ہفتہ , 15 دسمبر 2018

ٹیلرسن کے بعد کون برطرف ہوسکتا ہے؟

(تسنیم خیالی)
سابق امریکی وزیر خارجہ ایکس ٹیلرسن کی برطرف سے بلاشبہ معاملات خرابی کی طرف جارہے ہیں،آنے والے وقت میں یہ بات واضح ہوجائےگی، مگر اب سوال یہ ہےکہ ٹیلرسن کے بعد ٹرمپ اور کس کس کو برطرف کریں گے؟ویسے تو ٹیلرسن سے قبل ٹرمپ نے کئی اہم عہدیداروں کو کابینہ سے فارغ کیا ہے جن میں سب سے اہم ٹرمپ کے سب سے بڑے اقتصادی مشیر’’گیری کوہن‘‘ ہیں، کوہن کے بعد ٹیلرسن کی برطرفی سے چند روز قبل وائٹ ہاؤس کی ’’کمیونیکیشن‘‘ چیف ’’ہوپ ہیکس‘‘ نے بھی اچانک سے استعفیٰ دے دیا تھا، برطرف یا پھر مستعفی ہونے والے امریکی عہدیداروں کی لسٹ بہت طویل ہوچکی ہے اور دن بدن اس میں اضافہ ہونے کا قوی نہیں بلکہ بہت ہی قوی امکان ہے، عملی طور پر ٹیلرسن کے بعد امریکی دفتر خارجہ کے ایک اور عہدیدار ’’سٹیو گولڈن شٹائن‘‘ کو بھی برطرف کردیا گیا ہے، موصوف کو ٹیلرسن کی برطرفی پر ٹویٹ کرنے پر برطرف کیا گیا انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹیلرسن کو اپنی برطرفی کے سبب کا علم نہیں، خیر یہ ٹویٹ گولڈن شٹائن کو بہت مہنگی پڑی، البتہ برطرفی گولڈن شٹائن تک ختم نہیں ہوتی، آنے والے وقت میںاور بھی امریکی عہدیداروں کی برطرفی ہونے جارہی ہے ۔اس ضمن مین امریکی خبر رسان ادارے ’’سی این این‘‘ نے انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ آنے والے وقت میں ممکنہ طور پر 9عہدیداروں کو برطرف کرسکتے ہیں۔

’’پاگل کتے‘‘ کے نام سے مشہور امریکی وزیر دفاع جیمزمیٹس بھی 9 افراد کی اس لسٹ میں شامل ہیں، میٹس بھی بہت سے معاملات میںٹیلرسن کی طرح ٹرمپ کے مخالف ہیں خاص طور پر قطر کے بائیکاٹ کے معاملے میں وہ قطر کی حمایت کرتےہیں جبکہ سعودی عرب اور امارات کو ٹرمپ کی حمایت حاصل ہے، علاوہ ازیں میٹس نے ٹیلرسن کی طرح بیت المقدس کواسرائیلی دارالحکومت قرار دینے کے فیصلےکی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ اس فیصلے سے مشرقی وسطی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، میٹس کے علاوہ اس لسٹ میں وائٹ ہاؤس کے چیف سٹاف جان کیلی بھی موجود ہیں اور آج کل انکے اور ٹرمپ کے درمیان اختلاف کی خبریں آتی رہتی ہیں، علاوہ ازیں سب سے اہم بات تو یہ ہے کیلی باہمی معاہدے کا حصہ ہے جس میں ٹیلرسن اور میٹس بھی شریک تھے۔

کیلی، ٹیلرسن اور میٹس کے درمیان اس بات پہ اتفاق ہوا تھا کہ اگر تینوں میں سے کسی ایک کو بھی برطرف کیا جائیگا تو باقی اپنا استعفیٰ پیش کردیں گے،ان دو اہم عہدیداروں کے علاوہ سی این این کی لسٹ میں درج ذیل عہدیدار شامل ہیں:
۱۔ اٹارنی جنرل ’’چیف ساکسن‘‘جو ٹرمپ کو بارہا تنقید کا نشانہ بناچکے ہیں۔
۲۔ سیگرٹری وزیر ضارجہ ’’ڈیوڈ شالکین ‘‘جس نے ٹرمپ انتظامیہ کو کمزور قرار دیا تھا۔
۳۔ قومی سلامتی کے مشیر ’’ہاربرٹ مکماسٹر ‘‘ جنکی ٹرمپ کے ساتھ اختلاف کی خبریں منظرعام پر آچکی ہیں۔
۴۔ وزیر داخلہ ’’رائن زینکی‘‘ موصوف کو امریکی میڈیا نے اس وقت شدید تنقید کا نشانہ بنایا جب اس بات کا انکشاف ہوا کہ انہوں نے اپنے آفس کا دروازہ تبدیل کرتے ہوئے ایک لاکھ 40ہزار ڈالر کی قیمت کاحامل نقش و نگار سے مزین دروازہ اپنے آفس میں لگوایا ، زینکی نے تو اپنی طرف سے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ دروازہ تبدیل کرنے کا فیصلہ انکا نہیں بلکہ مرمت کے کام کرانے والے سرکاری ادارے کا ہے، علاوہ ازین زینکی کے سفری اخراجات پر بھی امریکی میڈیا بہت سے سوالات اٹھاتا ہے ،میڈیا کے نزدیک یہ اخراجات بہت زیادہ ہیں اور ایک قسم کی لوٹ مار ہے۔
۵۔ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کے سربراہ سکاٹ برائیٹ‘‘ موصوف سرکاری پیسوں کا بے دردی سے استعمال کرتے ہوئے شاہ خرچیاں کرتے ہیں۔
۶۔ ہاؤسنگ اور شہری ترقی کی سیکرٹری’’بین کارسن‘‘ جنہوں نے آفس کے لئے سرکاری خرچ پر 31ہزار ڈالر کا کھانا منگوایا تھا۔
۷۔ وزیر تعلیم ’’بیٹس ڈواس‘‘ جنہوں نے امریکی نیوز چینل ’’سی بی ایس‘‘ کو ایک گھنٹے پر محیط انٹرویو دیا تھا جس کے بارے میں انکے قریبی ساتھیوں کا ماننا ہے کہ ڈواس نے انٹرویو میں اپنی تمام حدیں پار کردیں ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

بہادر فلسطینی خاندان کو کیسے کیسے صہیونی حربوں کا سامنا ہے؟

دو یہودی آباد کاروں کے قتل کے بعد بہ حفاظت فرار ہونے والے فلسطینی اشرف ...