزا کی معطلی اور رہائی کا فیصلہ ...