پیر , 16 جولائی 2018

ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ،منڈلاتے خطرات

کہا جاتا ہے کہ امریکہ انتظامیہ میں کی جانے والی تبدیلیاں خاص کر سیکرٹری خارجہ ٹیلرسن کو ہٹا کر سخت گیر موقف کے ایک شخص مائیک پومپیو کو لانے میں خلیجی ممالک اور اسرائیل کی لابنگ کا بھی ایک بڑا کردارہے ۔تو کیا عرب ممالک میں اس قدر طاقت آچکی ہے کہ وہ امریکہ پر اس قدر اثر انداز ہونے لگے ہیں؟مشرق وسطی میں امریکہ اور اس کے اتحادی اس قدر کمزور ہوچکے ہیں کہ اب ایک دوسرے کی سنے بغیر ان کے لئے دوسرا کوئی راستہ نہیں بچا ،پہلے کی طرح امریکہ اب مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کو صرف ڈکٹیشن دینے کی پوزیشن میں نہیں رہا ہے ۔لہٰذا اب امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی مجبور ی ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر کام کریں۔

ٹرمپ کے اطراف سخت گیر موقف رکھنے والوں کا اکٹھ ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے کو خطرات لاحق ،یورپ کی کوشش کہ امریکہ معاہدے سے الگ نہ ہوجائے ۔

تو کون کس کو قائل کرے گا ؟
ایرا ن کا کہنا ہے کہ وہ معاہدے کی کسی بھی شق میں کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی قبول نہیں کرے گا تو ایران کے پاس اس وقت کیا آپشنز ہونگے جب امریکہ اس معاہدے کو کینسل کرے گا ؟ایران کی وزارت خارجہ کے معاون عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایٹمی معاہدے کے حوالے سے نہ تو پھر سے کسی شق کا اضافہ کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی کی جاسکتی ہے

جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے اجلاس میں ایرانی سفارتکارکا کہنا تھا کہ ایران ایٹمی معاہدے پر مکمل کاربند رہا ہے اور ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی نے بھی دس رپورٹوں میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران معاہدے پر کاربند رہا ہےاور ایران امید کرتا ہے کہ مقابل فریق بھی اپنے معاہدوں پر کاربند رہیں گے۔تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ویانا میں روٹین کے مطابق ہونے والا یہ اجلاس اس بار کم ازکم غیر معمولی ضرورتھا کیونکہ یورپی ممالک ایرانی جوہری معاہدے کو لیکر بری طرح امریکی دباو ٔکا شکار ہیں ۔یوں لگتا ہے کہ یورپی ممالک بھی اس بار امریکہ کا ساتھ دینا چاہتے ہیں ۔

توکیا اس جوہری معاہدے کو کالعدم کیا جائے گا؟
خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس معاہدے کو کالعدم نہیں کیا جائے کیونکہ اس کے بعد انٹرنیشنل کیمیونٹی اور عالمی فورمز جیسے ٹائٹلز کی کوئی حیثیت باقی نہیں بچے گی ۔تو آخر اس معاہدے کے بارے میں امریکیوں کی مخالفت کی اصل حقیقت کیا ہے ؟اور امریکہ اس معاہدے میں مزید کیا چاہتا ہے خاص کر سیکرٹری خارجہ ٹیلرسن کی جگہ مائیک کے لینے کے بعد کیا صورتحال دکھائی دیتی ہے ۔

بنیادی طور پر جس وقت یہ جوہری معاہدہ ہونے جارہا تھا تو بھی اس وقت بہت سوںکو ہضم نہیں ہورہا تھا اسرائیل اور سعودی عرب نے تو اس کا برملا اظہار کیا تھا لیکن امریکی بھی شائد درپردہ سمجھ رہے تھے کہ معاہدہ تو ہوچکا ہے لیکن یہ معاہدہ وہ نہیں جس کی خواہش وہ رکھتے تھے ۔یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد سے لیکر اب تک مسلسل یہ سوال گردش میں ہے کہ کیا امریکہ اس معاہدے کو جاری رکھے گا یا پھر اپنی جانب سے اس سے دور ہونے کا اعلان کرے گا ؟

سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ امریکی بیانات تضادات کا ایک مجموعہ ہیں، ٹرمپ اس معاہدے کو پھاڑ نا چاہتا ہے تو اس کا سیکرٹری خارجہ ٹیلرسن اسے ایک قابل قبول معاہدہ سمجھتا ہے ،آخری بار ٹرمپ نے گذشتہ ماہ اکتوبر میں کہا کہ میں اس معاہدے پر آخری بار دستخط کررہا ہوں اور چھ ماہ بعد جب تک اس میں مطلوبہ تبدیلیاں نہیں کی جاتی دستخط نہیں کرونگا ۔

