ہفتہ , 15 دسمبر 2018

ملائشیا کی جیلوں میں قید پاکستانی

(واصف ملک) 
بالآخر کٹھن مرحلہ مکمل ہوا۔ ملائشیا کی جیل سے رہائی پانے والے پانچ قیدی اب جہاز میں سوار ہو چکے تھے۔ ان میں سے چار قیدیوں کا تعلق خیبر پختونخواہ سے جبکہ ایک کا تعلق ساہیوال، پنجاب سے تھا۔ قیدیوں کی جسمانی حالت خاصی خراب تھی، دو کو تو باقاعدہ خارش پڑ چکی تھی اور جسم سے پانی رس رہا تھا۔

ان پانچوں افراد کو ملائشین امیگریشن حکام نے گزشتہ سال غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف ایک کریک ڈائون کے دوران حراست میں لیا تھا۔ ملائشیا میں جب امیگریشن کی ٹیمیں چھاپے مارتی ہیں تو بہت خوفناک مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ چادر اور چار دیواری کا تقدس تو پامال ہوتا ہی ہے، ساتھ ساتھ غیر قانونی افراد کی خاصی مار پیٹ بھی کی جاتی ہے۔ ان کو چاولوں کی بوریوں کی طرح اٹھا اٹھا کر ٹرکوں میں پھینکا جاتا ہے۔

بھیڑ بکریوں کی طرح ان کو ٹرکوں میں بھر کر پہلے تو ایک ڈیٹنشن سینٹر پر لایا جاتا ہے جہاں پاکستانی، بنگالی، انڈونیشئین اور انڈین شہریوں کو الگ الک کیا جاتا ہے۔ بعد ازاں ان کے کوائف متعلقہ سفارت خانوں کو پہنچائے جاتے ہیں۔

بھارتی سفارت خانہ جلد از جلد جرمانہ ادا کر کے اپنے شہریوں کو رہا کروا کر بھارت روانہ کر دیتا ہے جبکہ بنگالی اور پاکستانی سفارت خانے کے حکام جیل حکام کی طرف سے بار بار رابطہ کرنے کے باوجود بھی کچھ زیادہ پس و پیش نہیں کرتے۔ یوں پاکستانی قیدیوں کے پاس دو آپشنز بچتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ پاکستان سے رقم منگوا کر جرمانہ ادا کریں اور ٹکٹ کا بنوا کر واپس جائیں۔ دوسری صورت میں سال بھر سرکاری مہمان بن کر رہیں۔یہ پانچوں قیدی کئی مہینوں سے ملیشیا کی جیل میں قید تھے اور رقم کا بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے لمبے عرصہ تک وہاں رہنے پر مجبور تھے۔

گزشتہ مہینے پاکستان ایمبیسی کے باہر ایجنٹوں کی بھر مار اور عوام کو درپیش مشکلات کے حوالے سے ایک ڈاکومینٹری بنانے کے لئے میں کوالالمپور میں موجود تھا۔ تحقیقاتی ڈاکومینٹری کو دوران مجھے ان قیدیوں کے متعلق معلومات ملیں۔ میرے ایک ملائیشین دوست جو امیگریشن ڈیپارٹمنٹ میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہے،نے ان سے جیل میں میری ملاقات کا بندوبست کروایا۔

جیل کے اندر کی حالت دیکھ کر سمجھ آیا کہ کہ کلیجہ منہ میں آنا کس کو کہتے ہیں۔ ایک ایک کمرے میں دس دس قیدی ٹھونس رکھے تھے۔ میرا نہیں خیال کہ ان میں سے کسی کے پاس اتنی جگہ بھی بچتی ہو گے کہ ٹانگیں پسار کے سو جائے۔ ایک چھوٹی پلیٹ ابلے چاول اور اس پر آنکھیں کھولے چھوٹی سے مچھلی ان قیدیوں کی دن بھر کی خوراک تھی۔ ان قیدیوں کی صحتیں بگڑ چکی تھیں اور گندگی ایسی کہ اکثر قیدیوں کو خارش پڑ چکی تھی۔