ایرانی وزیر خارجہ جوادظریف نے تین ماہ پہلے نیویارک ٹائمز کو انٹریو دیتے ہوئے کہا تھا کہ جوہری معاہدہ در حقیقت ایران پر حملہ آور پالیسوں پر ایرانی ڈپلومیسی کی فتح کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے ۔اسی اثنا ءمیں فرانسی جرمنی اور برطانیہ کی جانب سے ایران پر نئی پابندیوں کے لئے ایک مسودہ پیش کیا گیا ہے ۔انکے بقول اس مسودے کو کچھ اس طرح ڈئزائن کیا گیا ہے کہ وہ جوہری معاہدے کی شقوں پر اثر انداز نہ ہوسکے ۔

اس کا بنیادی ہدف ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام اور شام کی جنگ ہے ۔بات دراصل یہ ہے کہ انہیں خطے اور عالمی سطح پر ایران کے کردار سے تکلیف ہے اوباما انتظامیہ کا خیال یہ تھا کہ وہ ایران سے جوہری معاہدے کے بعد دیگر ایشو ز پر بھی مذاکرات کئے جاسکتے ہیں لیکن ایران مسلسل ایسے کسی بھی دوسرے موضوع پر جوہری معاہدے کے مذاکرات کے ساتھ نتھی کرنے سے انکار کرتا آیا ہے کہ جس کا تعلق مغربی ایشا یا میڈل ایسٹ سے ہو۔جیسا کہ اس وقت ویانا میں بھی یہی کوشش ہورہی ہے کہ مشرق وسطیٰ کے مسائل پر بات چیت ہوسکے ۔

بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو لیکر ایشو بنانے کا اصل مقصد ہی مڈل ایسٹ سے جڑے ہوئے مسائل پر ایران کو جھکانے کے لئے ایک حربے کے طور پر استعمال کرنا تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ایران کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد سے تعلق رکھتا ہے ۔

اگر ہم موجودہ صورتحال کو بغور دیکھیں تو ہم پر واضح ہوگا کہ ایٹمی مذاکرات اور معاہدے سے ایران کا مقصد پابندیوں سے نکلنا تھا لیکن اب صورتحال ایسی بنتی جارہی ہے ایٹمی معاہدے کے باوجود وہی پابندیاں دیگر بہانوں سے دوبارہ ایران پر لگائی جارہی ہیں یعنی ایران وہیں پر کھڑا ہے جہاں اس معاہدے سے پہلے کھڑا تھا ۔
اور ایران پر پھر سے مزید پابندیوں کی ڈیمانڈ کے اصل کردار سعودی عرب اور اسرائیل دکھائی دیتے ہیں ۔

اوباما دور میںنیتن یاہو کا اوباما سے یہ کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ہوچکا ہے لیکن اس معاہدے کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ایران پر سے تمام اقتصادی پابندیاں ہٹائی جائیں ،رقوم کی ترسیل کو کھول دیا جائے ۔

ایک جانب جہاں ایران سے پابندیاں ہٹائی گئیں ہیں تو دوسری جانب ایران پر رقوم کی ترسیل کے لئے سہولیات حاصل نہیں ہیں کیونکہ دنیا کے بڑے بڑے بینک امریکی دباو ٔکے ذریعے رقوم کی ترسیل کے لئے تیار نہیں ہیں ۔

یورپی ممالک ایران میں میگا پروجیکٹس شروع کرنے جارہے ہیں لیکن دنیا کی کوئی بھی بڑی بینک بڑے پیمانے پر رقوم کی ترسیل اور ٹرانزیکشن کے لئے تیار نہیں ۔فرانس کی ٹوٹل کمپنی باوجود اس کے کہ ایران میں سرمایہ کاری میں اس کا بہت بڑا مفاد وابستہ ہے لیکن اس وقت شکوک کی شکار ہے کہ وہ کیا کرے ۔دوسرے الفاظ میں یہ ایک ایسا پھندہ تھا کہ جس کے دام سے اب تک ایرانی نکل نہیں پائے ہیں گرچہ ان کی کوشش ہے کہ وہ اس پھندے سے نکل آئیں ۔

موجودہ صورتحال کچھ ایسی بنی ہوئی ہے کہ جوہری مسئلے کو لیکر اقوام متحدہ اور یورپ کی جانب سے ایران پر لگائی گئی پابندیاں ہٹائی جاچکی ہیں لیکن امریکی پابندیاں اسی طرح برقرار ہیں اور اب وہ تین ایشو ز کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ رہے ہیں ایٹمی معاہدے کی توثیق ۔ بیلیسٹک میزائل پروگرام اور مشرق وسطی کے مسائل کہ جسے وہ سیکوریٹی ایشوز کا نام دیتے ہیں ۔

جوہری معاہدے اور بین الاقوامی قانون کی رو سے ان تین ایشو ز کو باہم جوڑا نہیں جاسکتا لیکن کیونکہ انہیں اپنے مقاصدحاصل کرنے ہیں لہذا اس وقت تمام مسائل ایک دوسرے کے ساتھ جوڑے جارہے ہیں ۔ایسے میں ایران کی ڈیپلومیٹک کوشش یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک ایشو کو اس کے ڈومین میں رکھ کر حل کرے اور انہیں الگ الگ رکھا جائے ۔

اگر فرض کیا جائے کہ امریکہ اس معاہدے سے الگ ہوجاتاہے تو اس صورت میں کیا ایران بھی اس معاہدے سے الگ ہوجائے گا ؟یہ بات درست ہے کہ ایران نے کہا کہ اگر وہ معاہدے کو پھاڑ دیتے ہیں تو ہم بھی پھاڑ دینگے لیکن ہمیں یہ بات یاد رکھنی ہوگی کہ معاہدہ ایران اور پانچ ممالک بشمول روس اور چین کے درمیان ہوا ہے جسے اقوام متحدہ کا شلٹر حاصل ہے ،لہٰذا ایران کوکم ازکم روس اور چین کی جانب بھی دیکھنا ہوگا ۔
یہ بات بھی واضح ہے کہ ایران پرکسی بھی قانونی فورمز جیسے اقوام متحدہ یا سیکوریٹی کونسل کے ذریعے مزید بین الاقوامی پابندیاں نہیں لگائی جاسکتی کیونکہ چین اور روس اسے ویٹو کرینگے ۔ایسی صورت میں ایران پھر سے یورانیم کی افزدوگی کی شرح میں اضافہ کرکے اسے ایٹم بم بنانے کی مقدار تک لے جاسکتا ہے لیکن اہم سوال یہ ہے کہ آخر ایران اس مقدار کی یورنیم کا کیا کرے گا ؟کیونکہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ ایٹم بم بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور ایٹم بم کے استعمال کو شرعا جائز بھی نہیں سمجھتا ۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ایران کی بہترین حکمت عملیوں میں سے ایک تھی کہ انہوں نے یورنیم کی افزودگی کی شرح میں اضافے کو ایک کارڈ کے طور پر استعمال کرلیا حالانکہ اسے اس مقدار کی افزودگی کی کوئی ضرورت نہیں تھی کیونکہ ایران ایٹم بم بنانا ہی نہیں چاہتا ۔

واضح رہے کہ اس وقت عملی طور پر ایران کی ضرورت کی یورنیم روسی راستے سے میسر آرہی ہے جبکہ اراک شہر کے ایٹمی پلانٹ کا ٹھیکہ چین کے پاس ہے ۔یوں کہا جاسکتا ہے کہ اس معاہدے کو کالعدم قراردینا یورپ کے لئے اس قدر آسان نہیں ہے اور نہ ہی اسے کالعدم قرار دینے کے بعد وہ مطلوبہ فوائد حاصل کرسکتے ہیں ۔

ہمیں یہ بات بھی یاد رکھ نی چاہیے کہ آج یورپ کی صورتحال ایسی ہے کہ اس کے پاس خود اس کا اپنا کوئی مضبوط موقف نہیں ہوا کرتا اور نہ ہی اس میں ایسی گنجائش دیکھائی دیتی ہے کہ وہ امریکہ سے کہیں کہ وہ غلط کررہا ہے اور پھر اسے عملی طور پر درست کرنے کی ہمت بھی وہ رکھتے ہیں ۔وہ زبانی جمع خرچ کرسکتے ہیں لیکن بہت سے اہم عالمی ایشوز میں انکے پاس عملی راہ حل پیش کرنے اور بحرانوں کو مینج کرنے کی صلاحیت دکھائی نہیں دیتی ہے ۔بشکریہ ہماری ویب۔ڈاٹ کام

یہ بھی دیکھیں

’آئرلینڈ بائیکاٹ بل‘ صہیونی غاصبوں کے منہ پر نیا طمانچہ!

’آئرلینڈ کے سفیر کو طلب کر کے ڈانٹ ڈپٹ کا کائی فایدہ نہیں۔ اسرائیل کے ...