بابا صدیق کی عمر پچپن ساٹھ کے لگ بھگ تھی اور وہ پچھلے بیس سال سے ملائشیا میں میں ہی مقیم تھے۔ ان کی حالت غیر تھی لیکن ٹکٹ اور جرمانے کے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے وہاں قید تھے، بونیر کا محمد شہزاد پچیس چھبیس سال کا نوجوان تھا۔ اسے خارش کی ایسی بیماری تھی کہ جسم سے ہر وقت پانی رستا تھا۔ ہر وقت وہ اپنا جسم کجھاتا رہتا تھا۔ قیدیوں کی حالت زار نے دل کی بری حالت کر دی تھی۔

ایک ساتھ پانچ لوگوں کا جرمانہ اور ٹکٹوں کے پیسے جمع کرنا ایک مشکل ٹاسک تھا۔ بہرحال سب قیدیوں کے گھر والوں سے رابطہ کر کے ان کی حالت کے متعلق بتایا۔ ساہیوال کے ثناء اللہ اور بونئیر کے محمد شہزاد کے گھر والوں نے ٹکٹ اور جرمانہ جمع کروا دیا جبکہ باقی تین قیدیوں کے لئے ہم نے خود پیسے جمع کرکے ان کی رہائی کا بندوبست کیا۔

اب یہ پانچوں میرے ساتھ جہاز میں موجود تھے۔ جہاز ٹیک آف کرنے کے بعد میں نے پانچوں رہائی پانے والے قیدیوں سے ان کیمرہ انٹرویو کیا۔ دورانِ انٹرویو بار ہا ایسے انکشافات ہوئے کہ جہاز میں سوار کئی افراد کی آنکھیں بھر آئیں۔ ان میں سے کوئی دو سال سے وہاں رہ رہا تھا تو کوئی بارہ سال سے لیکن واپسی پر سب کی جیبیں خالی تھیں۔ سب کے سب ہی محنت کش تھے اور مختلف جگہوں پر شئیرنگ کی بنیادوں پر رہتے تھے۔ جیسے ہی ان کی گرفتاریوں کو پتہ چلا تو ساتھ رہنے والوں نے سب سے پہلے ان کے سامان اور پیسوں پر ہاتھ صاف کئے۔ رہی سہی کسر جیل کے عملے نے پوری کر دی۔

ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا جس نے چھ ماہ میں ایک بار بھی پیٹ بھر کر کھانا کھایا ہو یا سیدھی ٹانگیں کر کے سو ہی پایا ہو۔ عام تاثر یہ ہے کہ ان کی اس حالت کے ذمہ دار ایجنٹ ہوتے ہیں لیکن ان میں سے اکثر اپنی وجہ سے ہی اس حالت کو پہنچتے ہیں۔ ایجنٹ تو ان کو ویزہ دے کر ہی بھیجتا ہے لیکن یہ دوبارہ ویزہ کی توسیع کروانے کی بجائے غیر قانونی طور پر رہنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔ پکڑے جانے والوں میں سے اکثریت ایسے ہی لوگوں کی تھی جو گئے تو قانونی طور پر تھے لیکن ٹرم پوری ہونے کے بعد دوبارہ ویزہ نہیں لیا تھا۔ پردیس تو ویسے ہی محنت کش کے لئے ایک جیل کی طرح ہوتا ہے اور اگر اوپر سے دوسری جیل بھی جھیلنے پڑ جائے تو سوچئے کیا ہوتا ہوگا۔

ہر وہ فرد جو بیرون ملک کام کی غرض سے جانا چاہتا ہے اس کو میرا یہی ایک مشورہ ہے کہ دنیا میں آپ کہیں بھی جانا چاہو ضرور جائو لیکن دو چیزیں ضرور کرو۔ سب سے پہلے کوئی ہنر سیکھوجو تمھارے کام آئے اور دوسرا یہ کہ ہمیشہ قانونی طور پر سٹے کرو۔ میں نے انگلینڈ سے لے کر ملائشیا تک دو طرح کے پاکستانیوں کو ہمیشہ روتے ہی دیکھا ہے، ایک وہ جن کے پاس ہنر نہ تھا اور دوسرا وہ جس کے پاس ویزہ نہ تھا۔بشکریہ دنیا نیوز

یہ بھی دیکھیں

موڈیز کا پاکستان کے کم ہوتے زر مبادلہ پر خدشات کا اظہار

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی مالیاتی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز انویسٹرز سروس نے پاکستان کے کم ...